حکومت سندھ نے نہایت محدود پیمانے پر کاروبار کھولنے کی اجازت دی ہے۔ فوٹو اے ایف پی
سندھ کی تاجر تنظیموں نے مشروط اور محدود پیمانے پر کاروبار کھولنے کے حکومتی احکامات مجبوراً قبول کر لیے ہیں، جن کے تحت صرف چار دن آن لائن بکنگ اور ہوم ڈیلیوری کی اجازت ہوگی۔ تاہم دوکان اور گودام پر گاہک بلانے اور مکمل شٹر کھول کے رکھنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اس فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔
تاجروں کی جانب سے گزشتہ دو ہفتے سے کاروبار کھولنے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا، تاہم حکومت سندھ نے نہایت محدود پیمانے پر کاروبار کھولنے کی اجازت دی ہے، جسے کراچی اور سندھ کی تاجر تنظیموں کے سربراہان نے مجبوراً قبول کیا ہے۔
تاجروں اور حکومتی عہدیداروں کے مابین طے پائے جانے والے طریقہ کار کے تحت دکان اور گودام پر گاہک نہیں آئیں گے اور نہ ہی مکمل شٹر کھول کے رکھے جائیں گے۔ گاہکوں سے تمام تر ڈیلنگ فون یا واٹس ایپ پر کی جائے گی، صرف سامان کی سپلائی کے لیے شٹر کھولے جائیں گے۔ اس موقع پر بھی صرف محدود عملہ موجود ہوگا جو تمام تر حفاظتی انتظامات کو یقینی بنائے گا۔
جمعے کو رمضان المبارک کے دوران کاروبار کے ایس او پیز کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے وزیرِاعلیٰ نے واضح کیا کہ رمضان کے دوران شام 5 بجے سے صبح 8 بجے تک مکمل لاک ڈاؤن رہے گا اور لوگوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی.
مراد علی شاہ نے بتایا کہ اشیائے ضرورت کی دکانیں صبح 8 سے شام 5 تک کھلیں گی، پکے ہوئے کھانوں کی ڈیلیوری شام 5 سے رات 10 بجے تک ہو سکے گی جبکہ سحری کے اوقات میں کھانے کی ڈیلیوری نہیں ہوگی۔ کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے ایس او پیز کا نوٹیفکیشن محکمہ داخلہ جاری کرے گا۔
سندھ میں صرف چار دن آن لائن بکنگ اور ہوم ڈیلیوری کی اجازت ہوگی (فوٹو: اے ایف پی)
سندھ حکومت کی جانب سے وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ اور وزیرِ تعلیم سعید غنی کی سربراہی میں حکومتی ٹیم کئی دنوں سے تاجروں سے مذاکرات کر رہی تھی۔ گزشتہ چند دنوں میں حکومتی نمائندوں اور تاجر رہنماؤں کے درمیان متعدد بار بیٹھک ہوئی جس میں کاروبار کے بہت سے طریقے زیرِ غور آئے۔ وزیرِاعلیٰ سندھ نے اس سے پہلے مختلف کاروباری شعبوں کو مختلف دنوں میں کھولنے کی تجویز بھی دی تھی جس پر مشاورت ہوئی تھی تاہم بعد میں اتفاق نہیں ہوسکا۔
آل سٹی تاجر اتحاد کے صدر شرجیل گوپلانی نے اردو نیوز کو بتایا کہ جمعرات کی شام کمشنر کراچی کے دفتر میں ہونے والی میٹنگ میں آن لائن کاروبار کے طریقہ کار پر اتفاقِ رائے ہو گیا تھا اور حکومتی عہدیداروں کی جانب سے ہفتے میں چار دن کاروبار کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
دکانیں کھولنے کے طریقہ کار کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تمام تاجر خرید و فروخت اور سودے ٹیلیفون، واٹس ایپ یا آن لائین کریں گے جبکہ دکان میں محدود عملہ ہوگا جو صرف مال کی ڈیلیوری کرے گا۔
’دکان میں گاہک سے کوئی ڈیلنگ نہیں ہوگی بلکہ ساری بات چیت فون پر طے کر کے دکان یا شو روم سے صرف مال کی ڈیلیوری کی جائے گی۔‘
کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسیشن کے سربراہ رضوان احمد نے اردو نیوز کو بتایا کہ حکومت دکانیں کھولنے کا نوٹیفکیشن کل تک جاری کر دیا جائے گا تا کہ پیر سے کاروبار شروع ہو سکے۔
اشیاء ضرورت کی دکانیں صبح 8 سے شام 5 تک کھلیں گی (فوٹو اے ایف پی)
ان کا کہنا تھا کہ تمام شعبوں سے متعلقہ دکانیں صبح 9 بجے سے لے کر دن 3 بجے تک کھلولی جائیں گی جبکہ جمعہ، ہفتہ، اتوار مارکیٹیں بند رہیں گی۔
آن لائن کاروبار کے حوالے سے تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہنگامی بنیادوں پر کچھ طریقہ کار وضع کیے ہیں جن کے ذریعے وہ خرید و فروخت کے معاملات طے کریں گے۔
شرجیل گوپلانی کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک ویب سائٹ بنائی ہے جبکہ واٹس ایپ اور فون پر بھی آرڈر وصول کیے جائیں گے۔
’اس وقت تو پرانے آرڈرز کی ڈیلیوری ہی سب سے ضروری ہے تاکہ مارکیٹ میں پھنسا پیسہ اٹھایا جا سکے۔ فی الحال ہم نئے گاہکوں پر انحصار نہیں کر رہے، بلکہ ملک بھر میں موجود پرانے ڈیلرز کو مال سپلائی کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔‘
حکومت کی جانب سے مشروط اور محدود طریقے سے کاروبار کی اجازت دینا ایک نئی جہت کا آغاز ہے جس کا بنیادی دارومدار انفارمیشن ٹیکنالوجی پر ہوگا اور اس سے نوکری اور کمائی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ وہ تمام دکاندار جو دہائیوں سے دکان کے کاؤنٹر سے مال فروخت کرتے آرہے ہیں اب وہ آن لائن سودے کریں گے۔
آن لائن ریٹیل ایکسپرٹ فراز احمد کا کہنا ہے کہ اس سے نوجوان آئی ٹی پروفیشنلز کو کمائی کے مواقع ملیں گے ساتھ ہی ای- کامرس اور ڈیلیوری سروسز کے شعبے کو بھی ترقی ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کمپیوٹر، موبائل اور الیکٹرانکس سامان کی آن لائن فروخت کا یہ بہترین وقت ہے، اور جو کوئی اس مقصد کے لیے اچھا آن لائن پورٹل بنائے گا اس کی فروخت عام حالات سے بھی بڑھ کر ہوگی۔
دوسری جانب حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دکانیں کھولنے پر گرفتار تاجروں کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر عدالت بھیج دیا گیا ہے۔ حکومت اور تاجروں کی جانب سے کافی دنوں سے جاری مذاکرات کو بے نتیجہ قرار دیتے ہوئے چند تاجروں نے بدھ کو دکانیں کھول لیں تھی جس میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ حرکت میں آئی تھی اور تاجروں کو گرفتار کر کے دکانیں سیل کردی گئی تھیں۔
تاجر رہنما حماد پونا والا و دیگر کا مؤقف تھا کہ وہ حفاظتی تدابیر کا ڈیمو دکھانے کے لیے دکانیں کھول رہے ہیں تا کہ حکومت ان کے انتظامات دیکھ سکے۔ تاہم پولیس نے حکومتی احکامات اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی میں تاجروں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔