Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں آن لائن فراڈ کے واقعات، کیسے بچا جائے؟

سرکاری اداروں سے متعلق عمومی تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ یہاں کام اپنی مرضی سے کیا جاتا ہے (فوٹو: پکسابے)
دفتر کے کام سے ابھی باہر نکلا ہی تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف والد صاحب تھے جنہوں نے سلام دعا کے فوراً بعد پوچھا  کہ میں کہاں ہوں؟  
میں نے بتایا کہ ابھی دفتر کے باہر ہی موجود ہوں جس پر انہوں نے ٹھنڈی سانس بھری۔ انہیں کچھ دیر پہلے تھانہ صدر راولپنڈی سے کسی ’اے ایس آئی‘ امجد کی کال موصول ہوئی ہے جس نے ’مجھے‘ گرفتار کر رکھا تھا۔ کسی ’نامعلوم الزام‘ کے تحت۔ 
گرفتاری کے بعد وہ ایف آئی آر کاٹنے کے بجائے رشوت لے کر چھوڑ دینا چاہتا تھا۔ جس پر والد نے حیرت سے اُس مشکوک اے ایس آئی سے گرفتاری کی جگہ پوچھی تو اس نے پہلے تو راولپنڈی میں صدر کا علاقہ بتایا۔ پھر والد نے جب کہا کہ میرا بیٹا تو اس وقت اسلام آباد میں ہوتا ہے تو ’اے ایس آئی‘ گڑبڑا گیا۔ مگر اس کے باجود اُس مشکوک اے ایس آئی نے مزید ناٹک کرتے ہوئے فون پر میری بات کرانے کا دعوٰی بھی کیا اور  فون کسی قریب موجود  شخص کو پکڑایا جس نے انتہائی گھبراہٹ والی آواز نکال کر مدد کے لیے کہا اور پھر فون بند ہو گیا۔ 
اس کے فوراً بعد انہوں نے مجھے فون ملایا تو معاملہ واضح ہو گیا کہ کوئی دھوکہ دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ 
 یہ واقعہ صرف میرے ساتھ پیش نہیں آیا۔ ان دنوں ایسے یا ان سے ملتے جلتے واقعات کی بھرمار ہے جن میں مختلف گروہ طرح طرح کے دھوکوں کے ذریعے لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ 

بینک اکاؤنٹ بلاک کرنے کی دھمکی

اسلام آباد میں ایک نجی ٹی وی چینل سے منسلک نوشین یوسف نے کچھ روز پہلے اپنی ایک ٹویٹ میں بتایا کہ انہیں ایک نمبر سے کال آئی جس کے پاس ان کے بینک کا ڈیٹا موجود تھا۔ اس حوالے سے جب ہم نے نوشین سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ بلکہ فروری 2020 میں اسی طرح کی ایک کال میں انہیں ٹریپ کرنے کی کوشش کی گئی۔ جب انہوں نے جھانسے میں آنے سے انکار کر دیا تو پھر انہیں دھمکی دی گئی کہ ان کا بینک اکاؤنٹ بلاک کر دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگلے روز واقعی ان کا اے ٹی ایم بلاک ہو چکا تھا۔ اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ کال کرنے والے نے اے ٹی ایم بلاک کا میسج بھی بھیجا، تاہم وہ اس نمبر پر بھیجا گیا تھا جو اس اکاؤنٹ سے منسلک ہی نہیں تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھوکہ دہی اور فراڈ کی وارداتوں میں ملوث ملزمان ہمارے ڈیٹا کی کس حد تک رسائی رکھتے ہیں۔ 

مدد کی اپیل

کچھ برس پہلے پاکستان میں ایک موبائل میسج بہت مقبول تھا جس میں پیغام درج ہوتا تھا کہ بھیجنے والا یا والی ہسپتال میں ہے اور اسے کال کرنے کے لیے بیلنس کی ضرورت ہے۔ اگر وہ پیغام ایک ہزار لوگوں کو بھیجا جائے تو ان میں سے ضرور چند لوگ ایسے آجاتے تھے جواسے سچ سمجھ کر اپنی رقم گنوا بیٹھتے تھے۔ اب اس طرح کے پیغامات تو صارفین کو کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ مگر لوگوں کو الجھا کر پیسے وصول کرنے والے گروہوں نے نت نئے طریقے ایجاد کر لیے ہیں۔

حالیہ برسوں میں موبائل فون پر شہریوں کو مختلف انعامی سکیموں کا جھانسا دے کرمختلف طریقوں سے لوٹا جاتا رہا۔  (فوٹو: پکسابے)

مثلاً کچھ عرصہ قبل مجھے صبح سویرے ایک کال موصول ہوئی جس میں کال کرنے والے نے انتہائی مظلومیت بھری آواز نکال کر بتایا کہ وہ اپنے کسی قریبی کو ہسپتال میں رقم بھیجنا چاہ رہا تھا مگر یہ رقم غلطی سے آپ کے اکاؤنٹ میں چلی گئی۔ میں نے نیند میں ہی میسج انباکس کھولا اور دیکھا کہ ایک میسج تو آیا ہوا ہے کہ جس کے مطابق میرے اکاؤنٹ میں 8 ہزار روپے موصول ہوئے ہیں۔ اس معاملے میں دھوکا یہ دیا جاتا ہے کہ کسی اور نمبر سے رقم کی وصولی کا تقریباً ویسا ہی پیغام بھیجا جاتا ہے۔
نیند سےاٹھنے والا یا پھر کسی کام میں مشغول کوئی نہ کوئی فرد ان کا نشانہ بن ہی جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ فراڈ کرنے والوں کو کیسے معلوم ہوتا ہے کہ اس صارف کے اکاؤنٹ میں اتنی رقم موجود ہے۔ 

انعامی سکیم کا جھانسا

پاکستان میں موبائل فون کے استعمال کا آغاز ہوا تو شہریوں کو مختلف انعامی سکیموں کا جھانسا دے کر مختلف طریقوں سے لوٹا جاتا رہا۔ آگاہی پھیلانے کے باوجود اب بھی آئے روز موبائل اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پیغامات موصول ہوتے ہیں جن میں انعام نکلنے کا پیغام درج ہوتا ہے۔ ایسی کسی بھی کال یا میسج کا جواب دینے سے گریز ہی بہتر رہتا ہے۔ 

 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال

اسلام آباد کے رہائشی نعمان خان کو کچھ روز قبل ایک امریکی خاتون کے نام سے بنے فیک اکاؤنٹ سے پیغام موصول ہوا کہ وہ ایک امریکی بینک سے وابستہ ہیں۔ جہاں آڈٹ کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ ان کے بینک میں ایک ایسے پاکستانی کی بڑی رقم بھی موجود ہے جو 2010 میں ہیٹی کے زلزلے میں اپنے خاندان سمیت مارے گئے۔ اب اگر یہ ان کے وارث بن کر بینک سے رابطہ کریں تو وہ یہ رقم دلوانے میں ان کی مدد کر سکتی ہیں۔
جس کے بعد آدھی رقم انہیں دینا ہوگی۔ نعمان نے مزید تفصیل سے قبل انٹرنیٹ پر تحقیق کی تو انہیں پتا چلا کہ یہ واقعہ میڈیا میں رپورٹ ہوچکا ہے جس میں انہیں ناموں کو استعمال کرتے ہوئے فراڈ کی کوشش کی گئی۔ اس کے علاوہ بھی کئی طریقے ہیں جہاں جعلی اکاؤنٹس بنا کر لوگوں کو کبھی شادی، دوستی یا کبھی کاروبار کے نام پر لوٹا جاتا ہے۔ 
اسی طرح لوگوں کے جعلی فیس بک اکاؤنٹ  بنا کر ان کے دوستوں کو مدد کے پیغامات بھیجنا بھی اب عام ہے۔  

ملزمان گھر بیٹھے افراد کو بڑی رقم کمانے کا جھانسہ دیتے ہیں۔ (فوٹو: پکسابے)

آن لائن کمائی کے نام پر دھوکہ

بے روزگاری اور دیگر معاشی مسائل کے باعث آئے روز ایسے پیغامات دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں گھر بیٹھے بڑی رقم کمانے کا جھانسہ دیا جاتا ہے۔ اب بے روزگار اور غیر ہنر مند افراد جو پہلے ہی کسی موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں وہ ان دھوکے بازوں کے جھانسے میں آ کر گھر والوں یا کسی دوست سے ادھار لے کر وہ رقم بھی ڈبو دیتے ہیں۔ 

دھوکے بازوں کی مشترکہ خصوصیات

آن لائن پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے یا پھر ٹیلی فون کالز پر لوگوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں چند خصوصیات مشترکہ ہیں۔ ملزمان یا تو لالچ کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، یا پھر طریقہ واردات اگر مختلف ہو جلد بازی دکھاتے ہیں۔ اس تیزی کے باعث سادہ لوح افراد کو موقع ہی نہیں ملتا کہ وہ اس معاملے میں کچھ تحقیق کر سکیں۔ 

آن لائن فراڈ سے کیسے  بچا جا سکتا ہے؟

مختلف فلمی کہانیوں کے زیر اثر معاشی مسائل میں گھِرے ہوئے لوگ راتوں رات امیر ہونے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں دھوکہ باز لالچ کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے انہیں پہلے سے دستیاب رقوم سے بھی محروم کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ سماجی حیثیت کو خراب کرنے یا بلیک میل کر کے رقم ہتھیانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ 
پاکستان کے مرکزی بینک کے ترجمان عابد قمر نے آن لائن دھوکہ دہی کی اقسام اور ان کے تدارک کے متعلق بات کرتے ہوئے اردو نیوز کو بتایا کہ اس حوالے سے ’سٹیٹ بینک نجی بینکوں کو گاہے بہ گاہے نئی ہدایات جاری کر رہا ہے تاکہ بینک اکاونٹس، اے ٹی ایم اور آن لائن رقم کی منتقلی کے بارے میں لوگوں کو فراڈ سے بچایا جا سکے ۔‘ 
انہو ں نے بتایا کہ بینک اور مالیاتی ادارے صارفین کو آگاہ کر رہے  ہیں کہ وہ کسی کے ساتھ  بھی اپنا ذاتی ڈیٹا شئیر مت کریں۔

پاکستان میں سائبر کرائمز کے حوالے سے پہلا قانون 2007 میں بنا تھا۔ (فوٹو: پکسابے)

عابد قمرکے مطابق سپوفنگ کے عمل کے ذریعے صارفین کو بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ انہیں بینک کے نمبر سے کال آ رہی ہے۔
’صارفین کو چاہیے کہ چاہے کوئی شخص سٹیٹ بینک کا نمائندہ ہی بن کر کال کیوں نہ کرے، کسی صورت بھی اپنا ذاتی ڈیٹا شئیر مت کریں۔ غیر مستند پلیٹ فارمز کے علاوہ اپنا کریڈٹ کارڈ استعمال مت کریں۔ آن لائن ادائیگیوں کے لیے ورچوئل کارڈز کا استعمال بھی مفید ہو سکتا ہے، جس سے آپ کا اکاؤنٹ بیلنس محفوظ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ جب بھی کسی کام میں کمائی کا جھانسا دے کر سرمایہ کاری کی دعوت دی جائے تواس پر متعلقہ محکمے یا اس شعبے کے ماہر سے رابطہ کر لیں۔‘ 

سائبر کرائمز کے خلاف قوانین

پاکستان میں سائبر کرائمز کے حوالے سے پہلا قانون 2007 میں بنا۔ 2016 میں پیکا ایکٹ منظور ہوا جس میں سائبر قوانین پر عملدرآمد اور خلاف ورزی کی صورت میں سزاؤں کا مکمل فریم ورک بھی شامل تھا۔ ان قوانین کے ماہر ایڈووکیٹ آفتاب عالم خان کے مطابق آن لائن جرائم سے نمٹنے کے لیے پیکا قوانین 2016 میں ایف آئی اے اور پی ٹی اے کو مکمل اختیار دیا گیا ہے۔ 
 بڑے شہر جہاں ان اداروں کے دفاتر موجود ہیں، وہاں تو آسانی سے متاثرہ فریق داد رسی کے لیے پہنچ سکتے ہیں۔ مگر دور دراز کے وہ علاقے جہاں ان اداروں کے دفاتر اور قوانین کے حوالے سے آگاہی موجود نہیں وہاں لوگ فریب میں پھنس جاتے ہیں۔ 
سرکاری اداروں سے متعلق عمومی تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ یہاں کام اپنی مرضی سے کیا جاتا ہے۔ جس کے باعث عوام زیادہ تر ان اداروں کا رُخ کرنے سے کتراتے ہیں۔ اس ضمن میں سرکاری اداروں تک رسائی، آگاہی نہ ہونا، وسائل اور مالی اخراجات جیسی وجوہات عوام کو تحقیقاتی اداروں سے دور رکھنے میں بڑے عوامل ہیں۔ 

آن لائن فراڈ کے واقعات میں مماثلت 

آن لائن پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے یا پھر ٹیلی فون کالز پر لوگوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں چند خصوصیات مشترکہ ہیں۔ ملزمان یا تو لالچ کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، یا پھر طریقہ واردات اگر مختلف ہو جلد بازی دکھاتے ہیں۔ اس تیزی کےباعث سادہ لوح افراد کو موقع ہی نہیں ملتا کہ وہ اس معاملے میں کچھ تحقیق کر سکیں۔ 

شیئر: