دعا زہرہ کو عدالت میں پیش کیوں نہیں کرتے؟ لاہور ہائیکورٹ
دعا کے والد نے نامعلوم افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کروایا تھا (فائل فوٹو: پنجاب پولیس)
لاہور ہائیکورٹ نے مبینہ اغوا کیس میں پولیس کو دعا زہرہ کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
منگل کو جسٹس طارق شیخ نے پسند کی شادی کرنے والی دعا زہرہ کی ساس اور جیٹھ کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔
درخواست گزاروں کے وکیل رائے خرم نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب اور سندھ کی پولیس مسلسل درخواست گزاروں کو ہراساں کر رہی ہے۔
عدالت نے کہا کہ ’درخواست زیر التوا رہے گی، پولیس اپنا کام کرے۔‘
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’دعا زہرہ نے ظہیر احمد کے ساتھ مرضی کی شادی کی۔ دعا زہرہ نے پنجاب آ کر ظہیر کے ساتھ نکاح کیا اور لاہور کی عدالت میں دفعہ 164 کا بیان دیا۔‘
جسٹس طارق سلیم شیخ نے وکیل رائے خرم سے استفسار کیا کہ دعا زہرہ کہاں ہیں؟ جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہیں۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ دعا زہرہ کو جب عدالت بلائے گی تو اس آنا پڑے گا۔
عدالت نے کہا کہ ’آپ کیوں دعا زہرہ کو پیش نہیں کرتے۔ جب پولیس انکوائری کرتی ہے تو آپ عدالت آ جاتے ہیں۔‘
اپریل میں کراچی کے علاقے الفلاح سے دعا زہرہ لاپتا ہوئی تھیں۔ دعا کے والد نے نامعلوم افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کروایا تھا۔
دعا زہرہ کی شادی کے بارے میں ان کے والد کو سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا تھا۔
دعا نے ایک ویڈیو میں کہا تھا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے گھر چھوڑا ہے اور ظہیر احمد سے پسند کی شادی کی ہے۔