کینیڈا: پاکستانی نژاد خاندان کو قتل کرنے والے مجرم کو جنوری میں سزا سنائی جائے گی
سزا سنائے جانے سے قبل نیتھینئل ویلٹمین کو پانچ دسمبر کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ (دی کینیڈین پریس)
کینیڈا میں ایک پاکستانی نژاد مسلمان خاندان کے چار افراد کو قتل کرنے اور ایک کو زخمی کرنے والے ملزم کو اگلے برس جنوری میں سزا سنائی جائے گی۔
کینیڈین نیوز چینل سی پی24 کے مطابق استغاثہ اور وکیل صفائی نیتھینئل ویلٹمین کے کیس میں سزا کے حوالے سے چار اور پانچ جنوری کو دلائل دیں گے۔
22 سالہ ویلٹمین پر گذشتہ مہینے قتل اور اقدام قتل کا جرم ثابت ہو گیا تھا۔ انہوں نے نے چھ جون 2021 میں افضل خاندان کے چہل قدمی کرنے والے افراد کو اپنے ٹرک تلے روند ڈالا تھا۔
ہلاک ہونے والوں میں 46 سالہ سلمان افضل، ان کی 44 سالہ بیوی مدیحہ افضل، ان کی 15 سالہ بیٹی یمنا اور اس کی 74 سالہ دادی طلعت افضل شامل تھیں۔ سلمان افضل کا نو سالہ بیٹا بھی شدید زخمی ہوا تھا لیکن وہ بچ گیا۔
یہ کیس جس کی دو ماہ سے زیادہ عرصے تک سماعت ہوئی، وہ پہلا کیس تھا جہاں قتل میں کینیڈا کے دہشت گردی کے قوانین کو عدالت کے سامنے رکھا گیا تھا۔
مقدمے کی نگرانی کرنے والی جج جسٹس رینی پومیرنس نے جیوری کو ہدایت کی کہ وہ ویلٹمین کو قتل کا مجرم قرار دے سکتے ہیں اگر وہ متفقہ طور پر استغاثہ سے اتفاق کرتے ہیں کہ وہ متاثرین کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، اور انہوں نے یہ حملہ منصوبہ بندی سے کیا تھا۔
انہوں نے ججوں سے یہ بھی کہا کہ وہ یہی فیصلہ تب بھی کر سکتے ہیں اگر انہیں پتہ چلے کہ یہ ہلاکتیں دہشت گردی کے زمرے میں آتی تھیں۔
تاہم دہشت گردی کا کوئی الگ الزام نہیں ہے، اور جیوری اس بات کی وضاحت نہیں کرتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے تک کیسے پہنچتے ہے، لہذا یہ واضح نہیں ہے کہ ان کے فیصلے میں دہشت گردی کے الزامات کا، اگر کوئی ہیں تو، کیا کردار ہے۔
سزا سنائے جانے سے قبل نیتھینئل ویلٹمین کو پانچ دسمبر کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔