Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وہ گھریلو مشروب جن کے استعمال سے آپ یورک ایسڈ کم کرسکتے ہیں

ادرک میں سوزش کش خصوصیات پائی جاتی ہیں جن کی مدد سے یورک ایسڈ کی سطح میں کمی لائی جا سکتی ہے (فوٹو: فری پِک)
جب ہم ایسے کھانے کھاتے ہیں جن میں پیورین نامی مادے کی مقدار زیادہ ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں ہمارے جسم میں قدرتی فاضل مادہ بنتا ہے جسے یورک ایسڈ کہا جاتا ہے۔
جب جسم میں یورک ایسڈ کی سطح بلند ہو جائے تو گردے میں پتھری یا گٹھیا جیسی بیماریوں کو سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔
یورک ایسڈ کی سطح کو کم کرنے کے لیے ایسے کئی گھریلو مشروب (ہوم میڈ ڈرنکس) بنائے جا سکتے ہیں جن نہ صرف جسم میں پانی کی کمی پوری ہوتی ہے، گردے ٹھیک طرح سے کام کرتے ہیں اور سوزش میں کمی آتی ہے۔
انڈین ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی نے ایسے ہی گھریلو مشروب کی فہرست جاری کی ہے جن کی مدد سے یورک ایسڈ کو کم کیا جا سکتا ہے۔
آئیے جانتے ہیں کہ یورک ایسڈ کو کم کرنے والے گھریلو مشروب کون سے ہیں۔
لیموں پانی
لیموں پانی میں الکلی پائی جاتی ہے اور اس سے جسم کے پی ایچ لیولز کو متوازن رکھا جا سکتا ہے۔ اس میں سٹرک ایسڈ پایا جاتا ہے جس کی مدد سے یورک ایسڈ کے کرسٹل گُھل سکتے ہیں۔ اپنی صبح کا آغاز گرم پانی کے ایک گلاس میں لیموں نچوڑ کر پینے سے کریں۔
سیب کا سِرکہ
سیب کے سرکے میں بھی الکلی پائی جاتی ہے اور ہاضمے میں مدد ملتی ہے جس کی وجہ سے یورک ایسڈ جسم سے خارج ہوتا ہے۔ پانی کے ایک گلاس میں سیب کے سرکے کے ایک یا دو چمچ ڈالیں اور اسے دن میں ایک بار یا دو بار پیئں۔
چیری کا جوس
چیری میں سوزش اور یورک ایسڈ کو کم کرنے والے کمپاؤنڈ پائے جاتے ہیں۔ گٹھیا کی تکلیف کو کم کرنے کے لیے تازہ چیریز کا جوس روزانہ پئیں۔
ادرک والی چائے
ادرک میں سوزش کش خصوصیات پائی جاتی ہیں جن کی مدد سے یورک ایسڈ کی سطح میں کمی لائی جا سکتی ہے اور تکلیف کو کم کیا جا سکتا ہے۔ گرم پانی میں کٹی ہوئی ادرک کو پانچ سے دس منٹوں تک پکائیں روزانہ دن میں دو مرتبہ پیئں۔
ہلدی والا دودھ
ہلدی میں کرکیومن پایا جاتا ہے جس کی سوزش کش خصوصیات یورک ایسڈ لیولز کو کم کرتی ہیں۔ گرم دودھ میں ہلدی کا ایک چمچ ڈالیں جبکہ ذائقے کے لیے اس میں ایک چمچ شہد بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ ہلدی والے گرم دودھ کو روزانہ رات سونے سے پہلے پی لیں۔
 

تربوزے میں موجود سٹرولِین کمپاؤنڈز کی وجہ سے یورک ایسڈ کی سطح میں باقاعدگی آتی ہے (فوٹو: فری پِک)

کھیرے کا جوس
کھیروں میں پانی کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جس سے جسم میں پانی کی کمی نہیں ہوتی اور جسم سے زہریلے مادے خارج ہوتے ہیں جن میں یورک ایسڈ بھی شامل ہے۔
خربوزے کا جوس
خربوزے ہائیڈریشن کے لیے بہترین پھل ہیں اور ان میں موجود سٹرولِین کمپاؤنڈز کی وجہ سے یورک ایسڈ کی سطح میں باقاعدگی آتی ہے۔ خربوزے کو کاٹ کر پانی کے ساتھ بلینڈ کریں اور اس جوس کو روزانہ پیئں۔
نیٹل ٹی
نیٹل ٹی یعنی بچھو بُوٹی کی چائے میں یورک ایسڈ کم کرنے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ نیٹل ٹی سے پیشاب زیادہ آتا ہے اور یورک ایسڈ جسم سے خارج ہوتا ہے۔
میٹھے سوڈے کا محلول
میٹھے سوڈے میں الکلی کی خصوصیات پائی جاتی ہیں اور اس سے یورک ایسڈ کے کرسٹل جسم گُھلتے ہیں۔ پانی کے ایک گلاس میں آدھا چمچ میٹھا سوڈا ڈالیں اور اسے دن میں ایک بار پی لیں۔
خیال رہے کہ میٹھے سوڈے کے محلول کو زیادہ اور باقاعدگی سے نہیں پینا چاہیے کیونکہ اس سے جسم میں سوڈیم کی سطح بلند ہوتی ہے۔

شیئر: