چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ انڈین ہائی کمیشن کے وکیل نے ایک متفرق درخواست دائر کی جس سے لگتا ہے کہ انڈیا کو اس عدالت کی کارروائی سے متعلق کوئی غلط فہمی ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا انڈیا عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد کرنے کو تیار نہیں ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں لگ تو کچھ ایسا ہی رہا ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہانڈیا نے پاکستان کی کلبھوشن کے لیے وکیل مقرر کرنے کی تجویز کو مسترد کیا۔ ’انڈیا کا کا موقف ہے کہ پاکستانی عدالتوں میں پیش ہونا ان کی خودمختاری کے خلاف ہے۔‘
اٹارنی جنرل کے مطابق انڈیا نے چار دیگر قیدیوں کے کیس میں اسی عدالت سے رجوع کیا۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کیس میں انڈین کو خودمختاری کا اعتراض ہے تو دیگر قیدیوں کے کیس میں کیوں نہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ انڈیا اپنا نمائندہ مقرر کر کے اس عدالت کو یہ تو بتا دے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دوران سماعت کہا کہ انڈیا کی خودمختاری پر قطعاً کوئی شک نہیں۔ انڈیااتنی معاونت کر دے کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد کیسے کرانا ہے۔اس کیس میں انڈیا کی خودمختاری کا تو سوال ہی نہیں۔
کلبھوشن یادیو کو 2016 میں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا (فوٹو: اے پی پی)
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس عدالت کے تمام آرڈر کمانڈر کلبھوشن یادیو تک پہنچائے گئے۔ ’کلبھوشن یادیو اب تک اپنے موقف پر قائم ہے کہ اس نے عدالت سے رجوع نہیں کرنا۔‘
اٹارنی جنرل نے عدالت کو کہا کہ ’انڈیا کا جواب نہیں آتا تو عدالت کسی پاکستانی وکیل کو کلبھوشن کے لیے مقرر کرے۔‘
سینیئر قانون دان حامد خان بطور عدالتی معاون عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ اس موقعے پر انہوں نے کہا کہحکومت پاکستان کو کلبھوشن کے لیے خود عدالت نہیں آنا چاہیے تھا۔
اس پر اٹارنی جنرل نے کہا 'ایسا نہیں ہے کہ ہم انڈیا کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ پاکستانیوں کے قاتل کے لیے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔'
اٹارنی جنرل کے مطابق عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد کے لیے آرڈیننس بھی جاری کیا۔ یکم جنوری 2021 کو انڈیا عالمی سطح پر دوبارہ کارروائی چاہ رہا تھا۔ یہاں پاکستان کی عدالت میں کیس زیر التوا ہونے کی وجہ سے وہ کارروائی شروع نہیں کرا سکے۔