Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

20سالہ لڑکی کے اغوا کے ڈرامے کا ڈراپ سین

کانپور۔۔۔۔۔20سالہ لڑکی نے باپ سے 10لاکھ روپے ہتھیانے کیلئے اپنے اغوا کا ڈرامہ رچایا۔تاہم پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔اب پولیس اس امر پر پریشان ہے کہ اس پر تعزیرات ہند کی کس شق کے تحت مقدمہ قائم کیا جائے۔نوئیڈا پولیس کے اعلیٰ افسران کئی گھنٹے تک سرجوڑ کر بیٹھے رہے کہ اس لڑکی اور اس کے 3ساتھیوں کے خلاف کس دفعہ کے تحت کارروائی کرے۔ آخر کار سیکشن 182(جھوٹی اطلاع) کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔ملزم 20سالہ مسکان اگروال بی ٹیک کی طالبہ ہے اس نے اپنے دوست آدتیہ سریواستو اور دیگر دوستوں کے ہمراہ یہ سارا ڈرامہ رچایا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ جب ملزمہ کو گرفتار کیا گیا تو وہ پیزا کھا رہے اور اسنوکر کھیل رہے تھے۔ مسکان کے والدشیواگروال کو دوپہر کو ایک کال ملی جس میں ان کی بیٹی بات کررہی تھی کہ اچانک اس نے مدد کیلئے چیخنا شروع کردیا اور فون بند ہوگیا۔40منٹ بعد پھر فون آیا اور انہیں دھمکی دی گئی کہ اگر وہ اپنی بیٹی کی لاش نہیں دیکھنا چاہتے تو 10لاکھ روپے پہنچا دیں۔باپ نے فوری کانپور پولیس سے رابطہ کیا ، ادھر باپ 10لاکھ روپے جمع کرنے کیلئے نکل کھڑا ہوا ۔ پولیس نے سب سے پہلے یہ معلوم کیا کہ فون کال کہا ں سے کی گئی۔جس کے بعد اس نے ادھر ادھر چھاپے مارے لیکن ناکام رہی۔4بجے شام دوبارہ باپ کو دھمکی آمیز فون کیا گیا اس وقت تک وہ لڑکی کے بینک اکاؤنٹ میں رقم جمع کراچکا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ ان فون کالز کی مدد سے پتہ چلا یہ ساری کالز گریٹر نوئیڈا سے آرہی ہیں۔بینک کو بھی الرٹ کردیا گیا۔ پولیس اہلکار سادے کپڑوں میں وہاں پہنچ گئے ۔اتنی دیر میں ملزمان نے اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے کی کوشش کی جہاں ملزموں کو دھر لیا گیا۔پولیس ذرائع نے کہا کہ مسکان اور اس کاد وست شادی کرنا چاہتے تھے اور باپ مخالف تھا۔

شیئر: