ترک صدارتی ترجمان اور صدر کے مشیر ابراہیم کالن نے کہا ہے کہ’ ترکی سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنے کا خواہاں ہے‘۔
عرب نیوز کے مطابق ترک صدر کے ترجمان کا برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے ساتھ انٹرویو میں کہنا تھا کہ ’امید ہے کہ ترک مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لیا جائے گا۔‘
’ہم سعودی عرب کے ساتھ زیادہ مثبت ایجنڈے کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے راستے نکالیں گے۔‘
مزید پڑھیں
-
’ترکی بحیرہ روم میں تصادم کا خطرہ مول لے رہا ہے‘Node ID: 502916
-
امریکہ کی اردوغان کے خلاف پالیسی انقرہ کے لیے ’خطرے کی گھنٹی‘Node ID: 537166
خیال رہے سعودی بزنس مینوں کی جانب سے ترک مصنوعات کے غیراعلانیہ بائیکاٹ کے بعد ترکی اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ سال کے دوران دوطرفہ تجارت کے حجم میں 98 فیصد کمی ہوئی ہے۔
کالن کا مزید کہنا تھا کہ’ ترک ایوان صدر سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی عرب میں آٹھ افراد کے ٹرائل اور سزاؤں کا خیر مقدم کرتا ہے‘۔
ابراہم کالن کا کہنا تھا ’ان کی ایک عدالت ہے جہاں ٹرائل ہوا اور ایک فیصلہ ہوا جس کا ہم احترام کرتے ہیں۔‘
ترک صدارتی ترجمان کا روئٹرز کے ساتھ انٹرویو ایک ایسے وقت ہوا جب اگلے ماہ ترکی اور مصر کے درمیان بات چیت ہونے جارہی ہے اور انقرہ کو امید ہے کہ اس بات چیت کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون بحال ہوگا۔
ترکی اور مصر کے درمیان تعلقات 2013 میں اس وقت خراب ہوئے جب مصر کی فوج نے اخوان سے تعلق رکھنے والے صدر مرسی کو اقتدار سے ہٹا دیا جو کہ ترکی کے قریبی حلیف تھے۔
تاہم حالیہ دنوں کے اندر ترکی نے مصر اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کو کوشش شروع کر دی ہے۔ انقرہ ان ممالک کے ساتھ اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو کہ اسے خطے میں تنہائی سے دوچار کرنے کا سبب بنے ہیں۔
دونوں ممالک کے انٹیلیجنس چیفس اور وزرائے خارجہ آپس میں رابطے میں ہیں اور کالن کا کہنا ہے کہ ترک سفارتی مشن مئی کے شروع میں مصر کا دورہ کرے گا۔
’برسرزمین حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے میرا خیال ہے کہ دونوں ممالک اور خطے کے مفاد میں ہیں کہ تعلقات کو معمول پر لایا جائے۔‘
مصر کی جانب خیرسگالی کے طور پر انقرہ نے گزشتہ مہینے ملک میں موجود مصری اپوزیشن سے وابستہ ٹیلی ویژن چینلوں کو کہا تھا کہ وہ مصری صدر سیسی پر تنقید میں اعتدال کا مظاہری کریں۔
مصر نے انقرہ کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا تھا لیکن ترکی کی جانب سے تعلقات بہتر کرنے کی خواہش کا مثبت جواب دینے میں مختاط رویہ اپنایا تھا۔
