Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عارف علوی نے آئین شکنی کی، مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے: بلاول

بلاول بھٹو نے صدر عارف علوی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا (فوٹو: روئٹرز)
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے صدر عارف علوی نے آئین شکنی کی اس لیے امکان ہے کہ ان کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
منگل کو ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کی سماعت کے بعد اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’میں منتظر ہوں کہ اگلے ہفتے کے بعد وہ ہمارے دانت سنبھالیں گے، صدارت ان کے بس کی بات نہیں ہے۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ عارف علوی نے عدم اعتماد کے باوجود اسمبلی کو توڑا جبکہ اب اسمبلی کا اجلاس نہیں بلا رہے۔
ان کے مطابق ’صدر کے خلاف نہ صرف اسمبلی توڑنے بلکہ اجلاس بلانے کے حوالے سے آئین پر عمل نہ کرنے کا بھی مقدمہ ہو گا۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس سے حکومت سازی پر فرق نہیں پڑے گا اور راجہ پرویز اشرف اس ذمہ داری کو پورا کر لیں گے۔
گورنرز کی تقرری کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ آصف علی زرداری صدر منتخب ہونے کے بعد گورنرز کے نام فائنل کریں گے۔
چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں کو اختلاف رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کی عزت کرنا سیکھنا چاہیے جب تک سیاست دان ایسا نہیں کریں گے تو یہ امید نہ رکھیں کوئی دوسرا ادارہ ان کی عزت کرے گا۔
پاکستان سنی اتحاد کونسل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس کا شکرگزار ہوں کہ اس کی بدولت مریم نواز بنا کسی مخالفت کے وزیراعلٰی بن گئیں، جبکہ مراد علی شاہ کو بھی ملکی تاریخ میں پہلی بار تیسری مرتبہ وزیراعلٰی بنوا دیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اسی کی بدولت شہباز شریف وزیراعظم بننے جا رہے ہیں۔‘
ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف ریفرنس کی سماعت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ’تیزی سے عدالت کے سامنے ثبوت پیش کیے جا رہے ہیں، امید ہے کہ بھٹو، عوام اور ہمیں انصاف ملے گا۔‘
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ’وہ بھٹو کا ٹرائل نہیں بلکہ عدالتی قتل تھا۔‘
ان کا کہنا تھا چاہتے ہیں کہ ایسا فیصلہ آئے جس سے نہ صرف تاریخ درست ہو بلکہ جن اداروں پر داغ لگا ہے وہ بھی ختم ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسا مضبوط فیصلہ دیا جائے جس سے ایسے اقدامات کے سامنے ہمیشہ کے لیے فُل سٹاپ لگ جائے۔

شیئر: