Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مذاکرات کی دوسری کوشش بھی ناکام، اختر مینگل کا احتجاجی دھرنا 6 دنوں سے جاری

حکومت اور بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے درمیان مذاکرات کی دوسری کوشش بھی بے نتیجہ ثابت ہو گئی۔ بی این پی کا احتجاجی دھرنا چھ روز سے جاری ہے۔ 
پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر گرفتار افراد کی رہائی کے لیے حکومت کو دو دن کی مہلت دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو دو دن بعد کوئٹہ کی جانب لانگ مارچ کریں گے۔
سردار اختر مینگل کی قیادت میں بی این پی نے 28 مارچ کو خضدار کے علاقے وڈھ سے کوئٹہ کے لیے لانگ مارچ شروع کیا تھا، مگر کوئٹہ پہنچنے سے پہلے ہی مستونگ کے علاقے لکپاس میں پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کرکے راستہ بند کر دیا۔ پولیس نے آنسو گیس شیلنگ اور لاٹھی چارج کے ذریعے شرکاء کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔
حکومت کی جانب سے رکاوٹ ڈالنے کے بعد دھرنے کے شرکاء نے 28 مارچ کی رات لکپاس ٹنل کے قریب پہاڑوں کے دامن میں دھرنا دے دیا  جو گزشتہ چھ دنوں سے جاری ہے۔ دھرنے کے شرکاء نے عیدالفطر کی نماز بھی اسی مقام پر ادا کی۔
29 مارچ کو حکومت کی جانب سے پہلی بار مذاکرات کی کوشش کی گئی اور صوبائی وزیر ظہور احمد بلیدی کی سربراہی میں ایک وفد بھیجا گیا، تاہم یہ مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوئے۔ منگل کو حکومت نے دوبارہ مذاکرات کے لیے ایک وفد بھیجا، جس میں صوبائی وزراء ظہور احمد بلیدی، بخت محمد کاکڑ، محمد خان طور اتمانخیل، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ زاہد سلیم اور کمشنر کوئٹہ ڈویژن حمزہ شفقات شامل تھے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا کہ حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی وفد ایک درمیانے راستے کی تلاش میں تھا، مگر مصلحت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہمارا مطالبہ صاف اور واضح ہے کہ خواتین سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے تمام گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔
بی این پی کے سربراہ نے مزید کہا کہ حکومت کوئٹہ میں دھرنے کی اجازت دے، کیونکہ جہاں ہم اس وقت دھرنا دے رہے ہیں وہاں کسی بھی وقت ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے  گزشتہ روز یہاں خودکش حملہ ہوا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
سردار اختر مینگل نے کہا کہ حکومت کے پاس دو دن کا وقت ہے، اگر تمام گرفتار افراد کو رہا نہ کیا گیا تو ہم کوئٹہ کی جانب دوبارہ لانگ مارچ کریں گے۔ اس کے بعد حکومت طاقت کا شوق بھی پورا کرلے پھر حالات کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔
دوسری طرف صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ ’سردار اختر مینگل سے بیک ڈور رابطے جاری ہیں اور حکومت ان کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اس مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جائے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’سڑکوں کی بندش سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے اور حکومت پر بھی عوام کا دباؤ ہے کہ وہ اپنی رٹ قائم کرے۔ حکومت ہر صورت میں اپنی رٹ قائم کرے گی اور کسی کو بھی انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
ادھر کوئٹہ سمیت صوبے کے کئی اضلاع میں ایک بار پھر منگل کی رات سے موبائل فون انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی ہے۔
 

شیئر: