امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے شدید مخالفت اور افراتفری کی وارننگ کے بعد کورونا وائرس سے بری طرح متاثر نیویارک ریجن کو لاک ڈاؤن نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سنیچر کو رات گئے ٹویٹ کیا کہ ’قرنطینہ کی ضرورت نہیں ہو گی۔‘ اس ٹویٹ سے چند گھنٹے قبل انہوں نے نیویارک کو لاک ڈاؤن کرنے کی تجویز دے کر سب کو حیران کر دیا تھا۔
خیال رہے نیویارک امریکہ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا مرکز ہے اور سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے۔
مزید پڑھیں
-
برطانوی وزیراعظم کورونا وائرس کا شکارNode ID: 467596
-
امریکہ میں کورونا کیسز ایک لاکھ سے اوپرNode ID: 467716
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ وہ دوسری ریاستوں خصوصاً فلوریڈا کے خدشات کہ نیویارک سے آنے والے افراد ان ریاستوں میں کورونا پھیلا سکتے ہیں کا جواب دینے کا سوچ رہے ہیں۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ وائرس سے بری طرح متاثر نیویارک کے لوگ شمال مشرق میں سیاحت کے لیے مشہور فلوریڈا کے لیے خطرہ ہیں۔
لیکن نیویارک کے گورنز انڈریو کیومو اور نیو جرسی کے گورنر نیڈ لیمونٹ کی جانب سے سخت وارننگ کہ مذکورہ اقدام افراتفری پھیلا سکتا ہے اور فنانشل مارکیٹ کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے صدر ٹرمپ نے نیویارک کو لاک ڈاؤن نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا کہ ’ وائٹ ہاؤس کے کورونا وائرس ٹاسک فورس کی تجاویز پر اور نیویارک، نیو جرسی اور کنکٹیکٹ کے گورنرز سے مشاورت کے بعد میں نے ’یو ایس سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن’ سے کہا ہے کہ سخت ٹریول ایڈوائزیری جاری کرے جسے گورنرز مرکزی حکومت کی مشاورت سے لاگو کریں گے۔ قرنطینہ کی ضرورت نہیں۔‘
خیال رہے کورونا وائرس سے دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد چھ لاکھ 40 ہزار سے زائد ہو گئی ہے جبکہ اب تک اس کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بھی 30 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
