صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات سے نمٹنے اور شدت پسندوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کے لیے حکومت نے ایکشن پلان تیار کر لیا ہے۔
صوبائی وزیر محنت و ثقافت شوکت یوسفزئی نے اردو نیوز سے خصوصی بات چیت میں بتایا کہ گزشتہ کچھ دنوں سے سکیورٹی کے حالات بگڑ رہے تھے جن کے لیے اب صوبائی حکومت اور سکیورٹی فورسز نے حکمت عملی ترتیب دے دی ہے۔
انہوں نے کہا ’سکیورٹی کے مسائل ہیں لیکن ہم ٹی وی پر نہیں بتا سکتے۔ مجھے اتنا علم نہیں لیکن انٹیلی جنس شیئرنگ کی بنیاد پر کارروائی ہوگی۔ اب مجھے لگتا ہے کہ حالات جلدی ٹھیک ہو جائیں گے کیونکہ آج کی صورتحال 2010 کی طرح خراب نہیں ہے۔‘
مزید پڑھیں
-
’سوات میں مسلح افراد کی موجودگی سے باخبر، صورتحال کنٹرول میں‘Node ID: 692201
-
’امن چاہیے‘، لوئر دیر میں عوام دہشت گردی کے خلاف باہر نکل آئےNode ID: 693006
صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے مزید کہا کہ ’ہم کسی صورت کو عوام کو ان عناصر کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے بالکل کارروائی ہوگی اور جو کارروائی ہورہی ہے وہ تسلی بخش ہے۔‘
’وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا کی خواہش ہے کہ مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن ان عناصر سے پاک ہوں کیونکہ یہ علاقے ہمارے سیاحتی مقامات ہیں یہاں بد امنی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔‘
خیبر پختونخوا پولیس کے ایک آفیسر نے اردو نیوز کو ٹارگٹڈ آپریشن شروع کرنے کی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق ٹارگٹڈ آپریشن ضلع سوات، دیر اور بونیر کے کچھ علاقوں میں کی جائے گی۔
ضلع لوئر دیر سے تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی اور وزیر اعلٰی کے مشیر برائے جیل خانہ جات شفیع اللہ نے اردو نیوز کو بتایا کہ آپریشن کے بارے میں سنا ضرور ہے لیکن ابھی تک کچھ نہیں بتایا گیا کہ کب اور کہاں ہوگا۔
’ایم پی اے ملک لیاقت پر قاتلانہ حملے کے بعد حالات بگڑ گئے ہیں اس لیے ٹارگٹڈ آپریشن ضرور ہونا چاہیے۔‘
