پر آشوب دور میں مسلمان کثرت سے استغفار کریں ، مولانا مصطفی شریف
اللہ کے ذکر سے انسان کا دل صاف اورچہرہ روشن ہوتا ہے، بزم طلبائے قدیم ومحبان جامعہ نظامیہ کے زیر اہتمام تقریب اور اپنے اعزاز میںدیئے گئے عشائیہ پر ڈاکٹر مطصفی کا خطاب
جدہ ( امین انصاری )حالات حاضرہ میں جہاں ہر طرف مسلمانوںکو ستایا جارہا ہے ایسے پرآشوب دور میں مسلمان توبہ و استغفار کے ذریعہ اپنے رب کو راضی کرلیں ۔سچے دل سے توبہ کی جائے تو بندے کے گناہ پہاڑ کے برابر کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے معاف کرنے والا ہے ۔ان خیالات کا اظہار پروفیسرو ڈاکٹر مولانا مصطفی شریف سابق ڈین فیکلٹی آف آرٹس سوشل سائنس عثمانیہ یونیورسٹی و سابق ڈائرکٹر دائرة المعارف نے بزم طلبائے قدیم ومحبان جامعہ نظامیہ جدہ کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب کی صدارت مولانا حافظ محمد نوید افروز نوید بانی وصدر بزم کررہے تھے ۔ مولانا مصطفی شریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نزع کی حالت تک بھی بندوں کو موقع دیتا ہے کہ توبہ کرلے اور اپنے رب کا قرب حاصل کرلے اور دوسری طرف شیطان چاہتا ہے کہ انسان ہمیشہ اُسکی اتباع کرے ۔ مولانا نے کہا کہ آج کل بعض لوگ وسوسوں کی وجہ سے نماز نہیں پڑھتے ایسے شخص کو چاہئے کہ اپنی نمازوں کو طویل کرے تاکہ وسوسوں کے آنے کا سلسلہ موقوف ہوجائے ۔ مولانا نے مزید کہا کہ آج کا مسلمان نماز روزہ اور اللہ تعالیٰ کے حبیب کے بتائے ہوئے دین اور اللہ کے ذکرسے دوری اختیار کئے ہوئے ہے جبکہ اللہ کے ذکر سے انسان کا دل صاف اور چہرہ روشن ہوتا ہے اور اُسکی سانسوں میں سوائے ذکرِ خداوندی کے کوئی چیز باقی نہیں رہتی ۔ قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم اللہ کی تسبیح صبح و شام بیان کرو ‘ لیکن آج کئی مسلمانوں کی صبح و شام دُنیاوی لغویات سے پُر ہے ۔ بعض لوگ صرف فرائض کی تکمیل کو اپنی ذمہ داری کی تکمیل سمجھتے ہیں جبکہ فرائض کی تکمیل کے بعد کثرت نوافل کے ذریعہ قربِ خداوندی حاصل کرنے کا حکم ہے ‘ راتوں کو اُٹھکر اللہ کی بارگاہ میں گریہ وزاری کا حکم ہے ‘ جس سے آج کی نوجوان نسل کوسوں دور ہے ۔
مولانا حافظ محمد نوید افروز نوید نے اپنے صدارتی خطاب میںمسلمانوں کے اتحاد پر زور دیا اور کہا کہ آج مسلمانوں میں اتحاد کی کمی ہے ہمیں اتحاد کی سخت ضرورت ہے ‘ اتحاد زندگی ہے اور انتشار موت ہے ۔ انہوں نے ڈاکٹر مصطفی شریف کے علمی کارناموںاور علمی خدمات کی ستائش کی ۔مولانا ڈاکٹر محمد صفی اللہ خان کامل جامعہ نظامیہ اسسٹنٹ پروفیسر اے کے ایم کالج و سابق نائب مصحح دائرة المعارف العثمانیہ ‘ مولانا حافظ و قاری محمد مزمل شریف نے بحیثیت مہمانان خصوصی شرکت کی ۔ حافظ و قاری نور نقشبندی اور میر برکت علی کی قرات اور حافظ محمد سلیم قادری نائب معتمد بزم کی نعت شریف سے جلسہ کا آغاز ہوا ۔ مولانا حافظ محمد نظام الدین غوری صوفی معتمد نشرو اشاعت نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔بزم کی جانب سے صدر جلسہ نے مہمانوں کی خدمت میں مشلح ،رومال اور سپاس نامہ پیش کیا ۔ مولانا حافظ سید شاہ خلیل اللہ اویس نے ڈاکٹر مصطفی شریف کا تعارف اور حافظ محمد سلیم قادری نے تہنیتی اشعار پیش کئے ۔ مولانا حافظ محمد حیدر علی خان ‘ مولانا سید خلیل اللہ بشیر ‘ جناب میر قطب الدین فرید‘ حافظ برکت علی امان ‘ جناب نعیم الدین داعیان جلسہ نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا ۔ محمد عقیل صابری ‘ محمد مسیح الدین کلیم صابری ‘ میر شعیب صابری ‘ محمد صابر صابری نے انتظامات میں حصہ لیا ۔