پاکستان میں وزیراعظم ہاؤس کی 100 گھنٹے سے زائد کی آڈیو کی ڈارک ویب پر موجودگی اور اس کی مبینہ نیلامی کے بعد نمونے کے طور پر آنے والی تین لیک آڈیوز کے بعد اسے ملک کے سب سے بڑے دفتر پر سائبر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
-
آڈیو لیکس، پاکستان میں سیاست دان میڈیا کو کیوں مینیج کرتے ہیں؟Node ID: 632776
-
آڈیو لیکس کے معاملے کی انکوائری شروع ہوچکی ہے: رانا ثنا اللہNode ID: 703966
-
آئندہ دنوں میں مزید آڈیوز منظر عام پر آئیں گی: عمران خانNode ID: 704141
حکومتی سطح پر اگرچہ اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز ہو چکا ہے لیکن ابھی تک اس بارے میں کوئی سراغ سامنے نہیں لایا جا سکا۔
وزیر اعظم ہاؤس کب کب بَگ کیا گیا؟
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ وزیراعظم ہاؤس سے جاسوسی ہوئی ہے اور آڈیو ریکارڈ کی گئی ہیں بلکہ اس سے پہلے بھی ماضی میں کئی ایک واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں سے کچھ واقعات میڈیا کی زینت بنتے رہے ہیں تاہم جاسوسی کے واقعات کے بعد آڈیو یا ویڈیوز لیک نہیں کی گئیں۔
ماضی قریب میں سابق وزیراعظم عمران خان کے موبائل فون کو اسرائیلی سافٹ ویئر پیگاسس کے ذریعے ہیک کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ جولائی 2021 میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا پرانا نمبر بھی ہیک کرنےکی کوشش کی گئی تھی۔
جس کے بعد حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ تحقیقات میں یہ دیکھا جائے گا موبائل ہیک ہوئے یا نہیں۔ اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر پیگاسس نے کہا تھا کہ پاناما لیکس سے بھی بڑا سکینڈل ہے۔
اس واقعہ کے بعد وزیر اعظم عمران خان گرمیوں میں وزیر اعظم آفس میں اپنے دفتر سے ملحقہ کمیٹی رومز اور سردیوں میں وزیراعظم ہاؤس کے لان میں ملاقاتیں اور اجلاس کرتے تھے۔ یہاں تک وزیر اعظم اور ڈی جی آئی ایس آئی اور غیر ملکی وفود سے بھی باہر بیٹھ کر ملاقاتیں کرتے تھے۔
اس سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں وزیراعظم ہاؤس یہاں تک رہائشی یونٹ کی ڈرون کے ذریعے نگرانی کا واقعہ سامنے آیا تھا۔ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پاکستان میں دو انٹیلی جنس اداروں کی باہمی مخاصمت کا نتیجہ تھا۔

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دور حکومت میں وزیراعظم ہاؤس کی جاسوسی کی بہت سی کوششیں ہوئیں۔ اس حوالے سے اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستان میں غیر ملکی سفارت خانے ریڈ زون میں واقع ہر اہم دفتر میں ہونے والے اجلاسوں کو بگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہم اسے روکنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔
انٹیلی جنس بیورو حکام کے مطابق یوسف رضا گیلانی کے دور میں ان کے گھر دفتر کے کونے کونے کو متعدد مرتبہ ڈی بگ کیا گیا تھا۔
ان کے دور حکومت میں دو مرتبہ وفاقی کابینہ کا اجلاس کچھ گھنٹوں کے لیے ملتوی کیا گیا کیونکہ آئی بی نے کچھ ایسی شعاعوں کا پتہ لگایا تھا جو کابینہ روم سے آواز کیچ کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ بعد ازاں انھیں ڈی کوڈ کرکے متعلقہ ملک کو آگاہ کر دیا گیا تھا جس کے سفارت خانے سے یہ کوشش کی جا رہی تھی۔
اگر اس سے قبل کی بات کی جائے تو سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے دور میں ایسی کئی کوششیں ہوئیں لیکن بے نظیر نے انھیں سیاسی طریقے سے ہینڈل کرکے ناکام بنایا۔
بے نظیر کی قریبی ساتھی ناہید خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’یہ سب کچھ تو 1947 سے ہو رہا ہے اور وزیراعظم تک کو نہیں چھوڑا جاتا۔ یقیناً بے نظیر کی گفتگو بھی ٹیپ کی جاتی تھی اور ان کو اس کا علم بھی تھا لیکن وہ یہ بات کسی دوسرے سے شیئر نہیں کرتی تھیں حتیٰ کہ اپنے قریبی لوگوں سے بھی نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’بے نظیر کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ ہر میٹنگ اپنے دفتر میں کرتی تھیں اور میٹنگ کے دوران انتہائی فارمل رہ کر بات کرتی تھیں۔ وہ کوئی بھی ایسی بات کرنے سے گریز کرتی تھیں جو بعد میں ان کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’بے نظیر نے کبھی کبھی وزیر اعظم ہاؤس یا آفس کے لان میں کوئی ملاقات یا اجلاس منعقد نہیں کیا تھا۔‘
