امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کالعدم مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کی گرفتاری کی تعریف کی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں حافظ سعید کا نام لیے بغیر کہا کہ 10 سال کی تلاش کے بعد ممبئی حملوں کے نام نہاد ماسٹر مائنڈ کو پاکستان میں گرفتار کر لیا گیا۔ گذشتہ دو سالوں کے دوران ان کو پکڑنے کے لیے بہت زیادہ دباؤ ڈالا گیا۔
بدھ کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں حافظ محمد سعید کو گرفتار کرنے کے بعد ان کا سات روزہ جوڈیشل ریمانڈ حاصل کیا گیا ۔
محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ذرائع کے مطابق حافظ سعید کو لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔
After a ten year search, the so-called “mastermind” of the Mumbai Terror attacks has been arrested in Pakistan. Great pressure has been exerted over the last two years to find him!
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) July 17, 2019
گوجرانوالہ سے مقامی صحافی احتشام شامی کے مطابق حافظ سعید کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر کے 14 دن کا ریمانڈ دینے کی استدعا کی گئی تاہم عدالت نے ان کو سات دن کے لیے جیل بھیجنے کا حکم دیا۔
حافظ محمد سعید کو گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر ایک کے جج سید علی عمران کے سامنے پیش کیا گیا۔
اس سے قبل کالعدم جماعت الدعوۃ کے ترجمان یحییٰ مجاہد نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے حافظ سعید کی گرفتاری کی تصدیق کی۔

یاد رہے کہ لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دو روز قبل ہی حافظ سعید کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی تھی۔
واضح رہے کہ انڈیا نے حافظ سعید کو سب سے مطلوب شخص قرار دے رکھا ہے۔ انڈیا الزام لگاتا ہے کہ حافظ سعید 2008 کے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ ہیں جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ انڈیا ان الزامات کے ٹھوس شواہد فراہم نہیں کر سکا۔
واضح رہے کہ حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ اور اس کی ذیلی تنظیم فلاح انسانیت کو رواں برس 5 مارچ کو پاکستان کی وزارت داخلہ نے کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
پابندی کے بعد جماعت الدعوۃ، فلاح انسانیت اور دیگر کالعدم تنظیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا اور پنجاب حکومت نے ان تنظیموں کے مدارس اور دفاتر کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستان کو فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے بہت دباؤ کا سامنا ہے اور ماہرین کے مطابق اسی تناظر میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت پہلے جماعت الدعوۃ پر پابندی عائد کی گئی اور اب اس کے سربراہ حافظ سعید کو گرفتار کیا گیا ہے۔
دسمبر 2017 میں لاہور ہائی کورٹ نے عدم ثبوت کی بنیاد پر حافظ سعید کی نظر بندی ختم کرنے کا حکم دیا جس کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔
اس سے قبل جنوری 2017 میں حافظ سعید کو ان کے گھر پر ہی نظر بند کر دیا گیا تھا۔ ان کی نظر بندی 10 ماہ تک رہی۔ حافظ سعید نے اپنی نظر بندی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
