حکومت اس وقت عجلت اور غفلت دونوں کا شکار ہے۔
عجلت کی جھلک سینیٹ کے انتخابات میں سرعت دکھانے کی وجہ سے ظاہر ہوتی ہے۔ شو آف ہینڈز کی قدغن لگانے سے ظاہر ہوتی ہے۔ شو آف ہینڈز بات تو اچھی ہے لیکن یہ بات اس وقت منصۂ شہود پر آئی جب خفیہ رائے شماری کی سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا چکا ہے۔
سینیٹ کے گزشتہ الیکشن کسے یاد نہیں۔ چیئرمین سینیٹ کا انتخاب کسے بھول سکتا ہے۔ اس وقت خفیہ رائے دہی اپنے تمام کمالات کے ساتھ اخفا کے ڈسپلن توڑتی ہوئی ظاہر ہوئی تھی۔ اس وقت کسی کو شو آف ہینڈز کا طریقہ یاد نہیں آیا۔
مزید پڑھیں
-
خفیہ ووٹنگ کے متبادل شو آف ہینڈز کا کیا مطلب اور یہ ہو گا کیسے؟Node ID: 525066
-
سینیٹ الیکشن وقت سے پہلے کرائیں گے: عمران خانNode ID: 525356
-
’سینیٹ انتخابات شو آف ہینڈ نہیں بلکہ اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوں گے‘Node ID: 525611
اب حکومت کے اتحادی خاموش ہیں۔ ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی دل برداشتہ ہیں۔ اڑتے پرندے پھر اڑان بھرنے کو تیار ہیں۔ ق لیگ، جی ڈے اے اور ایم کیو ایم جیسی بنیادوں پر کھڑی یہ حکومت لرزہ براندام ہے۔ اس وقت حکومت کو جتنی ضرورت اپنے اتحادیوں کی تھی پہلے کبھی نہیں تھی۔
اس کڑے وقت میں اتحادی منہ میں گھنگنیاں ڈالے بیٹھے ہیں۔ سینیٹ الیکشن میں بھی اسی ردعمل کی توقع ہے۔ شو آف ہینڈز ممکن نظر نہیں آتا۔ اس کے لیے آئینی ترمیم میں اپوزیشن سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ شو آف ہینڈ نہیں ہو سکے گا تو بھرم ٹوٹ جائے گا۔ اتحادی، اختلافی منصب پر فائز ہو جائیں گے اور سیٹ اپ کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔
اپوزیشن اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دے گی۔ اب ’انتقام کا بدلہ‘ لینے کی تیاری ہو رہی ہے۔ کوئی جماعت مذاکرات کی حکومتی پیشکش قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اب معاملات بہت آگے بڑھ چکے ہیں۔ اب اپوزیشن کے ہدف کا تعین ہو چکا ہے۔ میمنہ اور میسرہ کی صف بندی ہو چکی ہے۔ تیر کمان سے نکل چکے ہیں۔ اب صرف اس حکومت کے گرنے کا تماشا دیکھنا باقی رہ گیا ہے۔

اپوزیشن لانگ مارچ پر مصر ہے۔ جنوری تک استعفے دے دیے جائیں گے۔ اگر ایسا ہو گیا تو شاید اس کے بعد سینیٹ الیکشن کی نوبت ہی نہ آئے۔ حکومت کے گرنے کے امکانات یہ ہو سکتے ہیں۔ اپوزیشن مستعفی ہو جائے تو استعفوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ نئے الیکشن نوشتہ دیوار بن جائیں۔
دوسرا تحریک عدم اعتماد لائی جائے اور اتحادی خاموش رہیں تو حکومت گر جائے گی۔ ایک تیسرا امکان فارن فنڈنگ کیس کی صورت میں بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔ اگر اس کیس کا فیصلہ عمران خان صاحب کے خلاف آ جاتا ہے تو وزیرِاعظم ہی نہیں اس پارٹی پر ہی پابندی لگ سکتی ہے۔
اپوزیشن نے لانگ مارچ کے لیے فروری کی تاریخ دی ہے لیکن اس سے پہلے بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ امریکہ میں حکومت کی تبدیلی ہو جائے گی۔ ٹرمپ حکومت گھر چلی جائے گی۔ بائیڈن انتظامیہ اختیار سنبھال لے گی۔
ڈیموکریٹس کی نئی حکومت جمہوری سیٹ اپ کی ہمیشہ مدد معاون ہوتی ہے۔ یہاں میڈیا قید، صحافی زیرعتاب اور آزادی اظہار پر قدغنیں ہیں۔ 20 جنوری کو امریکہ میں حکومت کی تبدیلی ہونی ہے۔ لانگ مارچ فروری کے آغاز میں واقع پذیر ہونا ہے۔ ان مثالوں سے حکومت کی عجلت کی مثالیں تو سمجھ آتی ہیں لیکن غفلت کی وجوہات کچھ اور ہیں۔

حکومت کو احساس نہیں کہ اس کے ’خیر خواہ‘ خود مشکل کا شکار ہیں۔ جگہ جگہ ان کے نام لے کر الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ بات اب ڈرائنگ روموں سے نکل کر گلی محلے تک پہنچ گئی ہے۔ آپ کسی چھابڑی والے سے بھی پوچھ لیں کہ حکومت کیسے معرض وجود میں آئے وہ اپ کو درست جواب دے گا۔
جلسوں کی ایسی تقاریر اگرچہ ٹی وی پر میوٹ کر دی جاتی ہیں مگر سوشل میڈیا پر قدغن نہیں لگ سکتی۔ نواز شریف نے اپنی ہر تقریر میں یہ بات کہی ہے کہ وہ فوج کے ادارے کا احترام کرتے ہیں۔ سرحدوں پر کھڑے سپاہی کی عزت کرتے ہیں۔ ان کو پلکوں پر بٹھاتے ہیں۔
ان کا مسئلہ ادارے کے ساتھ ہے بھی نہیں وہ کرداروں کی بات کرتے ہیں۔
اب گفتگو صرف علامانہ اور جمہوری فلسفے کی نہیں رہی۔ اب نام لیے جا رہے ہیں۔
