Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بنگلہ دیش میں مظاہرین نے جیل پر دھاوا بول کر سینکڑوں ساتھی رہا کرا لیے، 75 ہلاکتیں

لوگ شیخ حسینہ واجد کی حکومت کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں (فوٹو اے ایف پی)
بنگلہ دیشی طلبا نے جمعے کو ایک جیل پر دھاوا بول کر سینکڑوں قیدیوں کو رہا کر دیا، جبکہ پرتشدد مظاہروں کے دوران ایک ہفتے میں اب تک 75 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور صرف جمعے کے روز 28 ہلاکتیں ہوئیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مظاہرین نے وسطی بنگلہ دیش کے ضلع نرسنگدی میں ایک جیل پر دھاوا بولا اور جیل کو آگ لگانے سے پہلے جیل کے قیدیوں کو رہا کر دیا۔
اس نے کہا کہ ’مجھے درست تعداد کا کا تو علم نہیں لیکن رہا کروائے جانے والے قیدیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہوگی۔‘
ڈھاکہ میڈیکل کالج ہسپتال کی تیار کردہ فہرست کے مطابق جمعہ کو شہر میں کم از کم 28 افراد ہلاک ہوئے۔
بنگلہ دیش میں طلبا کے بڑھتے ہوئے مظاہروں کے بعد بدترین بدامنی پھیل گئی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے نااہل ردعمل نے وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی ’آمرانہ حکمرانی‘ کے لیے ایک سنگین چیلنج کو جنم دیا ہے۔
مظاہرے حکومت سے سیاسی طور پر سول سروس کی خدمات حاصل کرنے کے قوانین میں اصلاحات کے مطالبے کے طور پر شروع ہوئے تھے، رواں ہفتے پولیس کے کریک ڈاؤن کے بعد بڑے پیمانے پر پھیل گئے۔
روزانہ سڑکوں پر جمع ہونے والے دسیوں ہزار نوجوان اور ناراض بنگلہ دیشی اب پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ شیخ حسینہ واجد کی حکومت کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین نے اس ہفتے دارالحکومت ڈھاکہ میں کئی ریلیوں میں ’ڈکٹیٹر کو نکالو‘ جیسے نعرے لگائے، یہ دو کروڑ آبادی کی ایک وسیع و عریض میگا سٹی ہے جہاں جمعرات کو مشتعل ہجوم نے کئی سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حسینہ واجد اور حکمران عوامی لیگ کو درپیش بحران ان کا اپنا پیدا کردہ ہے۔
کرائسز گروپ ایشیا کے ڈائریکٹر پیئر پرکاش نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’مظاہرے بہت اہم ہیں، عوامی لیگ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ممکنہ طور پر سب سے سنگین چیلنج ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’مظاہرین کی شکایات کو دور کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے حکومت کے اقدامات نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔‘
طلبا نے اپنی مہم کا آغاز اس کوٹہ سسٹم کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کیا جو مخصوص گروپوں کے لیے انتہائی مطلوب پبلک سیکٹر کی ملازمتوں کے نصف سے زیادہ کو محفوظ رکھتا ہے۔
یہ سکیم حسینہ کے والد شیخ مجیب الرحمان نے ترتیب دی تھی جنہوں نے پاکستان کے خلاف 1971 کی تباہ کن جنگ آزادی کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔

پیئر پرکاش نے کہا کہ ’مظاہرے بہت اہم ہیں، عوامی لیگ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ممکنہ طور پر سب سے سنگین چیلنج ہیں۔‘ (فوٹو اے ایف پی)

سول سروس کی 30 فیصد پوسٹیں سابق فوجیوں کے بچوں کے لیے محفوظ رکھی گئی ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ عوامی لیگ کے وفاداروں کو نوازنے کے لیے یہ ہتھکنڈا استعمال کیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش لوگوں کے لیے روزگار کے مناسب مواقع فراہم کرنے سے قاصر ہے اور یہ سکیم ملازمتوں کے شدید بحران کا سامنا کرنے والے نوجوان گریجویٹس میں ناراضگی کا ایک واضح ذریعہ ہے۔
شیخ حسینہ نے گذشتہ ہفتے مظاہرین کو ان بنگلہ دیشیوں سے تشبیہ دے کر تناؤ کو ہوا دی جنہوں نے 1971 میں پاکستان کے ساتھ تعاون کیا تھا۔
الینوائے سٹیٹ یونیورسٹی میں سیاست کے پروفیسر علی ریاض نے بتایا کہ ’ان کا مذاق اڑانا ان کے وقار کی توہین ہے۔ یہ ایک پیغام بھی تھا کہ ایسی ناقابل احتساب حکومت کے سامنے مظاہرین کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔‘

شیئر: