انڈیا کی جنوبی ریاست تیلنگانہ کے دارالحکومت حیدر آباد میں خاتون وٹرنری ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی اور ان کو قتل کیے جانے کے معاملے پر پورے ملک میں غم و غصے کی لہر ہے۔
حیدر آباد سے لے کر دارالحکومت دہلی تک ہر جگہ مظاہرے ہو رہے ہیں۔
یہاں تک کہ پیر کے روز پارلیمان کے ایوان بالا میں اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے راجیہ سبھا کی رکن اور بالی وڈ اداکارہ جیا بچن نے اس جرم کے مرتکب افراد کو سر عام مار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انڈیا میں گذشتہ دو دنوں سے اس زیادتی اور قتل کے معاملے پر سوشل میڈیا پر مباحثہ جاری ہے۔
مزید پڑھیں
-
شادی کو ماحول دوست بنانے کی ہر ممکن کوششNode ID: 445561
-
سکول میں ’ناگن ڈانس‘ کرنے پر استاد معطلNode ID: 445651
-
دولہے کی سکائی ڈائیو اور اردو دشمنیNode ID: 445851
-
پریمی جوڑے کی پولیس سٹیشن میں شادیNode ID: 446081
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے رضا کاروں کا خیال ہے کہ انڈیا میں ریپ روزانہ کی بنیاد پر ہوتے ہیں لیکن لوگ صرف اسی وقت جاگتے ہیں جب اس قسم کا سنگین واقعہ سامنے آتا ہے جس کا 2012 میں ہونے والے نربھیا کیس سے یا گذشتہ سال 17 جنوری کو ہونے والے کٹھوعہ کیس سے موازنہ کیا جا سکے۔
انڈیا میں جہاں خواتین کے ساتھ زیادتی ایک مسئلہ ہے وہیں ہجوم کے ہاتھوں قتل بھی اہم مسئلہ ہے۔ جیا بچن کے بیان پر ایوان میں کرسی صدارت پر بیٹھے نائب صدر جمہوریہ ونکیا نائیڈو نے بھی 'لنچنگ' پر حیرت کا اظہار کیا۔
ٹوئٹر پر اس کے بعد سے جیا بچن پہلے نمبر پر ٹرینڈ کر رہی ہیں۔ ’پیس اینڈ کنفلکٹ ریسرچ‘ کے پروفیسر اشوک سوائیں نے جیا بچن کی خبر کو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ 'لنچنگ؟ کیا انڈیا میں کوئی قانون نہیں ہے؟'
جیا بچن نے کہا کہ 'اس طرح کے لوگوں کو عوام کے سامنے لا کر لنچ کر دینا چاہیے۔'
خیال رہے کہ حیدر آباد میں 26 سالہ وٹرنری ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی اور انہیں جلا کر مارنے کے کیس میں پولیس نے چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔

جیا بچن کا کہنا ہے کہ کہ 'مجھے پتہ نہیں کہ اس طرح کے جرائم پر میں کتنی بار کھڑی ہوئی ہوں اور اپنی بات سامنے رکھی ہے۔ میرے خیال میں اب وقت آ گیا ہے۔ خواہ نربھیا معاملہ ہو، یا کٹھوعہ یا تیلنگانہ۔۔۔ لوگ چاہتے ہیں کہ حکومت اب مناسب اور حتمی جواب دے۔'
بہت سے لوگ جیا بچن کی رائے سے پوری طرح اتفاق کرتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ مجرموں کو سخت سزا دینے کے حق میں تو ہیں لیکن قانون کو عوام کے ہاتھ میں دینے کے خلاف ہیں۔
Lynching? Is there no Rule of Law in New India? https://t.co/kFyrHws1ii via @ndtv
— Ashok Swain (@ashoswai) December 2, 2019
سماجی کارکن تحسین پونہ والا نے جیا بچن کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 'ایسے ایم پی (رکن اسمبلی) مسئلہ ہیں! جیا بچن جیسے قانون ساز قانون کی عملداری میں بہتری لانے، سائنسی جانچ، خصوصی عدالت اور فوری انصاف کے بجائے عوام کے ہاتھوں لنچنگ کی بات کرتے ہیں، یہ عجیب ہے۔ اس سے امن و امان کی صورت حال مزید خراب ہو گی۔'
مجرموں کو سزا دینے کے معاملے پر تقریباً تمام لوگ یک آواز ہیں لیکن بعض حلقے اس کے متعلق فرقہ وارانہ ذہنیت رکھتے ہیں چنانچہ سنیچر کو بہت سے ٹوئٹر صارفین مسلمانوں کے خلاف آواز اٹھاتے نظر آئے۔ حالانکہ جن چار لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں ایک مسلمان اور باقی تین غیر مسلم ہیں۔
These MPs are the problem! With lawmakers like #JayaBachchan , instead of improving the implementation of the law, asking for scientific investigations &special courts & fast trials she wants people to be lynched.
Absolutely bizarre! This will actually make he law &order worse! https://t.co/7IPEMpChzp— Tehseen Poonawalla Official (@tehseenp) December 2, 2019
انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ 'اس واقع سے پورے ملک کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے۔ میرے پاس اس خوفناک جرم کے خلاف بولنے کو الفاظ نہیں ہیں۔'
صحافی مادھو نارائن نے لکھا ہے کہ 'میں یہ چاہتا ہوں کہ ان (ملزمان) پر مقدمہ چلے اور جب جرم ثابت ہو جائے تو انھیں طبی اور نفسیاتی تجربے کے لیے گنی پگ کے طور پر استعمال کیا جائے۔ وہ تحقیق و ترقی میں کام آ سکتے ہیں۔‘
I would prefer rapists to be tried and once convicted, used as guinea pigs for medical and psychological experiments. Can potentially help research and development. #JayaBachchan
— Madhavan Narayanan (@madversity) December 2, 2019
بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ انڈین سماج بیمار ذہنیت کا شکار ہو چکا ہے چنانچہ آئے دن اس قسم کے واقعات نظر آتے ہیں۔
اگر آج ہی کا اخبار اٹھائیں تو ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق سنیچر کے روز ایک چھ سالہ بچی کا ریپ اور قتل ہوا ہے۔
انڈیا میں 2013 کے بعد سے ریپ کیسز کا ریکارڈ جاری نہیں کیا گیا ہے یعنی 2012 میں ریپ کے 24 ہزار 923 ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق انڈیا میں روزانہ تقریبا 70 لڑکیوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔ 16 دسمبر 2012 میں دہلی میں ایک چلتی بس میں ایک طالبہ کے ساتھ زیادتی کے بعد جنسی زیادتی سے متعلقہ قوانین میں سختی لائی گئی تھی۔
انڈین خبروں کے لیے ’’اردو نیوز انڈیا‘‘ گروپ جوائن کریں