Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا: اسلامی مدارس پر پابندی کا حکم، سپریم کورٹ نے عمل درآمد سے روک دیا

وکلاء نے بتایا کہ اسلامی مدارس کے کیس کی سماعت جولائی میں ہو گی (فوٹو:اے ایف پی)
انڈیا کی اعلیٰ ترین عدالت نے ملک میں اسلامی سکولوں پر پابندی سے متعلق زیریں عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک میں ہزاروں طلبا اور اساتذہ نے سکون کا سانس لیا ہے۔ 
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ حکم ملک میں قومی انتخابات شروع ہونے سے کچھ دن پہلے سامنے آیا ہے جن میں وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) تیسری مدت کے لیے امیدوار ہیں۔
عدالت عظمیٰ، الہ آباد ہائی کورٹ کے 22 مارچ کے اس حکم کو کیے گئے چیلنج کا جواب دے رہی تھی جس کے تحت ریاست اتر پردیش میں ’مدارس‘ کہلائے جانے والے سکولوں کو چلانے والے 2004 کے قانون کو ختم کر دیا تھا۔
خیال رہے کہ ریاست اترپردیش کی دو کروڑ چالیس لاکھ آبادی کا پانچواں حصہ مسلمان ہے۔
ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ’یہ قانون آئینی سیکولرازم کی خلاف ورزی ہے‘ اور یہ ہدایت بھی دی تھی ان اداروں کے طلباء کو روایتی سکولوں میں منتقل کیا جائے۔
جمعے کو سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ’ہمارا خیال ہے کہ درخواستوں میں اُٹھائے گئے مسائل تفصیلی طور پر غور طلب ہیں۔‘
وکلاء کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی سماعت جولائی میں ہو گی اور اس وقت تک ’سب کچھ معطل رہے گا۔‘
انڈیا کے وفاقی انتخابات کا عمل جون میں مکمل ہو گا۔
ریاست اتر پردیش میں بورڈ آف مدرسہ ایجوکیشن کے سربراہ افتخار احمد جاوید نے عدالت کے حکم کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک ’بڑی جیت‘ قرار دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک میں ہزاروں طلبا اور اساتذہ نے سکون کا سانس لیا ہے (فوٹو: روئٹرز)

انہوں نے کہا کہ ’ہم واقعی تقریباً 16 لاکھ (1.6 ملین) طلباء کے مستقبل کے بارے میں فکر مند تھے اور اب یہ حکم ہم سب کے لیے انتہائی سکون کا باعث ہے۔‘
مودی کے دس سال کے دور اقتدار میں، ان کی بی جے پی اور اس سے وابستہ تنظیموں کے ارکان پر بار بار اسلام مخالف نفرت انگیز تقریر کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
تاہم مودی نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کی حکومت میں اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک موجود ہے، جو ان کے بقول سب کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہے۔
انڈیا کی مرکزی اپوزیشن پارٹی کانگریس نے اقلیتوں کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا ہے اور اپنے منشور میں ’لسانی اور مذہبی اقلیتوں‘ کے تحفظ کا وعدہ کیا۔
پارٹی کے رہنما راہل گاندھی نے کہا کہ آنے والے انتخابات انڈیا کی تاریخ میں دیگر الیکشن سے ’بنیادی طور پر مختلف‘ ہیں۔

شیئر: