وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور گزشتہ دنوں کرپشن کی روک تھام کے لیے دیے گئے اپنے ایک بیان پر خبروں میں رہے مگر میڈیا سے ان کا رابطہ یا گفتگو نسبتاً کم دکھائی دے رہی ہے۔
علی امین گنڈاپور وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد سوشل میڈیا پر زیادہ توجہ مرکوز رکھی ہے اور حالیہ دنوں میں ان کے اکثر بیانات ٹِک ٹاک ایپ پر جاری ہوئے جو بعدازاں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے شائع اور نشر کیے۔
مزید پڑھیں
-
جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس میں علی امین گنڈا پور کی ضمانت منظورNode ID: 845976
پشاور میں علی امین گنڈاپور سے ملاقات کے لیے نوجوان کارکن اکثر وزیراعلیٰ ہاؤس کا رُخ کرتے ہیں۔ وہ ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ کی ویڈیو بناتے ہیں جن میں سے اکثر بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں۔
انہوں نے گذشتہ دنوں ٹک ٹاک پر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے متعلق ایک بیان دیا جو فوری طور پر وائرل ہو گیا اور پھر میڈیا نے بھی ان کے اس بیان کو نشر کیا۔
انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وفاقی حکومت سے متعلق بیانات بھی سوشل میڈیا پر ہی جاری کیے۔
گذشتہ دنوں 20 مارچ کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اپنے آبائی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں سوشل میڈیا کے نمائندے سے بات چیت کے دوران وفاقی حکومت کو دھمکی آمیز بیان دیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف سوشل میڈیا ونگ کے سربراہ اکرام کھٹانہ نے اس بارے میں اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ’پی ٹی آئی کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کوئی نئی بات نہیں کیونکہ انتخابی مہم کے دوران بھی پی ٹی آئی نے سماجی میڈیا پر ہی زیادہ انحصار کیا تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’سرکاری طور پر کسی ٹِک ٹاکر کو ملاقات کا وقت نہیں دیا گیا تاہم کارکنوں کے وفود میں شامل نوجوان وزیراعلیٰ سے مل کر ویڈیوز ریکارڈ کر لیتے ہیں۔‘
پارٹی کے سوشل میڈیا ونگ کے سربراہ اکرام کھٹانہ کے مطابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ایک خاصیت یہ ہے کہ کوئی اگر ان سے سوال پوچھے تو وہ کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر بات کرتے ہیں، چاہے وہ سیاسی سوال کا جواب ہی کیوں نہ دے رہے ہوں۔‘
انہوں نے کہا، ‘نوجوان بسااوقات ان کے ویڈیو بیانات ریکارڈ کرکے اپنے فالوورز کے لیے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کریتے ہیں۔‘
وزیراعلی کی جانب سے مین سٹریم میڈیا کے لیے عائد شرط
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی جانب سے ٹیلی ویژن چینلز کو انٹرویو دینے کے لیے رکھی گئی شرط بھی میڈیا سے ان کی دوری کا سبب بن رہی ہے۔
انہوں نے گزشتہ ہفتے وزیراعلیٰ ہاؤس میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو میں دوٹوک الفاظ میں یہ کہا تھا کہ ’کوئی صحافی یا اینکر اگر ان کا انٹرویو کرنا چاہتا ہے تو وہ براہ راست نشر کرنا ہو گا۔‘
انہوں نے ریکارڈڈ انٹرویو دینے سے معذرت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا۔ ’میں جو بولوں گا، وہ ایڈٹ کیے بغیر براہ راست نشر کیا جائے۔‘
