عظیم کھلاڑی ریٹائر ہوجانے کے عشروں بعد بھی خبروں میں رہتے ہیں اور چاہنے والوں کے دلوں میں بھی۔ ماضی کے عظیم پاکستان کرکٹر ظہیر عباس کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔
سنہ 2015 میں وہ آئی سی سی کے صدر بنے۔ حال ہی میں انھیں آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل کیا گیا ہے۔ ادھر گذشتہ ماہ کرکٹ کی معروف ویب سائٹ ’کرک انفو‘ میں پاکستان کے پانچ سٹائلش بیٹسمینوں پر مضمون شائع ہوا توان میں ظہیر عباس کا نام شامل تھا۔
انگلینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز میں پاکستانی بیٹسمینوں کی ناقص کارکردگی بھی ان کی یاد دلاتی رہی۔
مزید پڑھیں
-
عمران، بوتھم سلیم یوسف پر برہم کیوں ہوئے؟Node ID: 499981
-
ظہیر عباس آئی سی سی ہال آف فیم میںNode ID: 500521
-
جب ماجد نے انگلش ٹیم کے چھکے چُھڑائےNode ID: 502111
سنہ1971 میں ایجبسٹن ٹیسٹ میں ظہیر عباس نے اپنے دوسرے اور انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں 274 رنز کی معرکہ آرا اننگز کھیلی جو کرکٹ کے عالمی منظر نامے پر، ایک بڑے کھلاڑی کی آمد کا اعلان تھی۔
میچ کے پہلے اوور کی تیسری گیند پر آفتاب گل زخمی ہوئے اور انھیں ریٹائرڈ ہرٹ ہونا پڑا۔ فاسٹ بولر ایلن وارڈ کی گیند ان کے سر پر لگی تھی۔ خوف کی اس فضا میں، آنکھوں پر چشمہ جمائے نوجوان ظہیر عباس میدان میں داخل ہوئے اور پھر ایسی دلکش اننگز کھیلی جسے بھلایا نہ جاسکے۔
سنہ 1974 کے دورہ انگلنیڈ میں ظہیر عباس نے اوول ٹیسٹ میں 240 رنر بنائے۔ ان دو اننگزوں کا خیال اس لیے آیا کہ حالیہ سیریز میں کسی پاکستانی بیٹسمین کا مجموعی سکور بھی ان کی کسی ایک اننگز کے سکور کے برابر نہیں پہنچا۔ کپتان اظہر علی نے تین ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ 210 رنز بنائے۔ پاکستانی بیٹسمنوں کی خراب کارکردگی سے عامر سہیل کے 1992 میں، مانچسٹر ٹیسٹ میں ایک دن میں بنائے 205 رنزکی طرف بھی ذہن منتقل ہوا۔
یہ ان کا تیسرا ٹیسٹ میچ تھا۔ اظہر علی کو چھوڑ کر کوئی پاکستانی کھلاڑی پوری سیریز میں اتنے رنز بھی نہ بنایا جتنے عامر سہیل نے ایک دن میں بنا لیے تھے۔
ظہیر عباس کو ’ایشین بریڈمین‘ کہا جاتا ہے۔ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں سنچریوں کی سنچری بنانے والے واحد ایشیائی بیٹسمین ہیں۔ اس کارنامے سے رنز بنانے کے لیے ان کی اشتہا کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسی واسطے انھیں رنز مشین کہا جاتا۔

آٹھ دفعہ انھوں نے فرسٹ کلاس میچ کی دونوں اننگز میں سنچری بنائی۔ ان میں سے بھی چار موقعوں پر ایک اننگز میں ڈبل سنچری اورایک میں سنچری سکور کی۔ 100ویں سنچری انھوں نے انڈیا کے خلاف ٹیسٹ میں ڈبل سنچری کی صورت بنائی۔
ظہیر عباس بڑے دلکش سٹائل میں بیٹنگ کرتے تھے۔ کمال کی ٹائمنگ، عمدہ فٹ ورک، کلائیوں کا عمدگی سے استعمال، فاسٹ اور سپن بولروں کو کھیلنے میں یکساں مہارت۔
جس طرح مصوربرش سے سٹروک لگا کہ فن پارہ تخلیق کرتا ہے اسی طرح ظہیر عباس بیٹ سے سٹروک لگا کر اننگز بناتے سنوارتے، اسے مزین کرتے۔
ٹیسٹ اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں ظہیر عباس کے کارناموں کے گہرے سایوں میں، ون ڈے کرکٹ میں ان کی کارکردگی شائقینِ کرکٹ کی نظروں سے ذرا اوجھل رہی۔
کرکٹ کے اس نئے فارمیٹ کے ساتھ انھوں نے بڑی آسانی سے خود کو ہم آہنگ کیا اور بڑی سہولت سے جارحانہ اندازمیں سکور کرتے رہے، جس کا اندازہ 84.80 کے سٹرائیک ریٹ سے ہوتا ہے۔
اس زمانے میں ہزار سے زائد رنز بنانے کھلاڑیوں میں صرف ویوین رچرڈز اور کپیل دیو کا سٹرائیک ریٹ ان سے بہتر تھا۔ ان کے بعد پاکستان کے ون ڈے کے چند بڑے ناموں مثلاً جاوید میانداد، انضمام الحق، محمد یوسف اور سعید انور، ان سب کا سٹرائیک ریٹ اور بیٹینگ اوسط ظہیر عباس سے کم ہے۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ظہیر عباس نے، ان کے مقابلے میں بہت کم یعنی 62 میچ کھیلے لیکن یہ میچ ان کی کلاس کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہیں۔ سات سنچریوں کی مدد سے انھوں نے 2572 رنز 47.62 کی اوسط سے بنائے۔

عمران خان نے اپنی کتاب میں انھیں ون ڈے میں اعلیٰ درجے کا بیٹسمین قرار دیا۔ معروف کرکٹ رائٹر عثمان سمیع الدین نے گذشتہ برس ورلڈ کپ کے حوالے سے پاکستان کی آل ٹائم گریٹ الیون بنائی تو اس میں ظہیر عباس کو بھی جگہ دی۔
ظہیر عباس نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ون ڈے کرکٹ سے وابستہ رہیں گے لیکن اس وقت عمران خان کا ان پر اعتماد ختم ہوچکا تھا۔
عمران خان نے اپنی کتاب ’آل راﺅنڈ ویو‘ میں لکھا ہے کہ 80 کی دہائی میں فاسٹ بولنگ کا سامنا کرنے میں ظہیر عباس کو مشکل پیش آنے لگی۔ ان کے خیال میں ویسٹ انڈیز کے بولر سلویسٹر کلارک کی گیند سر پر لگنے کے بعد ظہیر عباس پہلے والے ظہیر عباس نہ رہے۔ ظہیر عباس کا بین الاقوامی کرکٹ کرئیر تین نومبر 1985 کو سری لنکا کے خلاف ون ڈے میچ کے بعداختتام کو پہنچا۔
اس زمانے میں عمران خان کے خلاف ان کے بیانات بھی اخبارات میں شائع ہوتے رہے۔
عمران خان کیریئر کے آخری زمانے میں زوال کے ہی شاہد نہیں، اس وقت کے بھی گواہ ہیں جب ایک دفعہ اپنے زمانۂ عروج میں ظہیرعباس خود پر اعتماد کھو بیٹھے تھے۔ اس بات کا ذکر انھوں نے زبانی بھی کیا اور اسے اپنی کتاب ’Pakistan: A Personal History‘ میں بھی درج کردیا ہے:
