پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس کے محکمے کے رُولز آف بزنس میں ایک حالیہ ترمیم کے بعد یہ بحث ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے کشمیر کی حکومت کے اختیارات کو محدود کیا جا رہا ہے۔
2018ء میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے 13ویں ترمیم منظور کی تھی جس کے بعد بہت سارے مالیاتی اختیارات کشمیر کی حکومت کو حاصل ہو گئے تھے۔ اس ترمیم کے بعد اسلام آباد میں قائم آزاد جموں و کشمیر کونسل نامی ادارے کے ٹیکس جمع کرنے کے اختیارت تقریباً ختم ہو گئے تھے۔
مزید پڑھیں
-
پاکستان میں مہاراجہ کشمیر کی اربوں کی ’متنازع جائیداد‘Node ID: 740471
-
’کشمیر فائلز احمقانہ فلم، آسکر کیوں نہیں مل رہا؟‘Node ID: 741521
-
مردم شماری پر کشمیریوں کو کیا تحفظات ہیں؟Node ID: 750101
آزاد جموں کشمیر کونسل سے کشمیر کی حکومتوں کو یہ دیرینہ شکایت تھی کہ وہ ایک متوازی اسمبلی کے طور پر کام کرتی ہے تاہم 13ویں ترمیم کے بعد اس وقت کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کونسل کے اختیارات محدود کرنے کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔
اب سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن سے رُولز آف بزنس میں ہونے والی ایک تازہ ترمیم کے بعد سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا پاکستان کی وفاقی حکومت بتدریج کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کی جانب تو نہیں بڑھ رہی۔
معاملے کی حقیقت کیا ہے؟
یہ بحث اس سمری کے بعد شروع ہوئی جو کشمیر کے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ نے صدرِ ریاست کو 13 جنوری 2023ء کو بھیجی۔ اس سمری میں آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس کے رولز آف بزنس 1986ء میں ترمیم کی تجویز دی گئی۔
بعدازاں یہ سمری 19 جنوری کو وزیراعظم سیکریٹریٹ میں وصول کی گئی اور پھر اس کی منظوری دے دی گئی۔
’وزیرِ خزانہ کو کَٹ ٹُو سائز کرنے کوشش ہے‘
سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن سے رولز آف بزنس 1886 میں ہونے والی حالیہ ترمیم کے حوالے سے اُردو نیوز کے رابطہ کرنے پر کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے رکن اور مسلم لیگ نواز کے رہنما احمد رضا قادری نے بتایا کہ ’کشمیر میں نافذ ایکٹ 1974ء کے آرٹیکل 50 اے کے تحت آڈٹ کے معاملات آڈیٹر جنرل آف آزادکشمیر کو دیکھنا ہوتے ہیں لیکن روایتی طور پر یہ اضافی چارج آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے پاس ہی ہوتا ہے۔‘
’یہاں بنیادی طور پر دو محکمے ہیں۔ ایک آڈٹ ہے جبکہ دوسرا اکاؤنٹس ہے۔ پاکستان کے تمام صوبوں میں اکاؤنٹس کا محکمہ وزارت خزانہ کے سیکرٹری کو جوابدہ ہوتا ہے۔ آڈٹ کا محکمہ آڈیٹر جنرل آف پاکسان کے ماتحت ہوتا ہے۔‘
احمد رضا قادری نے بتایا کہ ’اب یہاں ہوا یہ ہے کہ آڈٹ کے ساتھ ساتھ اکاؤنٹس کے محکمے کو بھی آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے تحت بھیج دیا گیا ہے۔حالانکہ اکاؤنٹس کا محکمہ سیکریٹری خزانہ کے تحت ہوتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’دراصل یہ حالیہ اقدام وزیر خزانہ عبدالماجد خان کو وزیراعظم کے اعصاب پر سوار طاقتور بیوروکریسی کی جانب سے ’کَٹ ٹُو سائز‘ کرنے کا اقدام ہے۔‘
’اکاؤنٹس میں کچھ خالی پوسٹیں ہیں‘
کشمیر کے سینیئر بیوروکریٹ سابق ایڈیشنل چیف سیکریٹری فرحت علی میر کا بھی یہی خیال ہے کہ اس اقدام کے اسباب داخلی ہیں، یہ اسلام آباد کی جانب سے اختیارت کی توسیع کی خواہش کا معاملہ نہیں ہے۔
فرحت علی میر نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ایکٹ 1974ء میں 13ویں ترمیم سے پہلے آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس کا محکمہ کشمیر کونسل کے پاس تھا۔ 13ویں ترمیم کے بعد یہ امور خاص طور پر اکاؤنٹس کے شعبے کے معاملات پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے محکمہ مالیات کے پاس چلے گئے تھے۔‘
’اب رولز آف بزنس میں ترمیم کے بعد اکاؤنٹس کے شعبے کے اختیارات بھی آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو دیے گئے ہیں۔‘
