خروج وعودہ 90 دن کا، واپسی جلد ہوگئی، اضافی مدت آئندہ استعمال کرسکتے ہیں؟
خروج وعودہ 90 دن کا، واپسی جلد ہوگئی، اضافی مدت آئندہ استعمال کرسکتے ہیں؟
بدھ 5 اپریل 2023 0:06
دنوں کے حساب سے جاری خروج وعودہ میں واپسی کی تاریخ درج ہوتی ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی محکمہ پاسپورٹ اینڈ امیگریشن جو وزارت داخلہ کا ذیلی ادارہ ہے قوانین کے مطابق مملکت میں مقیم غیر ملکیوں کے اقامے ، خروج وعودہ اور خروج نہائی کے اجرا کا ذمہ دارہے ۔
مملکت میں رہائش پذیرغیرملکی افراد جب مستقل بنیاد پر اپنے ملک جاتے ہیں تو انہیں فائنل ایگزٹ جسے عربی میں خروج نہائی کہا جاتا ہے حاصل کرنا ضروری ہوتاہے۔
خروج وعودہ کےحوالے سے جوازات سے ایک شخص نے دریافت کیا ’دنوں کے حساب سے خروج وعودہ جاری کیا ہے کیونکہ اقامہ کی مدت 6 ماہ سے کم تھی، معلوم یہ کرنا ہے کہ دنوں کے حساب سے جاری کیاجانے والے خروج وعودہ کی مدت کا تعین کب سے ہوگا؟‘۔
سوال کے جواب میں جوازات کا کہنا تھا کہ’ وہ اقامہ ہولڈرز جن کے خروج وعودہ دنوں کے حساب سے جاری کیے جاتے ہیں ان میں واپسی کی تاریخ درج ہوتی ہے‘۔
اس کیٹگری کے خروج وعودہ کے وقت کا تعین یعنی کاونٹ ڈاؤن اسی دن سے شروع ہوجاتا ہے جب ویزا جاری کیاجاتا ہے۔ اگرویزا 60 روز کا ہے تو اس کا حساب اسی دن سے شروع ہوجائے گا۔
خروج وعودہ کی دوسری قسم ماہانہ بنیاد پرجاری ہونے والا ہے۔ اس نوعیت کے ایگزٹ ری انٹری ویزے کی مدت کا تعین اس تاریخ سے کیاجاتا ہے جب اقامہ ہولڈر مملکت سے نکل جاتا ہے۔
ایئرپورٹ امیگریشن سے جب ایگزٹ لگایا جاتا ہے اسی دن سے خروج وعودہ کی مدت کی گنتی شروع ہوجاتی ہے۔ اس ویزے میں ایک سہولت دی جاتی ہے جوکہ ویزے کی کارآمدی مدت ہوتی ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ویزا جاری کرانے کے بعد خروج وعودہ ہولڈرکے پاس تین ماہ کا وقت ہوتا ہے اس دوران وہ مملکت سے نکل سکتا ہے۔
واضح رہے ایسے تارکین جن کے اقامے کی ایکسپائری میں 6 ماہ سے زائد کا عرصہ ہووہ ماہانہ بنیاد پریعنی 30، 60، 90 یا 120 دن کے لیے ویزے جاری کراسکتے ہیں۔
خروج وعودہ کی فیس کے حوالے سے جوزات سے دریافت کیا گیا کہ ’اقامہ کی مدت میں 10 ماہ باقی ہیں۔ اگر خروج وعودہ 90 دن کےلیے جاری کرایا جائے اور واپسی 30 دن میں ہوجائے تواس صورت میں کیا باقی رہ جانے والی مدت بیلنس میں شامل ہوسکتی ہے یا خروج وعودہ کی اضافی بچ جانے والی رقم کودوسری بارے ایگزٹ ری انٹری کے لیے استعمال کیاجاسکتا ہے؟‘۔
جوازات کا کہنا تھا کہ ’سنگل ایگزٹ ری انٹری ویزا جتنی مدت کے لیے بھی جاری کرایا جائے خواہ مطلوبہ مدت سے قبل واپسی ہواس صورت میں باقی ماندہ رقم یا باقی رہ جانے والی اضافی مدت کسی صورت میں بیلنس کے طور پرصارف کے اکاونٹ میں منتقل نہیں ہوسکتی‘۔
ایک بار خروج وعودہ استعمال کرنے کے بعد صارف خواہ 20 دن میں واپس آئے یا ایگزٹ ری انٹری جاری کرانے کی مدت مکمل کرنے کے بعد واپس آئے اس صورت میں نہ تو رقم اورنہ ہی باقی رہ جانے والی مدت کو آئندہ کےلیے کسی صورت میں استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
ملٹی انٹری خروج وعودہ میں بھی اس کی سہولت نہیں ہے البتہ ملٹی انٹری خروج وعودہ کے قانون کے مطابق جتنی مدت کےلیے خروج وعودہ جاری کرایا جاتا ہے اتنی ہی بار اسے استعمال کیاجاسکتا ہے اضافی مدت اورباقی ماندہ رقم کی واپسی کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔