Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بنارس ہندویونیورسٹی کے وائس چانسلر کوفوری معطل کیا جائے ،کانگریس

    لکھنؤ۔۔۔۔۔۔۔ اخبار نویسوں اور ٹی وی چینلز کے نمائندوں کی بڑی تعداد نےوزیراعلیٰ  کی رہائش پر دھرنا دیا۔ پولیس  اور بنارس انتظامیہ  و بنارس ہندو یونیورسٹی کے وائس چانسلرکیخلاف نعرے لگائے۔  وزیراعلیٰ  یوگی نے  ہندو یونیورسٹی میں تشدد کی جامع رپورٹ طلب کرلی۔ واضح ہو کہ گزشتہ   روز ہندو یونیورسٹی کے گیٹ پر ایک طالبہ نے سرمنڈا کر عدم تحفظ کیخلاف  مظاہرہ کیا تھا۔ اسوقت  وزیراعظم مودی وہاں سے گزرنیوالے تھے۔ یونیورسٹی میں طالبہ کے ساتھ چھیڑ خانی کا  واقعہ  پیش آیا تھا۔  یونیورسٹی کیمپس  میں لڑکیاں خود کو غیر محفوظ محسوس کررہی ہیں۔ اس کی شکایت کرنے  جب لڑکیاں  وائس چانسلر  کے دفتر پہنچیں تو انہیں کہا گیا کہ وی سی پروفیسر ترپاٹھی کے پاس وقت نہیں لیکن ان کیخلاف  جب حکمراں جماعت کی  طلبہ تنظیم  ودیارتھی پریشد کا وفد وی سی کے پاس گیا تو  انہیں وقت دیاگیا۔ اس کیخلاف طلبہ نے مظاہرہ کیا تواُن پر تشدد کیاگیا۔  میڈیا کو بھی نہیں بخشا گیا۔ پولیس نے ان پر لاٹھیاں برسائیں۔  ہنگامے کے دوران کئی گاڑیوں کو نذر آتش کردیاگیا۔ دفاتر  کے دروازوں اور کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیئے گئے۔ پولیس نے  لڑکیوں پر بھی لاٹھی چارج کیا۔ کانگریسی لیڈروں نے صحافیوں کیخلاف تشدد کیلئے وزیراعظم مودی اور وزیراعلیٰ یوگی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ  دونوں کو چاہیئے کہ وہ طلبہ اور صحافیوں سے معافی مانگیں ۔ اگر وزیراعلیٰ وزیراعظم  نے وی سی پروفیسر  ترپاٹھی کو یہ حکم دیا ہوتا کہ وہ تفریق سے کام نہ لیں تو یہ نوبت نہ آتی۔  کانگریس نے مطالبہ کیا کہ  وی سی ترپاٹھی کو فوری طور پر  معطل کردیا جائے۔ دریں اثناء  جواہر لال یونیورسٹی  طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار بنارس پہنچ گئے۔ سماج وادی  پارٹی کے کل ہند صدر سابق وزیراعلیٰ اکھلیش  یادو نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ  کو سمجھ لینا چاہیئے کہ مسائل لاٹھی ڈنڈوں سے نہیں گفتگو سے حل ہوا کرتے ہیں۔

شیئر: