مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم نواز شریف اور سابق سینیٹر پرویز رشید کے درمیان ہونے والی مبینہ ٹیلی فونک گفتگو کے منظر عام پر آنے کے بعد ذرائع ابلاغ میں کافی بحث جاری ہے۔
اس ٹیلی فونک گفتگو میں مریم نواز کی جانب سے صحافیوں کو تحفے دینے کی بات پر تنقید ہو رہی ہے جبکہ اس گفتگو کی دوران پرویز رشید کی جانب سے جیو نیوز چینل کے پروگرام کے تجزیہ کاروں کے بارے میں نامناسب الفاظ کہنے پر کافی تنقید کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
-
پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ہیلمٹ پہن کر نکلیں: مریم نوازNode ID: 628871
منگل کو اس مبینہ آڈیو ٹیپ کے سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گل سمیت متعدد لوگوں نے اس گفتگو کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’تازہ آڈیو میں مریم نواز نے سینیئر صحافیوں کے بارے میں نازیبا کلمات استعمال کیے۔‘
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’اس پر صحافتی تنظیمیں اور پریس کلبز خاموش کیوں ہیں۔‘
لیکن دوسری جانب صحافتی تنظیموں نے بھی فون کال میں جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ کے پینل کے شرکا کے متعلق پرویز رشید اور مریم نواز کے الفاظ پر احتجاج کیا ہے۔
’ہماری پنجابی محاوراتی زبان ہے‘
اس آڈیو ٹیپ کے سامنے آنے کے دو دن بعد جمعرات کو مسلم لیگ نواز پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ سے ایک پریس کانفرنس کے دوران سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’اس آڈیو کو جتنا میں نے سنا ہے اس میں مریم نواز نے کوئی قابل اعتراض بات نہیں کی لیکن پروز رشید صاحب نے یہ کہا ہے کہ ہمارے اوپر..... کے لیے چھوڑ دیے گئے ہیں۔ آپ کو پتا ہے کہ ہماری پنجابی محاوراتی زبان ہے۔‘
’ہمیں لوگ آ کر کہتے ہیں کہ آپ نے فلاں پروگرام کیا اس میں فلاں آپ کے خلاف.... ہے۔ ممکن ہے پرویز رشید صاحب سے بھی کسی نے ایسے کہا ہو اور انہوں نے انہی الفاظ میں یہ کہہ دیا ہو۔ ورنہ پرویز رشید صاحب تو بہت شریف النفس آدمی ہیں۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ برس 16 جون کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے اراکین کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی اور اس دوران گالیوں کا استعمال بھی ہوا۔
اس واقعے کے بعد جب مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی روحیل اصغر سے گالیوں کے استعمال سے متعلق سوال پوچھا گیا تو انہوں فوری طور پر جواب دیا کہ ’یہ پنجاب کا کلچر ہے‘ اور پھر یہ ویڈیو وائرل ہوگئی۔
اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے آفیشنل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی یہ ویڈیو پوسٹ کی گئی اور اس پر تنقید کی گئی۔
اس وقت مسلم لیگ نواز کے ایک رہنما عابد شیر علی نے بھی ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ ’مجھے روحیل اصغر صاحب کے ان خیالات سے شدید اختلاف ہے اور میں اس کی شدید مذمت کرتا ہوں۔‘
اس حوالے سے اردو نیوز نے پنجابی زبان کے ادیبوں اور مصنفین سے رابطہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کہ کیا گالی پنجاب کا کلچر ہے یا یہ پنجابی زبان کا لازمی جزو ہے؟
’محاورے کا استعمال دنیا کی ہر زبان میں ہوتا ہے‘
پنجابی زبان کے ممتاز فکشن نگار نین سُکھ کا کہنا تھا کہ ’دنیا کی ہر زبان میں گالی موجود ہے اور اس کا استعمال ہوتا ہے۔ جو آپ کا مخالف ہے، آپ اس کے لیے ایسی آواز کا ذکر کرتے ہیں جو آپ کو ناپسند ہو۔‘
’گالی کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ پنجابی کا کلچر ہے، درست نہیں، محاورے کا استعمال دنیا کی ہر زبان میں ہوتا ہے۔‘
نین سکھ نے میاں محمد بخش کا ایک شعر بھی سنایا:
خاصاں دی گل عاماں اگے نئیں مناسب کرنی
مٹھی کھیر پکا محمدا کتیاں اگے دھرنی
(دانشمند لوگوں کے سمجھنے کی لیے کی جانے والی بات بے وقوفوں کے سامنے نہیں کیا کرتے۔ (یہ ایسے ہی ہے جیسے) میٹھی کھیر پکا کر کتوں کے سامنے رکھ دی جائے۔)

’گالی کسی ایک زبان کے ساتھ خاص نہیں‘
پنجابی زبان کے ممتاز لکھاری اور دانشور مشتاق صوفی کہتے ہیں کہ ’دنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں کہ جس میں گالیاں موجود نہ ہوں۔‘
مشتاق صوفی کے بقول ’گالی پوری دنیا کے سماج کے کلچر کا حصہ ہے۔ یہ خاص قسم کے غصے کے نکاس کا طریقہ ہے جسے دوسرے شخص کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنائے بغیر استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی اس سے آدمی کا کتھارسس ہوجاتا ہے۔‘
’اپنی زبان میں گالی کا فوری اثر ہوتا ہے کیونکہ وہ اس شخص کے لاشعور اور وجود کا حصہ ہوتی ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ پنجابی اپنی زبان سے پیار نہیں کرتے، وہ اس زبان کا خاص طور پر غصے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اس لیے اس کے بارے میں منفی تأثر بنا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’میں نے 2002 میں سچل سٹوڈیو میں ایک رسالہ دیکھا، جس میں خبر تھی کہ فرانس کے کسی شہر میں شیکسپیئر کا ڈراما اس لیے بین کر دیا گیا کہ وہ بڑا فحش اور گالیوں سے بھرا ہوا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ گالی زبان کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ سماج کا حصہ ہے اور مختلف طبقے اس کا مختلف انداز میں استعمال کرتے ہیں۔
’پنجابیوں نے چونکہ اپنی زبان چھوڑ رکھی ہے، اس لیے اس حوالے سے طبقاتی تعصب بھی پایا جاتا ہے۔‘
’یہ زبان کا سوال ہی نہیں ہے‘
پنجابی زبان و ثقافت کے فروغ کے لیے کوشاں سیاسی و سماجی کارکن اور پبلشر امجد سلیم منہاس کا موقف بھی کم و بیش ایسا ہی ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں ’سیاست، صحافت اور سماجیات میں مہذب زبان استعمال کرنی چاہیے۔‘
ان کیا کہنا تھا کہ ’دنیا کی ہر زبان کے انتہائی مقامی لہجے میں گالیوں کا استعمال ہوتا ہے بلکہ انگلش لٹریچر، فلم اور میوزک میں آپ کو ایسے الفاظ بکثرت ملتے ہیں۔‘
سیاست میں استعمال ہونے والی زبان پر بات کرتے ہوئے انہوں اپنے والد کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا۔
