Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی ٹیچر جو تعلیمی ترقی کے 30 برسوں کے گواہ ہیں

جدید طریقہ تدریس سے طلبہ براہ راست مستفید ہورہے ہیں (فوٹو: سکرین گریب الاخباریہ)
سعودی عرب کے شہر الخفجی میں تین دہائیوں سے شعبہ تدریس سے منسلک عبدالرحمن المزیرعی مملکت میں تعلیمی ترقی کے گواہ اور شعبہ تعلیم کے مستقبل کے حوالے سے پرامید ہیں۔
’الاخباریہ‘ کے مطابق عبدالرحمن المزیرعی گزشتہ 30 برسوں سے سکینڈری سکول کے طلبہ کو پڑھا رہے ہیں، اس دوران انہوں نے تعلیمی میدان میں ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا ہے۔
ان کے کئی شاگرد آج مختلف شعبہ ہائے زندگی میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
عبدالرحمن المزیرعی نے حالیہ تبدیلیوں کے بارے میں کہا کہ ’بطور استاد ماضی کے مقابلے میں جدید طریقہ تدریس،نصاب اور تعلیمی سہولتوں کے حوالے سے واضح فرق نظر آتا ہے۔‘
`’جدید طریقہ تدریس سے طلبہ براہ راست مستفید ہورہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب بین الاقوامی تعلیمی مقابلوں میں بھی مقامی طلبہ نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔‘
 اپنی دوستانہ شخصیت کے حوالے سے کہا کہ وہ ’جو تم مسکراؤ تو سب مسکرائیں‘ کے اصول پر یقین رکھتے ہیں اور سب کے ساتھ اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آتے ہیں۔
واضح رہے  سعودی عرب میں وژن 2030 کے تحت تعلیم کے شعبہ پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے جس میں تعلیمی نظام کے تمام عناصر کی بہتری اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ شامل ہے۔

شیئر: