Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایرانی فورسز کی فائرنگ سے چار پاکستانی شہری ہلاک، تین زخمی

اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں تین کا تعلق واشک کے علاقے ماشکیل اور ایک کا کوئٹہ سے ہے(فائل فوٹو: سکرین گریب)
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایرانی فورسز کی مبینہ فائرنگ سے چار پاکستانی باشندے ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔
حکام کے مطابق واقعہ منگل کی رات کو بلوچستان کے ضلع واشک کی تحصیل ماشکیل سے تقریباً 60 کلومیٹر دور جودر بچارائی نالہ کے مقام پر پاکستان اور ایران کی سرحد پر پیش آیا۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر واشک محمد عمر جمالی نے ٹیلیفون پر اردو نیوز کو بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق واقعہ پاکستان ایران سرحد پر پاکستانی حدود کے اندر پیش آیا ہے۔ فائرنگ کی وجہ کیا بنی ہے اور ایرانی فورسز نے پاکستانی حدود کے اندر آکر فائرنگ کی یا پھر اپنی حدود سے پاکستانی حدود کی جانب فائرنگ کی اس حوالے سے اب تک کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس کی تحقیقات جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’فائرنگ سے تین افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ اطلاع ہے کہ ایرانی فورسز کچھ افراد کو اپنے ساتھ بھی لے گئی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ نشانہ بننے والے افراد پاکستانی باشندے ہیں جن کا تعلق کوئٹہ، ماشکیل اور خاران سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے ہے۔ ’یہ افراد ایرانی سرحد پر تیل کی ترسیل کا کام کرتے تھے۔‘
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے مطابق لاشوں اور زخمیوں کو پاکستانی حدود میں واقع ماشکیل کے گورنمنٹ رورل ہیلتھ سینٹر (آر ایچ سی ) لایا گیا ۔
آر ایچ سی ماشکیل کے انچارج ڈاکٹر محمد اشرف نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ’ہسپتال میں چار افراد کی لاشیں اور دو زخمیوں کو لایا گیا ہے جنہیں جسم کے مختلف حصوں میں گولیاں ماری گئی ہیں۔‘
اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں تین کا تعلق واشک کے علاقے ماشکیل اور ایک کا صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے ہے۔ ان میں ماشکیل کے رہائشی اصغر ولد محمد اکبر ساسولی، شکر اللہ ولد قادر بخش، واسع ولد ملا سلیمان اور کوئٹہ کے رہائشی دلاور ولد محمد عظیم شامل ہیں۔ زخمیوں کی شناخت خاران کے رہائشی میاں گل ولد محمد سلیم اور ماشکیل کے رہائشی اختر ولد عبدالباقی کے نام سے ہوئی ہے۔
زخمی اختر نے ٹیلیفون پر اردو نیوز کو بتایا کہ ’ہم ایرانی ساختہ زمباد گاڑیوں میں ایرانی تیل کی ترسیل کا کام کرتے ہیں۔ منگل کی رات کو میں اور باقی افراد سرحد پر تیل کے انتظار میں بیٹھے تھے کہ اچانک کئی گاڑیوں میں ایرانی بارڈر فورس کے اہلکار آئے اور ہم پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’فائرنگ سے آٹھ افراد ہلاک ہوئے جن میں چار ایرانی باشندے بھی شامل تھے جنہیں ان کے رشتہ دار ایران میں ہی اپنے آبائی علاقوں کی جانب لے گئے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ایرانی فورسز کمانڈو نام کے ایک پاکستانی باشندے کو زخمی کرنے کے بعد اپنے ساتھ لے گئیں‘ تاہم ان دونوں دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
واشک کی ضلعی انتظامیہ کے ایک افسر کے مطابق جس علاقے میں واقعہ پیش آیا وہ سرحد کے قریب انتہائی دشوار گزار اور پہاڑی علاقہ ہے جسے ایرانی تیل کے سمگلرز استعمال کرتے ہیں ۔
پاکستان کے خفیہ اداروں کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ماشکیل کے سرحدی راستے سمیت بلوچستان کے پانچ زمینی اور ایک سمندری راستے سے  ایران سے ہر سال پونے تین ارب لیٹر سے زائد ایرانی تیل سمگل کرکے لایا جاتا ہے جس سے ملکی معیشت کو 227 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوتا ہے۔
خفیہ اداروں کی ان رپورٹس کے بعد پاکستان نے سرحد پر سمگلنگ کی روک تھام کے لیے نئی پابندیاں لگائی تھیں ۔ ماشکیل میں پاک ایران سرحد ی گزرگاہ کو بھی کئی ماہ سے بند رکھا گیا ہے  جس کی وجہ سے ماشکیل میں اشیاء خورد و نوش کی قلت پیدا ہوگئی۔ ماشکیل میں سرحد کی بندش کے خلاف مقامی لوگوں نے ایک ماہ سے زائد عرصے تک دھرنا دینے کے بعد سنیچر سے کوئٹہ تک لانگ مارچ شروع کر رکھا ہے۔
ایرانی سرحدی خلاف ورزیاں
پاکستان اور ایران کےدرمیان 900 کلومیٹر طویل سرحد کے دونوں جانب مسلح تنظیموں ، منشیات، ایرانی تیل اور انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر کی سرگرمیاں دونوں ممالک کے لیے پریشانی اور تعلقات میں کشیدگی کا باعث بنتی ہیں۔
دونوں ممالک نے اپنی اپنی حدود میں سرحد پر غیر قانونی آمدروفت اور نا پسندیدہ سرگرمیوں کے تدارک کے لیے کنکریکٹ کی دیوار، خندق ، آہنی باڑ اور دیگر حفاظتی اقدامات بھی اٹھائے ہیں تاہم  دشوار گزار اور پہاڑی علاقوں میں سمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کا تدارک دونوں ممالک کے لیے بڑا چیلنج ہے۔
ایرانی فورسز کی جانب سے اس سے قبل بھی کئی بار پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی جاچکی ہے  ۔رواں سال جنوری میں واشک سے ملحقہ پاکستانی صوبہ بلوچستان کے ضلع پنجگور میں ایران کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملے میں دو بچے ہلاک اور چار افراد زخمی ہوئے تھے ۔ایران نے ان حملوں میں اپنے ملک میں سرگرم کالعدم مسلح مذہبی تنظیم 'جیش العدل' کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
اس کارروائی کے بعد دونوں ممالک میں کشیدگی انتہائی بڑھ گئی تھی  ۔پاکستان نے 48 گھنٹے کے اندر ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان کے ضلع سراوان میں جوابی میزائل حملے کئے جس میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ پاکستان نے ان حملوں میں بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند مسلح تنظیموں کے افراد کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
چند سال قبل ماشکیل میں ایرانی فورسز نے پاکستانی حدود کے اندر گھس کر متعدد پاکستانی باشندوں کو پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئی تھی۔ اسی طرح سرحدی خلاف ورزی پر ماشکیل میں ہی ایک بار پاکستانی پیراملٹری فورس( ایف سی ) نے ایرانی فورسز کے اہلکاروں کو پاکستانی حدود میں گھسنے پر گرفتار کیاتھا ۔
اکتوبر 2013 میں ایرانی شہر سراوان میں پاسداران انقلاب پر ایک خونریز حملے کے بعد ایرانی فورسز نے پاکستانی علاقے پنجگور میں گھس کر دو افراد کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔ نومبر 2013 میں ایران نے جیش العدل کے رہنماء ملا محمد عمر کے ضلع کیچ میں واقع گھر پر میزائل حملہ کیا تھا جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔
2013 کے آخری تین مہینوں میں ایران کی جانب سے 9 حملوں میں پانچ پاکستانی باشندے ہلاک اور 14 زخمی ہوئے تھے۔دسمبر 2014 میں پاکستانی سرحد کے قریب جیش العدل کے حملے میں ایرانی فورسز کے دو افسران اور ایک اہلکار کے قتل کے واقعہ کے بعد ایرانی فورسز نے پاکستانی حدود میں چالیس سے زائد مارٹر گولے داغے جس سے کیچ میں سات پاکستانی باشندے زخمی ہوئے۔ اسی سال کیچ میں ایرانی فورسز کی فائرنگ سے ایف سی کے صوبیدار کی بھی موت ہوئی تھی۔
2017 میں پاکستان کی فضائی فوج نے پنجگور میں سرحدی خلاف ورزی پر ایرانی ڈرون مار گرایا تھا۔
 

شیئر: