سعودی خاتون ڈاکٹر ایمان المنصور جنہوں نے ملک کی پہلی کورونا ویکیسن بنائی
سعودی خاتون ڈاکٹر ایمان المنصور جنہوں نے ملک کی پہلی کورونا ویکیسن بنائی
جمعرات 28 جنوری 2021 20:50
ویکسین کے لیے پلازمڈ (پی) اور ڈی این اے کا طریقہ کار اپنایا گیا ہے (فوٹو: سعودی میڈیا)
ڈاکٹر ایمان المنصور نے پہلی بار ملکی سطح پر تیار ہونے والی ویکسین سعودی عرب کو فراہم کر دی ہے۔
امام عبدالرحمان بن فیصل یونیورسٹی سے بطور اسسٹنٹ پروفیسر وابستہ ڈاکٹر ایمان المنصور اور ان کی ٹیم نے پہلی بار سعودی کورونا ویکسین تیار کی ہے۔
ویکسین کے حوالے سے ابتدائی کام جون کے وسط تک ادارہ برائے تحقیق و طبی مشاورت (آئی آر ایم سی) میں مکمل کیا گیا یہ ادارہ آئی اے یو کے ساتھ منسلک ہے اور وزارت تعلیم اس کی مالی معاونت کرتی ہے۔
میساچوسٹیس یونیورسٹی سے بائیومیڈیکل انجینئرنگ اینڈ بائیوٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کرنے والی ڈاکٹر المنصور نے پلازمڈ (پی) اور ڈی این اے کے طریقہ کار کے تحت ویکیسن بنائی ہے۔
یہ طریقہ کار اپنے کچھ ایسے فوائد کے لیے مشہور ہے جن میں مضبوط بناوٹ، اعلیٰ حفاظتی پروفائل اور تھرمل استحکام شامل ہیں۔
ایم آر این اے طریقہ کار کے برعکس جس کو فائز اور موڈرنا ویکسین کے لیے استعمال کیا گیا جن کو انتہائی کم درجہ حرارت پر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ (پی) ڈی این اے طریقہ کار درجہ حرارت کے لحاظ سے زیادہ مستحکم ہے۔
اس لیے یہ ویکسین ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی اور ذخیرہ کرنے کے معاملے میں زیادہ فائدہ مند ہے۔
ٹیم کے ریسرچ پیپر کے مطابق ویکسین کے پوری طرح موثر ہونے کے لیے تین خوراکیں لیا جانا ضروری ہو گا (فوتو: اے ایف پی)
ڈاکٹر المنصور اور ان کی ٹیم کی جانب سے بنائی جانے والی ویکسین سانس کی بیماری کورونا وائرس ٹو (سارس، کووٹو) کی بدلی شکل سے متعلق ہے اور یہی وائرس کووڈ 19 کا بھی باعث بنا ہے۔
ویکسین کے حوالے سے ڈاکٹر المنصور نے عرب نیوز کو بتایا کہ یہ ویکسین جسم کے اندرونی خلیوں کو طاقت دیتی ہے جس سے جسم میں قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے۔
ٹیم کی جانب سے جاری ہونے والے ریسرچ پیپر میں بتایا گیا ہے کہ ویکسین کے پوری طرح موثر ہونے کے لیے تین خوراکیں لیا جانا ضروری ہو گا۔
سعودی عرب کی اس ویکسین کو اگلے مرحلے تک لے جانے سے قبل متعلقہ حکام کی جانب سے منظوری لی جائے گی۔