Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عدالت کی آزادی یقینی بنائیں گے، اندر اور باہر سے حملہ نہیں ہونا چاہیے: سپریم کورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز نے کہا کہ ’ایجنسیوں کی مداخلت ایک کھلا راز ہے۔‘ (فوٹو: سکرین گریب)
سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے خط کے معاملے پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ عدالت کی آزادی یقینی بنائیں گے، اندر اور باہر سے حملہ نہیں ہونا چاہیے۔
منگل کو چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بنچ نے چھ ججز کے خط پر ازخود نوٹس کی سماعت کی۔
چیف جسٹس پاکستان نے وضاحت کی تین رکنی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ تمام دستیاب ججز پر مشتمل بینچ تشکیل دیا جائے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی بینچ سے الگ ہو گئے، فل کورٹ کے لیے دو ججز دستیاب نہیں ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ملک میں بہت زیادہ تقسیم ہے۔ ہمیں ایک طرف یا دوسری طرف کھینچنا بھی عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے۔ ہمیں اپنی مرضی کے راستے پر چلانے کے لیے مت دباؤ ڈالیں۔ عدلیہ کو اپنی مرضی کے راستے پر دھکیلنا بھی مداخلت ہے۔‘ 
چیف جسٹس نے  استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیا آپ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی تجاویز پڑھی ہیں۔
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ میں نے تجاویز نہیں پڑھیں۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ تجاویز نہیں بلکہ چارج شیٹ ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ان تجاویز کو اوپن کر دیتے ہیں۔
چیف جسٹس کے حکم پر کمرہ عدالت میں اٹارنی جنرل نے تجاویز پڑھیں جن میں کہا گیا کہ ’سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے حکم نامے کو ستائش کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ایگزیکٹو اور ایجنسیوں کو اختیارات کی تقسیم کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ججز میں کوئی تقسیم نہیں ہے۔ سوشل میڈیا اور میڈیا پر تاثر دیا گیا کہ ججز تقسیم ہیں۔ ججز کی تقسیم کے تاثر کو زائل کرنے کی ضرورت ہے۔‘ 
’اعلیٰ عدلیہ اور ضلعی عدلیہ کے ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ ججز کے ساتھ ایجنسیوں کے ممبران کی ملاقاتوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ اگر کسی جج کے ساتھ کوئی مداخلت ہوئی ہے تو وہ فوری بتائے۔ ججز کی شکایت کے لیے سپریم اور ہائی کورٹس میں مستقل سیل قائم کیا جائے۔ شکایات پر فوری قانون کے مطابق فیصلے صادر کیے جائیں۔‘
ججز تجاویز میں کہا گیا کہ ’وہ ایجنسیز یا انفرادی افراد جو ججز یا ان کے اہل خانہ کی فون ٹیپنگ یا ویڈیو ریکارڈنگ میں ملوث ہیں ان کی نشاندہی کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ سٹیٹ ایجنسیز اگر ضلعی یا اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے امور میں مداخلت کریں یا بلیک میل کریں تو جج کو توہین عدالت کی کارروائی کرنی چاہیے۔ چیف جسٹس اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور یا کوئی جج سی سی ٹی وی ریکارڈنگ حاصل کرے جہاں اس کے امور میں مداخلت ہوئی ہو۔‘

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی تجاویز نہیں بلکہ چارج شیٹ ہے۔‘ (فوٹو اے ایف پی)

ججز نے کہا کہ ’ایجنسیوں کی مداخلت ایک کھلا راز ہے، اگر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز خود توہین عدالت کی کارروائی نہیں چلاتے تو ہائی کورٹ کو رپورٹ کیا جائے۔ ہائی کورٹ پانچ ججز پر مشتمل بینچ تشکیل دے کر فیصلہ کرے۔ اگر ہائی کورٹ کا کوئی جج رپورٹ کرے تو چیف جسٹس پاکستان کے نوٹس میں لایا جائے۔ چیف جسٹس پاکستان اس معاملے کو دیکھیں، ایک جج شکایت کے ساتھ اپنا بیان حلفی بھی دے۔ بیان حلفی دینے والے جج پر جرح نہیں ہو سکتی۔ اگر ججز کی جانب سے شکایت دی جائے تو اسے نشانہ نہ بنایا جائے۔ سپریم کورٹ پاکستان سے امید ہے کہ وہ پورا طریقہ کار طے کرے گی۔‘
جسٹس منصور علی شاہ نے اہم ریمارکس دیے کہ لاہور ہائی کورٹ کے ججز نے کہا کہ عدلیہ میں مداخلت ایک کھلا راز ہے، اب ججز سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ’مداخلت اندرونی طور پر بھی ہو سکتی ہے۔ کیا چیف جسٹس کسی جج کو بلا کر کہہ سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل صاحب آپ ہم پر یہ انگلی بھی اٹھا سکتے ہیں، ہمارا ایسا کرنا بھی عدلیہ میں مداخلت کے مساوی ہے۔ مداخلت کسی بھی قسم کی ہو اس کا تدارک ہونا چاہیے۔ عدلیہ میں خود احتسابی ہونی چاہیے، میں نے پہلے دن کہا تھا کہ کوئی مداخلت نہیں کروں گا۔ میں جب سے چیف جسٹس پاکستان بنا کوئی شکایت نہیں آئی، اس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے کہ فلاں وقت تک آنکھیں بند رکھیں اور فلاں وقت تک آنکھیں کھول دیں، یہ تو سلیکٹو احتساب ہوا۔‘
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ’کچھ کیسز میں بدترین احتساب کی مثالیں موجود ہیں۔ ہمیں اب آگے بڑھنا ہے، ہم کسی سیاسی قوت یا کسی مخصوص ایجنسی کے لیے ہیر پھیر نہیں کرنے دیں گے۔ ہم وکلاء یا حکومت کو بھی ایسا نہیں کرنے دیں گے، کیا ہمارے ماتحت بار کے صدور ججز سے چیمبرز میں نہیں ملتے۔ کیا یہ عدلیہ کی آزادی میں مداخلت نہیں ہے، بہت پہلے کی بات ہے کسی نے مجھے کہا فون ٹیپ ہو رہا ہے، میں نے کہا ٹھیک ہے ٹھیک طریقے سے انھیں سننے دیں۔‘
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’یہ 76سالوں سے ہو رہا ہے، یہ ہماری اندرونی کمزوری ہو سکتی ہے۔ ججز ایسے واقعات کو رپورٹ کرنے میں خوف کا شکار ہیں۔ ہائی کورٹ کے ایک جج کا ذاتی ڈیٹا سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا۔ گرین کارڈ سمیت سب کچھ ان جج کی تعیناتی سے قبل جوڈیشل کمشین میں تفصیل سے بحث ہوئی، اندرونی معاملات کو ہم نے ٹھیک کرنا ہے۔‘

سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بھجوائی گئی تجاویز پبلک کرنے کا حکم دے دیا (فوٹو اے ایف پی)

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ’پورا کیس عدلیہ کی آزادی سے متعلق ہے، عدلیہ میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ اندرونی و بیرونی طور ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ہائی کورٹس کے پاس توہین کا اختیار تھا لیکن انھوں نے کچھ نہیں کیا۔ افتخار چوہدری کیس، بے نظیر بھٹو کیس، دھرنا کیس کی مثالیں موجود ہیں۔ ایک کمرے میں نہ بیٹھو ادھر بیٹھو کوئی سن لے گا، یہاں کوئی بات نہ کرو کوئی سن لے گا، بڑا بھائی سب دیکھ رہا ہے یہ کیا کلچر ہے۔‘
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ازخود نوٹس لینے پر سپریم کورٹ کے ساتھ کیا کچھ ہوا یہ دیکھیں، کیا عدلیہ کی آزادی ایسے ہو سکتی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ 2018 میں جو تضحیک آمیز مہم چلائی گئی، نادرا اور امیگریشن سمیت حکومت کے ماتحت اداروں سے ججز کے اہل خانہ کا ڈیٹا چرایا گیا، یہ تک بات ہوئی کہ ججز کے بچے کہاں پڑھتے ہیں۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بھجوائی گئی تجاویز پبلک کرنے کا حکم دے دیا۔ 

شیئر: