Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’کوئی سیاسی بیان نہیں دیا، جوڈیشل کمیشن بنانے پر اعتراض نہیں‘

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ ’جوڈیشل کمیشن پر اعتراض نہیں، ہم مکمل تعاون کریں گے‘ (فائل فوٹو: آئی ایس پی آر)
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ ’انہوں نے گذشتہ روز کوئی سیاسی بیان نہیں دیا بلکہ ترجمان پاک فوج کی حیثیت سے بیان دیا تھا۔‘
بدھ کو نجی ٹی وی چینل ہم نیوز پر بات کرتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں واضح کردیا گیا تھا کہ ’سازش کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔‘
’اجلاس میں کسی سروسز چیف نے یہ نہیں کہا کہ ‘سازش ہوئی ہے۔ سازش کا لفظ کمیٹی کے اعلامیے میں بھی شامل نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں رائے نہیں تھی، انٹیلی جنس کی بنیاد پر رپورٹ تھی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’غیر ملکی مراسلے کے معاملے پر کمیشن بنانے کا اختیار گذشتہ حکومت کے پاس بھی تھا اور موجودہ حکومت کے پاس بھی ہے۔‘
’مراسلے پر جوڈیشل کمیشن بنانے پر کوئی اعتراض نہیں، ہم مکمل تعاون کریں گے۔‘
میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتے ایک پروگرام میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا تھا کہ کمیٹی میں کسی سروس چیف نے نہیں کہا کہ سازش ہوئی، وہ یہ تاثر دینا چاہ رہے تھے کہ وہ ان کے نمائندے کے طور پر بات کر رہے ہیں۔‘
ترجمان پاکستانی فوج نے کہا کہ ’میں نے یہ ضروری سمجھا کہ اسی پروگرام میں جا کر سروسز چیفس کے ترجمان کی حیثیت سے اس کی وضاحت کروں۔‘
’میں نے کہا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سروسز چیفس اور ڈی جی آئی ایس آئی کی جانب سے واضح طور پر کہا گیا تھا کہ سازش کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اس میں کوئی سیاسی بات نہیں۔‘

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں واضح کردیا گیا تھا کہ ’سازش کے کوئی ثبوت نہیں ملے‘ (فائل فوٹو: پی ایم آفس)

’قومی سلامتی کا مسئلہ تھا تب ہی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سروسز چیفس کو بلایا گیا اس کے لیے ایجنڈا پہلے سے طے ہوتا ہے۔‘
آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق ’اس میں سروسز چیفس اور ڈی جی آئی ایس آئی اپنی اِن پُٹ لے کر جاتے ہیں وہ رائے نہیں ہوتی، آج کسی نے یہ بھی کہا کہ یہ ان کی رائے ہے، یہ ہماری رائے ہے۔‘
’میں سروسز چیفس کے ترجمان کی حیثیت سے آپ کو بتا سکتا ہوں کہ یہ رائے نہیں تھی بلکہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر معلومات تھیں، اور حقائق کو دیکھ کر یہ اِن پُٹ دی گئی اور اسی وجہ سے وہاں پر موجود قیادت نے اعلامیے میں سازش کا لفظ شامل نہیں کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی ہمارا ادارہ اور ایجنسی اپنی اِن پُٹ دے گی، یہ جیسے اپنی تسلی کے لیے لے کر جانا چاہتے ہیں یہ ان کا فیصلہ ہے۔‘

شیئر: