گذشتہ دنوں انڈیا میں دہلی کے فرقہ وارانہ فسادات کے ساتھ عالمی سطح پر کورونا وائرس کا ذکر رہا۔ لیکن بعض ایسی خبریں بھی ہیں جو کہ دلچسپی سے خالی نہیں۔
دنیا جہاں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات سے نمٹنے کے لیے سارے جتن کر رہی ہے اور اس کا علاج تلاش کرنے کی جدو جہد میں لگی ہے وہیں انڈیا میں حکمراں جماعت بی جے پی کے ایک رہنما نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا کا علاج گائے کے فضلے میں ہے۔
انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام سے تعلق رکھنے والی رکن اسمبلی سمن ہرپریا نے کہا کہ گائے کا فضلہ کینسر جیسی مہلک بیماری کے علاج میں بھی مفید ہے۔
مزید پڑھیں
-
انڈیا میں ’غداروں کو گولی مارو‘ کی گونجNode ID: 462376
-
’انڈیا میں فسادات کورونا وائرس کا ہمارا ورژن ہے‘Node ID: 462466
-
انڈیا تیزی کے ساتھ ہاتھوں سے نکل رہا ہے: من موہن سنگھNode ID: 463346
خبررساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق انہوں نے کہا ’ہم سب جانتے ہیں کہ گائے کا گوبر بہت مفید ہے اور میرا خیال ہے کہ کورونا کی بیماری کے علاج کے لیے بھی گائے کے پیشاب اور گوبر سے ایسا ہو سکتا ہے۔‘
انہوں نے یہ باتیں مویشیوں کے بنگلہ دیش سمگل کیے جانے کے متعلق بحث کے دوران اسمبلی میں کہیں۔ ہندو گائے کے گوبر کو پاک صاف کرنے والی چیز سمجھتے ہیں اور یہ پہلی بار نہیں ہے کہ بی جے پی کے رہنماؤں نے گائے کے فضلے کے متعلق ایسی بات کہی ہو۔
اس سے قبل بہت سے مقدمات میں ملزم اور جیل میں ایک عرصہ گزارنے کے بعد بھوپال سے بی جے پی رکن پارلیمان سادھوی پرگیا ٹھاکر نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے کینسر کا علاج گائے کے پیشاب سے کیا ہے۔ لیکن ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ انہیں کبھی کینسر تھا ہی نہیں۔
جب بات گائے کے فضلے پر آ گئی ہے تو یہ خبر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ انڈیا کی سخت گیر تنظیم ہندو مہا سبھا کے صدر چکرپانی نے کہا کورونا وائرس کو ختم کرنے کے لیے لوگوں میں گائے کے پیشاب اور گوبر کی افادیت اور گائے کی مصنوعات کھانے کی افادیت کے متعلق بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
ا
انڈیا کی ایک آئی اے ایس افسر نے ایک نونہال گوریلا کی ویڈیو جاری کی ہے جو ان دنوں انڈیا میں وائرل ہے۔
ضلع مجسٹریٹ سوپریہ ساہو نے اس ویڈیو کے ساتھ لکھا کہ ہم سب میں چھپے ہوئے بچے کے لیے تیسری بار والی جست ضرور دیکھیں اور پھر باس سارے مزے کو ختم کر دیتا ہے۔
اس ویڈیو میں ایک گوریلا کو گھاس کے ڈھیڑ پر جست لگاتے دیکھا جاتا ہے جہاں وہ سر کے بل قلابازی لگاتا ہے۔ تیسری بار کے بعد شاید اس کی ماں آ جاتی ہے اور اسے لے جاتی ہے۔
For the child in all of us Do watch the third jump and then the boss spoils the fun
#WildlifeConservation
VC. Via Whatsapp pic.twitter.com/VK9cDEc82t— Supriya Sahu IAS (@supriyasahuias) March 2, 2020
شاید وہاں بھی انسانوں کی طرح تربیت ہوتی ہے۔ چند سیکنڈ کی اس ویڈیو کو 86 ہزار سے زیادہ بار تک دیکھا جا چکا ہے اور ہزاروں لائکس اور ری ٹویٹس ہوئی ہیں۔
ایک صارف نے لکھا کہ ایک عمر میں انسان کے بچے اور بندر کے بچے ایک ہی طرح کی حرکت کرتے ہیں تو ایک نے لکھا کہ کیا ہماری مائیں ایسا ہی نہیں کرتی ہیں۔
اس سے قبل فروری میں بھی یہ وڈیو وائرل ہوئی تھی لیکن رواں ہفتے ایک بار پھر یہ ٹائم لائنز پر نمایاں نظر آئی۔
بچوں کی شرارت اور نادانیاں اپنی جگہ لیکن کولکتہ کی معروف رابندر بھارتی یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے بچوں کی شرارت سے تنگ آ کر اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔
پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے وائس چانسلر سبیہ ساچی باسو نے جمعے کو اپنا استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے یہ استعقیٰ بسنت اتسو یعنی جشن بہار کے موقعے پر نوجوان لڑکے لڑکیوں کی جانب سے اپنے جسم پر غیر مہذب یا ناشائستہ نعرے تحریر کرنے کے لیے دیا ہے۔
خیال رہے کہ ہولی سے قبل ہر سال یونیورسٹی کے کیمپس میں یہ جشن منایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس شرارت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
معروف صحافی کنچن گپتا نے لکھا کہ ’ٹیگور کے ایک گیت کو الٹ پلٹ کر ناقابل بیان گالی بنا دیا گیا ہے۔ پھر بنگال اور بنگالی اپنی کس تہذیب پر نازاں ہوتے ہیں۔‘
یونیورسٹی انتظامیہ نے اس میں شرکت کرنے والے نوجوانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ جب کہ بہت سے لوگوں نے لکھا ہے کہ جو اس جشن کی روایت کو نہیں جانتے وہی اس کے خلاف لکھ رہے ہیں۔ کئی دوسرے صارفین نے لکھا کہ جو اظہارے رائے کی آزادی کی بات کرتے تھے اب چیخ رہے ہیں۔ یہ ایک دن میں نہیں ہوا ہے۔ اس طرح کی چیزوں کی اظہار رائے کی آزادی کے نام پر اجازت نہیں دی جا سکتی۔
خیال رہے کہ ہولی میں بھی لوگ ایک دوسرے پر رنگ ڈالتے ہیں سوانگ بھرتے ہیں، بھدے بھدے مذاق کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ لوگ یونیورسٹی کے طالب علم بھی نہیں وہ یونیورسٹی کا نام بدنام کرنے کے لیے وہاں آئے تھے۔
-
واٹس ایپ پر خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ جوائن کریں