Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

معیشت کو بچانے کے لیے سولر پر منتقل ہونے کے سوا راستہ نہیں: وزیراعظم

وزیراعظم نے کابینہ کو اپنے حالیہ غیرملکی دورے کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ فائل فوٹو: اے پی پی
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں بجلی کی ٹرانسمیشن لائن کا بیڑہ غرق ہے، شمسی توانائی پر منتقل ہونے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
بدھ کو کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’پاکستان سورج کی روشنی سے مالامال ہے، اس سے فائدہ حاصل نہ کریں اور معیشت کو برباد ہوتے دیکھیں یہ نہیں ہوگا۔‘
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ اور وزارت توانائی نے بلوچستان اور پنجاب میں جگہوں کی نشاندہی کی ہے جہاں سولر لگا کر بجلی پیدا کرنے پر کام کریں گے۔
’وزارت خزانہ کی ٹیم نے اس کے لیے بزنس ماڈل بنانا ہے اور صوبوں سے کوآرڈینیشن کرنی ہے۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ’ہم نے یہ چیلنج قبول کرنا ہے اور ڈیلیور کرنا ہے۔ کسی وزارت نے ذرا بھی سستی سے کام لیا اور تاخیری حربے استعمال کیے تو اس کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘
شہباز شریف نے بلوچستان میں ہزاروں ٹیوب ویل شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ’دس لاکھ ٹیوب ویل تیل پر چلتے ہیں۔ اس کے لیے ساڑھے تین ارب ڈالر کی سالانہ امپورٹ ہو رہی ہے۔ 76 برس گزر گئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اب بلوچستان میں کسان کو سستی بجلی ملے گی جس سے فصلوں پر لاگت کم ہوگی اور زراعت ترقی کرے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سالانہ پانچ ارب ڈالر صرف بحری جہازوں کے کرائے یا فریٹ کی مد میں ادا کرتا ہے۔ ’بنگلہ دیش اور انڈیا کے سینکڑوں بحری جہاز ہیں اور ہمارے صرف 12 جہاز ہیں۔ کسی کو احساس ہی نہیں کہ ہمارے پاس اپنے جہاز نہیں اور کرایہ ادا کرتے ہیں۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ’وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور ہمیں سخت مقابلے کا سامنا ہے ڈاؤن سائزنگ اور رائٹ سائزنگ ضروری ہے۔‘
وزیراعظم نے کابینہ کو اپنے حالیہ غیرملکی دورے کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ تاجکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سائیڈ لائن پر اچھی ملاقاتیں رہیں اور روسی صدر سے ملاقات میں جن امور پر بات کی اُن پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔
شہباز شریف نے محرم کے مہینے میں سیکورٹی کی صورتحال پر کہا کہ وفاق اور صوبوں میں قریبی کوآرڈینیشن ہونی چاہییں، نیکٹا سے بھی معلومات فوری طور پر شیئر کی جانی چاہییں۔
اُن کا کہنا تھا کہ وفاق سے کسی کو بھی مدد کی ضرورت ہے تو وہ فوری دی جانی چاہیے۔
’ایسے اقدامات کریں جن سے قومی یکجہتی کو فروغ اور قومی اتحاد کو تقویت ملے۔ اس حوالے سے سیکریٹری تمام متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کریں۔‘

شیئر: