صوبہ پنجاب کے ضمنی انتخابات: کس حلقے میں کیا ہو رہا ہے؟
صوبہ پنجاب کے ضمنی انتخابات: کس حلقے میں کیا ہو رہا ہے؟
اتوار 10 جولائی 2022 6:38
رائے شاہنواز -اردو نیوز، لاہور
پی ٹی آئی نے تین نشستوں پر ریٹائرڈ فوجی افسران کو ٹکٹ جاری کیے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں ضمنی انتخابات 17 جولائی کو ہو رہے ہیں۔
یہ انتخابات دو وجوہات کی بنا پر اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ ایک یہ کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا دارومدار اب ان 20 حلقوں پر ہے جو وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز اور سپیکر پرویز الٰہی کی قسمت کا فیصلہ کریں گے (پرویز الٰہی تحریک انصاف کے وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں)۔
دوسری بڑی وجہ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کا بیانیہ ہے۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن اس وقت ملکی معیشت کی زبوں حالی کا الزام ایک دوسرے پر عائد کر رہی ہیں۔ ان 20 حلقوں کے نتائج بہرحال یہ بتانے کے لیے کافی ہوں گے کہ کس جماعت کے بیانیے کا پلڑا بھاری ہے۔
خیال رہے کہ ان 20 نشستوں پر 2018 کے انتخابات کے بعد جیتنے والے تمام امیدوار تحریک انصاف سے تعلق رکھتے تھے۔ تاہم وزارت اعلیٰ کے لیے حمزہ شہباز کو ووٹ دینے پر الیکشن کمیشن نے ان اراکین کو ڈی سیٹ کر دیا تھا۔
معرکہلاہور
ان ضمنی انتخابات میں سب سے زیادہ چار نشستوں پر انتخابات صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہو رہے ہیں۔
اگر حلقہ وار ان کا جائزہ لیں تو سب سے پہلے پی پی 158 کا نمبر آتا ہے۔ یہ حلقہ گڑھی شاہو، مصطفی آباد، لال کرتی کینٹ اور شاہ جمال تک پھیلا ہوا ہے۔ اس حلقے سے 2018 کے انتخابات میں اس وقت کے تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کامیاب ہوئے تھے۔ علیم خان نے 52 ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار رانا احسن شرافت 45 ہزار سے زائد ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
اب مسلم لیگ ن نے ٹکٹ دوبارہ احسن شرافت کو جاری کیا ہے۔ جنہیں اب علیم خان، پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم کی حمایت حاصل ہے۔ ان کے مقابلے میں تحریک انصاف نے میاں اکرم عثمان کو ٹکٹ جاری کیا ہے جو کہ پارٹی راہنما میاں محمود الرشید کے داماد ہیں۔
ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ایاز صادق مستعفی ہو گئے تھے۔ فوٹو: اے ایف پی
لاہور کا دوسرا حلقہ پی پی 167 ہے اس حلقے سے 2018 میں تحریک انصاف کے نذیر احمد چوہان نے مسلم لیگ ن کے میاں محمد سلیم کو ہرا کر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ اب مسلم لیگ نے نذیر چوہان کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔ جبکہ تحریک انصاف نے اپنے ایک کارکن شبیر گجر کو میدان میں اتارا ہے۔ نذیر چوہان کا شمار جہانگیر ترین کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ یہ حلقہ جوہر ٹاؤن اور وفاقی کالونی کے علاقوں پر مشتمل ہے۔
صوبائی دارالحکومت کا تیسرا حلقہ پی پی 168 ہے۔ 2018 کے عام انتخابات میں ن لیگ کے سعد رفیق نے یہاں سے کامیابی سمیٹی تھی۔ بعد ازاں ان کے مستعفی ہونے پر ضمی انتخابات میں تحریک انصاف کے اسد کھوکھر جیت گئے۔ اسد کھوکھر جب تحریک انصاف کے منحرف گروپ میں شامل ہوئے تو اب ن لیگ نے انہیں ٹکٹ جاری کیا ہے۔ ان کے مقابلے میں تحریک انصاف نے اپنے ایک کارکن ملک نواز اعوان کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔
چوتھا حلقہ پی پی 170 ہے یہاں سے مسلم لیگ ن کی جانب سے چوہدری امین گجر امیدوار ہیں۔ چوہدری امین گجر ماضی میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے دست راست سمجھے جانے والے اور موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر عون چوہدری کے بھائی ہیں۔ ان کے مقابلے میں تحریک انصاف نے ظہیر کھوکھر کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔
اگر شیخوپورہ کے حلقہ پی پی 140 کا جائزہ لیا جائے تو مسلم لیگ ن نے علیم خان گروپ کے ترجمان اور ماضی میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر جیت کر وزیر بننے والے میاں خالد آرائیں کو ٹکٹ دیا ہے۔ جبکہ ان کے مقابلے میں تحریک انصاف نے ایک نئے امیدوار خرم شہزاد ورک کا انتخاب کیا ہے۔
سنٹرل پنجاب میں مزید نظر دوڑائیں تو فیصل آباد کے حلقہ پی پی 97 چک جھمرہ سے ن لیگ کے امیدوار اجمل چیمہ ہیں جو اس حلقے سے آزاد منتخب ہوئے تھے۔ بعد میں تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔ ان کے مقابلے میں تحریک انصاف نے علی افضل ساہی کو ٹکٹ دیا ہے جو کہ لاہور ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس امیر بھٹی کے داماد ہیں۔
ضمنی انتخابات وزیر اعلیٰ پنجاب کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ فوٹو: اے ایف پی
تحریکانصافکےریٹائرڈفوجیامیدوار
پنجاب کے ضمنی انتخابات کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف نے تین نشستوں پر ریٹائرڈ فوجی افسران کو ٹکٹ جاری کیے ہیں۔ آئیے ان تین حلقوں کا جائزہ لیتے ہیں۔
راولپنڈی کا حلقہ پی پی 7 موجودہ انتخابات میں ایک مشکل اور اہم انتخابی میدان سمجھا جا رہا ہے۔ 2018 کے عام انتخابات میں یہاں سے آزاد امیدوار راجہ اصغر احمد 44 ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔ دوسرے نمبر پر مسلم لیگ ن کے راجہ محمد علی رہے جنہوں نے 42 ہزار سے زائد ووٹ لیے جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار غلام مرتضی ستی تیسرے نمبر پر رہے جنہوں نے 40 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے۔ بعد ازاں راجہ اصغر احمد نے تحریک انصاف میں شمولیت حاصل کر لی۔
راجہ اصغر احمد بھی بعد میں تحریک انصاف کے منحرف اراکین میں شامل ہو گئے اور اب وہ ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ جبکہ تحریک انصاف نے ان کے مقابلے میں کرنل (ر) شبیر اعوان کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔ ان کی الیکشن مہم میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹارئرڈ ظہیر السلام بھی شامل ہیں اور انہوں نے عوام سے تحریک انصاف کو ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔
یہ حلقہ کہوٹہ، کلرسیداں اور راولپنڈی کے مضافات پر پر مشتمل ہے۔ جبکہ ن لیگ کے حنیف عباسی، شاہد خاقان عباسی، پی پی پی کے راجہ پرویزاشرف اور تحریک انصاف کے صداقت عباسی سمیت چوہدری نثار کا اثر و رسوخ بھی اس حلقے میں مانا جاتا ہے۔
ساہیوال کے حلقہ پی پی 202 سے تحریک انصاف کے منحرف سابق رکن اسمبلی نعمال لنگڑیال ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ جبکہ ان کےمقابلے میں تحریک انصاف نے ایک ریٹائرڈ فوجی افسر میجر ر غلام سرور کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔ نعمان لنگڑیال بزدار حکومت میں وزیر بھی رہے اور جہانگیر ترین کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔
جہانگیر ترین کے آبائی علاقے لودھراں پی پی 228 میں مسلم لیگ ن نے تحریک انصاف کے منحرف سابق رکن اسمبلی نذیر احمد بلوچ کو ٹکٹ جاری کیا ہے جبکہ تحریک انصاف نے یہاں بھی ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کیپٹن ریٹائرڈ عزت جاوید کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔ عزت جاوید 2018 میں آزاد حیثیت میں میدان بھی اترے تھے۔
پی پی 217 سے شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی الیکشن لڑ رہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
اپنےہیمخالفکوٹکٹ
پنجاب کے ضمنی انتخابات 2022 کے دو حلقے ایسے بھی ہیں جہاں سب سے زیادہ دلچسپ صورت حال ہے۔
تحریک انصاف نے 2018 میں اپنے مخالف ن لیگ کے امیدوار کو ٹکٹ جاری کیا ہے تو اسی طرح ن لیگ نے بھی اپنے اس وقت کے مخالف تحریک انصاف کے امیدوار کو ہی ٹکٹ جاری کیا ہے۔ فرق یہ ہے کہ تحریک انصاف کے امیدوار جیتے تھے جبکہ ن لیگ کے ہارے تھے۔
لودھراں کے حلقہ پی پی 224 سے 2018 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کے زوار وڑائچ 60 ہزار ووٹ لے کر منتخب ہوئے تھے۔ بعد ازاں وہ بزدار حکومت میں وزیر بھی رہے۔ تاہم پھر وہ منحرف ہوگئے اور ترین گروپ میں آگئے۔ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے عامر اقبال شاہ نے 48 ہزار ووٹ حاصل کیے تھے اور دوسرے نمبر پر رہے۔ ان ضمنی انتخابات میں زوار وڑائچ مسلم لیگ ن جبکہ عامر اقبال شاہ تحریک انصاف کے امیدوار ہیں۔
دوسرا حلقہ بھکر پی پی 90 کا ہے جس میں آزاد امیدوار سعید اکبر نوانی جیتے تھے تاہم انہوں نے تحریک انصاف جوائن کر لی۔ ان کے مقابلے میں ن لیگ کے عرفان اللہ خان نیازی ن لیگ کے امیدوار تھے جو یہ انتخاب تقریبا 15ہزار ووٹوں سے ہارے تھے۔ اب تحریک انصاف نے عرفان اللہ خان نیازی کو ٹکٹ دے دیا ہے جبکہ ن لیگ نے سعید اکبر نوانی کو۔ سعید اکبر نوانی 1985 سے سیاست میں ہیں اور آٹھ بار رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔
ویسے تو دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے ان امیدواروں کو ٹکٹ نہیں دیے جو 2018 کے انتخابات میں ہار گئے تھے البتہ جھنگ کے حلقہ پی پی 125 سے جیتے والے آزاد امیدوار فیصل حیات جبوآنہ نے بعد میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور منحرف ہو گئے تو تحریک انصاف نے اسی حلقے سے اپنے ہارے ہوئے امیدوار اعظم چھیلا کو ٹکٹ جاری کر دیا ہے۔ البتہ فیصل جبوآنہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔
یہی صورت حال جھنگ کے حلقہ پی پی 127 کی بھی ہے۔ جہاں سے محمد اسلم بھروانہ آزاد حیثیت سے تحریک انصاف کے امیدوار محمد نواز بھروانہ سے جیت کر تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔ اب منحرف ہو کر ن لیگ میں ہیں۔ جبکہ تحریک انصاف نے اپنے ہی ہارنے والے محمد نواز بھروانہ کو دوبارہ ٹکٹ جاری کر دیا ہے۔
راولپنڈی کا حلقہ پی پی 7 مشکل اور اہم انتخابی میدان سمجھا جا رہا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
جنوبیپنجاباورجہانگیرترینفیکٹر
سب سے دلچسپ صورت حال جنوبی پنجاب کے حلقوں کی ہے۔ جہاں ن لیگ نے 2018 کے انتخابات کے وقت الزام عائد کیا تھا کہ ان کے امیدواروں کو چھینا گیا ہے۔ وہ امیدوار اس وقت تو آزاد حیثیت سے جیتے لیکن بعد میں انہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ سب سے زیادہ انحراف بھی اسی گروپ میں سامنے آیا۔
جو امیدوار خوشاب کے حلقہ پی پی 83 سے پہلے آزاد منتخب ہوکر تحریک انصاف میں شامل ہوئے اب وہ ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈر ہیں۔ پی ٹی آئی کے اپنے امیدوار گل اصغر خان نے اس حلقے صرف 8 ہزار ووٹ لیے تھے اور پانچویں نمبر پر آئے تھے۔ اب تحریک انصاف نے اس حلقے میں حسن ملک کو ٹکٹ دیا ہے۔
بہاولنگر کے حلقہ پی پی 237 سے آزاد امیدوار میاں فدا حسین آزاد حیثیت میں جیتے تھے بعد میں تحریک انصاف میں آئے اور اب ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ جبکہ تحریک انصاف نے ان کے مقابلے سید آفتاب رضا کو اپنا امیدوار چنا ہے جو کہ ایک مرتبہ چیئرمین یونین کونسل رہے ہیں۔
ملتان شہر کے حلقہ پی پی 217 کی صورت حال بھی دلچسپی سے کم نہیں جہاں تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں۔ جبکہ ان کے مقابلے میں سلمان نعیم ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈر ہیں جنہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں شاہ محمود قریشی کو آزاد حیثیت میں اسی حلقے سے شکست دی تھی۔ بعد میں وہ تحریک انصاف میں شامل ہو گئے اور وہ جہانگیر ترین کے بہت قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔
ان ضمنی انتخابات کا واحد حلقہ جہاں خواتین امیدوار ہیں ۔ سیدہ زہرہ بتول بخاری ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہی ہیں ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے حلقہ 272 مظفر گڑھ سے ہے۔ زہرہ بتول نے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر2018 کا ضمنی الیکشن لڑا تھا اور کامیاب ہوئی تھیں۔
اس سیٹ پر سب سے دلچسپ مقابلہ ہو رہا ہے کیونکہ ان کے مقابلے میں ان کا اپنا بیٹا ہارون بخاری اور بہو بینش بخاری آزاد امیدوار ہیں۔ جبکہ تحریک انصاف نے اس حلقے میں معظم جتوئی کو ٹکٹ دے دیا ہے۔
جنرل (ر) ظہیر السلام نے پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
مظفر گڑھ کے ہی حلقہ پی پی 273 میں مسلم لیگ ن نے محمد سبطین رضا کو ٹکٹ جاری کر رکھا ہے جوکہ 2018 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے۔ جبکہ تحریک انصاف نے یہاں سے یاسر عرفات جتوئی کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ مظفر گڑھ کے دونوں حلقوں میں تحریک انصاف نے جتوئی قبلیے کو اکھٹا کر لیا ہے۔ جس سے مقابلہ سخت ہو گیا ہے۔
لیہ کے حلقہ پی پی 282 سے مسلم لیگ ن نے محمد طاہر رندھاوا کو ٹکٹ جاری کیا ہے جنہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں آزاد حیثیت سے الیکشن جیتا اور پھر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ جب کہ ان کے مقابلے میں تحریک انصاف نے اپنے پرانے ہارنے والے امیدوار قیصر عباس کو ہی ٹکٹ جاری کیا ہے۔ اٹھا رہ کے انتخابات میں ن لیگ کے امیدوار محمد ریا ض اس حلقے میں تیسرے نمبر پر آئے تھے۔
بیسواں اور آخری حلقہ ڈی جی خان پی پی 288 کی صورت حال بھی جنوبی پنجاب کے باقی حلقوں جیسی ہے۔ یہاں بھی ن لیگ نے محسن عطا خان کھوسہ کے بھانجے عبدالقادر خان کھوسہ کوٹکٹ جاری کیا ہے ۔ اس سیٹ سے محسن عطا خان کھوسہ اٹھارہ کے عام انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے جیتے تھے۔ اور بعد میں تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔