Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تبوک میں مقتول کے ورثا نے قاتل کو معاف کردیا

قتل کی واردات 3 برس قبل ہوئی تھی(فوٹو، ٹوئٹر)
تبوک میں سعودی شہری نے اپنے بھائی کے بیٹے کے قاتل کو معاف کردیا۔ قتل کی واردات تین برس قبل ہوئی تھی۔ قاتل سزائے موت کا منتظر تھا۔
سبق نیوز کے مطابق تبوک ریجن کی کمشنری ’البدع‘ میں تین برس قبل ایک سعودی نے اپنے قبیلے کے فرد کوباہمی تنازع پرقتل کردیا تھا۔
قاتل کو پولیس نے گرفتار کرکے پراسیکیوشن کے ادارے کے حوالے کردیا جہاں سے مقدمہ فوجداری عدالت میں بھیجا گیا۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پرقاتل کوسزائے موت کا حکم سنادیا۔
اس ضمن میں قبیلہ کے سرگردہ لوگوں نے صلح اور قاتل کو معاف کرانے کے لیے مقتول کے ورثا سے رابطہ کیا جن کی کوششیں بارآورثابت ہوئیں۔
مقتول کے شرعی وکیل مسلم سلمان المسعودی نے بتایا کہ خاندان کے افراد نے رب تعالی کی رضا کےلیے قاتل کو معاف کردیا اور قصاص کے حق سے دستبردار ہوگئے۔
اس ضمن میں قبیلہ المساعید کے سربراہ محمد سلمان الطرفاوی نے بتایا کہ سعودی عرب کے معاشرے میں معاف کرنے کی روایات عام ہے۔ یہاں عفو و درگزر سے کام لیا جاتا ہے۔
واضح رہے اگر مقتول کے ورثا اپنا حق معاف کردیں تو قصاص کی سزا روک دی جاتی ہے اور قاتل کو صرف بحق سرکار مختلف مدت تک قید کی سزا پورا کرنا ہوتی ہے۔

شیئر: