Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تحریک انصاف کی ایک اور جیت، سبطین خان سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب

ن لیگ یہ دعویٰ کر رہی تھی کہ وہ اس الیکشن میں اپ سیٹ کر سکتی ہے تاہم ایسا نہیں ہوا۔ (فائل فوٹو: ٹوئٹر)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار سبطین خان 10 ووٹوں کی برتری سے سپیکر منتخب ہو گئے ہیں۔ ان کے حریف مسلم لیگ ن کے امیدوار سیف الملوک کھوکھر تھے۔
جمعے کو پینل آف چئیرمین وسیم بادوزئی کی زیر نگرانی ساڑھے پانچ بجے ووٹنگ کے عمل کا آغاز ہوا تو اراکین نے خفیہ ووٹنگ کے ذریعے اپنا اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔
سابق وزیراعلٰی پنجاب حمزہ شہباز نے سپیکر پنجاب اسمبلی کے انتخاب کو کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ وزیراعلٰی پنجاب پرویز الہی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو ایسے سرپرائز آئندہ بھی ملتے رہیں گے۔
سبطین خان نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے کہا کہ ’کچھ عرصہ پہلے اس ایوان میں پولیس آئی اور اس کی بے توقیری کی۔ کوشش کروں گا ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔‘
پولنگ کے عمل کے دوران دو مرتبہ بدمزگی کے واقعات بھی سامنے آئے۔
ایک دفعہ جب ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری اپنا ووٹ کاسٹ کرنے آئے تو تحریک انصاف کے ارکان نے ان کے خلاف نعرے بازی کی۔ جبکہ ایک مرتبہ اس وقت پولنگ کا عمل روکنا پڑا جب مسلم لیگ ن کے ایم پی اے رانا مشہود نے الزام عائد کیا کہ بیلٹ پیپر پر سیریل نمبر لگا ہوا ہے جو خفیہ رائے شماری کے خلاف ہے۔
دونوں پارٹیوں کی ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کے باعث پانچ منٹ تک ووٹنگ کا عمل رکا رہا جس کے بعد ووٹنگ کا عمل دوبارہ شروع ہو گیا۔ پنجاب اسمبلی کے ایوان کے 371 اراکین میں سے 364 اراکین نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ تحریک انصاف اور ق لیگ کے کل 186 اراکین جبکہ ن لیگ اور اتحادیوں کے 178 اراکین تھے۔

پنجاب اسمبلی کی سپیکر کی نشست چوہدری پرویز الہی کے وزیراعلٰی پنجاب بننے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ (فوٹو: اے پی پی)

ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد پینل آف چئیرمین وسیم بادوزئی نے نتیجے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ حکومتی امیدوار سبطین خان نے 185 جبکہ اپوزیشن کے سیف الملوک کھوکھر نے 175 ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ چار ووٹ مسترد ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی کی سپیکر کی نشست چوہدری پرویز الہی کے وزیراعلٰی پنجاب بننے کے بعد خالی ہوئی تھی۔
ن لیگ یہ دعویٰ کر رہی تھی کہ وہ اس الیکشن میں اپ سیٹ کر سکتی ہے تاہم ایسا نہیں ہوا۔ سپیکر سبطین خان نے منتخب ہونے کے بعد حلف اٹھا لیا ہے اب وہ فیصلہ کریں گے کہ ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کب ہو گی۔ تحریک انصاف نے ڈپٹی سپیکر کو بھی ہٹانے کا اعلان کر رکھا ہے۔

شیئر: