امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں ہونے والے مظاہروں کے حق میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے ان کی حکومت ایران کی ’بہادر‘ قوم کے ساتھ کھڑی ہے۔
سنیچر کو ایران کے یوکرینی مسافر طیارے کو غلطی سے مار گرانے کے اعتراف پر تہران میں حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔
صدر ٹرمپ نے مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے انگریزی اور فارسی زبان میں ٹویٹ کیا کہ امریکہ، ایران میں جاری مظاہروں پر نظر رکھے ہوئے ہے اور مظاہرین کے ساتھ کھڑا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق سنیچر کی شام کو تہران کی ’امیر کبیر‘ یونیورسٹی کے طلبا نے یوکرینی طیارے کے حادثے کے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی میں حکومت کے خلاف احتجاج کیا اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ مظاہرے میں طلبا کے علاوہ دیگر شہریوں نے بھی شرکت کی۔
#WATCH: A group of protesters demand #Iran’s Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei step down on Saturday after Tehran said that its military had mistakenly shot down a Ukrainian plane, killing all 176 people on board #FlightPS752 #UkranianPlaneCrashhttps://t.co/pymvNJ07ot pic.twitter.com/G4sCoIrzrH
— Arab News (@arabnews) January 11, 2020
ایران کے صدر حسن روحانی نے حادثے کو ناقابل معافی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’یوکرین کے بوئنگ 737 کو انسانی غلطی کی وجہ سے میزائل لگے۔‘
صدر روحانی کے اعتراف سے قبل ایرانی حکومت نے متعدد بار مغربی ممالک کے ان الزامات کو مسترد کیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ طیارہ ایرانی میزائل لگنے سے تباہ ہوا۔
صدر ٹرمپ نے ٹویٹ میں کہا کہ انہوں نے جب سے صدارت کا عہدہ سنبھالا ہے، تب سے وہ ایران کی بہادر قوم کے ساتھ کھڑے ہیں، اور ان کی حکومت ایران کے شہریوں کا ساتھ دیتی رہے گی۔
To the brave, long-suffering people of Iran: I've stood with you since the beginning of my Presidency, and my Administration will continue to stand with you. We are following your protests closely, and are inspired by your courage.
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) January 11, 2020
انہوں نے کہا کہ دوبارہ مظاہرین کا ’قتل‘ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی انٹرنیٹ کی سروس معطل کی جا سکتی ہے۔
ٹرمپ نے مظاہرین کو پیغام دیا کہ وہ ان کی ہمت سے متاثر ہیں اور مظاہروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
The government of Iran must allow human rights groups to monitor and report facts from the ground on the ongoing protests by the Iranian people. There can not be another massacre of peaceful protesters, nor an internet shutdown. The world is watching.
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) January 11, 2020
اس سے قبل نومبر میں ایرانی حکومت کے تیل کی قیمت بڑھانے پر بڑی تعداد میں ایران میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے جن پر قابو پانا حکومت کے لیے مشکل ہو گیا تھا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 143 بتائی تھی، جن میں سے بیشتر ایران سکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بنے تھے۔
حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ایران میں تعینات برطانیہ کے سفیر روب میکایئر کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جنہیں چند گھنٹے حراست میں رکھنے بعد رہا کر دیا گیا۔
ایرانی حکام کے مطابق برطانوی سفیر طلبا اور مظاہرین کو حکومت مخالف اقدامات پر اکسا رہے تھے۔
برطانوی وزیر خارجہ نے ایران کے اس اقدام پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی وجہ برطانوی سفیر کو گرفتار کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
