پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے پاکستان سمیت دنیا میں واٹس ایپ صارفین پر ہیکنگ کے حملوں کا معاملہ واٹس ایپ انتظامیہ کے سامنے اٹھایا ہے۔
پی ٹی اے نے جمعے کے روز ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں بیان کیا گیا ہے کہ ’پاکستان نے نہ صرف واٹس ایپ انتظامیہ سے ہیکنگ کا شکار ہونے والے پاکستانی صارفین کی تفصیلات مانگی ہیں، بلکہ یہ بھی پوچھا ہے کہ واٹس ایپ انتظامیہ نے مستقبل میں ہیکنگ کے ایسے واقعات کے تدارک کے لیے کیا تدابیر اختیار کی ہیں۔‘
پی ٹی اے نے لوگوں کو واٹس ایپ اپ گریڈ کرنے کی ہدایت کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ ہیکنگ سے بچنے کے لیے اپنے موبائل فون کے آپریٹنگ سسٹم کو اپ ٹو ڈیٹ رکھیں۔
مزید پڑھیں
-
سماجی رابطوں کی مقامی ویب سائٹس بنانے کی تجویزNode ID: 427146
-
کیا پاکستان میں واٹس ایپ سروس بند ہو گی؟Node ID: 444276
-
پاکستانی وزارت داخلہ کے ماتحت ادارے ’میڈیا سے بات نہ کریں‘Node ID: 449226
پی ٹی اے کے مطابق میڈیا پر واٹس ایپ سے متعلق خبریں شائع ہونے کے بعد پاکستان نے یہ معاملہ واٹس ایپ انتظامیہ کے سامنے اٹھایا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز برطانوی اخبار گارڈین میں بھی ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں مبینہ طور پر لکھا گیا تھا کہ ایک اسرائیلی سپائی ویئرکمپنی این ایس او گروپ نے رواں برس کے آغاز میں ایک درجن سے زائد پاکستانی سرکاری حکام کے واٹس ایپ اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا تھا۔
گارڈین کے مطابق جاسوسی کی اس کارروائی میں واٹس ایپ کے سافٹ ویر کو ہیک کر کے صارفین کے پیغامات اور ڈیٹا تک رسائی حاصل کی گئی۔
PTA has taken up the matter with @WhatsApp management not only to get the details of users targeted in Pakistan but also to have an update on the remedial measures taken by WhatsApp to prevent the occurrence of such hacking attempts in future. pic.twitter.com/JHXgg7vvEL
— PTA Pakistan (@PTAofficialpk) December 20, 2019
اخبار کا لکھنا ہے کہ اس انکشاف کے بعد رواں برس مئی میں واٹس ایپ نے اسرائیلی کمپنی کے خلاف ’غیر قانونی‘ طور پر رسائی اور استعمال کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کروایا تھا۔
اسرائیلی کمپنی نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ این ایس او قانون نافذ کرنے والوں اداروں کو صرف دہشت گردوں، جرائم پیشہ افراد اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والوں کی نشاندہی میں مدد دیتی ہے اور اس طرح کی کارروائیوں میں ملوث نہیں ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں حکومت پاکستان نے بھی واٹس ایپ طرز کی مقامی میسجنگ سروس متعارف کروانے کا اعلان کیا تھا، اور کہا تھا اس کے بعد واٹس ایپ کا استعمال سرکاری اہلکاروں کے لیے ممنوع کر دیا جائے گا، جبکہ مرحلہ وارعام صارفین کے لیے بھی وہی سروس واٹس ایپ کے متبادل کے طور پر متعارف کروا دی جائے گی۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر آئی ٹی بلال عباسی نے کہا تھا کہ ’وزیراعظم کی ہدایت پر ہم چین کی وی چیٹ سروس کی طرز پر پاکستان میں بھی لوکل سروس پر کام کر رہے ہیں جو آئندہ چھ ماہ میں منظر عام پر آ جائے گی۔‘
