القاعدہ کے جنگجو سے شامی سیاستدان تک، ابو محمد الجولانی کے بدلتے رُوپ
القاعدہ کے جنگجو سے شامی سیاستدان تک، ابو محمد الجولانی کے بدلتے رُوپ
منگل 10 دسمبر 2024 10:37
ابو محمد الجولانی کے سر پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام بھی رکھا گیا (فوٹو: اے ایف پی)
شام کے ہنگامہ خیز منظرنامے میں ایک شخصیت مسلسل نمایاں رہی اور وہ ہے ابو محمد الجولانی، جو شام میں 13 برس کی خانہ جنگی اور بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد کنگ میکر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
عرب نیوز میں شائع ہونے والے مضمون کے مطابق شام کے شمال مغربی حصے میں طویل عرصے سے سرگرم رہنے والے گروپ ھیئۃ التحریر الشام کے رہنما الجولانی ایک عسکریت پسند سے ابھر کر ایک انقلابی قوم پرست اور بڑے پیمانے پر تسلیم شدہ سیاسی شخصیت کے طور پر سامنے آئے جبکہ ان کے سر پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام بھی رکھا گیا تھا۔
وہ احمد حسن الشارع کے طور پر 1981 میں ادلب کے علاقے میں پیدا ہوئے۔ ان کا عسکریت پسندی کا سفر 2003 میں عراق جنگ کے دوران شروع ہوا۔ اس وقت جہاں وہ امریکی افواج کے خلاف کارروائیوں میں شامل ہوئے وہیں القاعدہ کے نیٹ ورک میں شمولیت اختیار کی۔
2011 میں جب شام پوری طرح سے خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ چکا تھا، وہ اپنے وطن لوٹے اور نصرہ فرنٹ کو شام کی القاعدہ سے جوڑا جس نے اپنی جنگی اور سخت حکمت عملیوں کی وجہ سے تیزی سے شہرت پائی۔
2016 میں ایک اہم تبدیلی اس وقت دیکھنے میں آئی جب نصرہ فرنٹ نے القاعدہ سے تعلقات ختم کر دیے، اور پہلے جبہ فتح الشام اور پھرھیئۃ التحریر الشام کا نام اختیار کیا۔ یہ حکمت عملی مقامی اپوزیشن گروپوں کے قریب ہونے اور انتہاپسندی سے دور کرنے کے لیے اختیار کی گئی تھی۔
ایج ٹی ایس نے خود کو جنگجو گروپ کے ساتھ ساتھ نظام چلانے کی اہلیت رکھنے والے ادارے کے طور پر بھی پیش کیا (فوٹو: اے ایف پی)
ماہر معاشیات اور سیاسی مبصر ندیم شہادی جو یورپ اور امریکہ میں تدریس کے شعبے اور تھنک ٹینکس سے وابستہ رہے ہیں، نے عرب نیوز کو بتایا کہ ‘شام کی اپوزیشن کو اپنے بارے میں تاثر کے معاملے میں بڑے مسئلے کا سامنا ہے۔‘
ان کے مطابق ’ایک موقع پر اس کا خود پر سے اعتماد ہی ختم ہو گیا تھا۔ اس کو بنیاد پرست اور القاعدہ اور داعش کی ساتھی کے طور پر دیکھا جاتا رہا اور دوسری طرف اس کی قیادت کی جانب سے بھی بدعنوان اور منتشر ہونے کا تاثر سامنے آیا۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’حکومت اور اس کے اتحادی غلط معلومات پھیلانے کے ماہر تھے اور دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہے کہ ان کے علاوہ کوئی اور متبادل موجود نہیں اور اگر وہ ہٹے تو ملک میں انتشار پھیلے گا۔‘
ان کے مطابق ’اس معاملے میں روس اور ایران کے سپانسرڈ میڈیا نے اہم کردار ادا کیا۔‘
الجولانی کی قیادت میں ایچ ٹی ایس نے خود کو نہ صرف عسکریت پسند گروپ کے طور پر پیش کیا بلکہ خود کو ایک قانونی حکومت کرنے والے ادارے کے طور پر سامنے لایا۔
ادلب جو کہ لڑائی کے دوران گروپ کے کنٹرول میں رہا، وہاں اس نے ایک نجات دہندہ کے طور پر اپنا نظام قائم کیا۔
ابو محمد الجولانی کی تنظیم القاعدہ کے ساتھ مل کر بھی کام کرتی رہی (فوٹو: عرب نیوز)
گورننس کے اس ڈھانچے نے سول انتظامیہ کے طور پر کردار ادا کرنے، سروسز فراہم کرنے اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی میں مدد دی اور جنگ سے متاثرہ علاقے میں کسی حد تک نظم و نسق کو یقینی بنا۔
الجولانی کے عوام سے رابطوں میں ایچ ٹی ایس کو ایک قوم پرست قوت کے طور پر نئے سرے سے منظم کرنے کی خواہش کے علاوہ اس گروپ کو اسد حکومت اور غیرملکی دہشت گرد تنظیموں کے قابل عمل متبادل کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔
2012 میں الجولانی نے متعدد میڈیا پلیٹ فارمز کو انٹرویو دیے جن میں مغربی چینلز بھی شامل تھے، جس کا مقصد یہ تھا کہ ایچ ٹی ایس کے بارے میں تاثر کو تبدیل کیا جائے اور اس بات کا اظہار بھی تھا کہ وہ وسیع سیاسی عمل کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔
یہ حکمت عملی اپنے گروپ کو انتہاپسندی سے دور لے جانے اور مقامی حکومت کے ساتھ مل کر چلنے کی خواہش کی عکاس تھی۔
شہادی کا کہنا تھا کہ ’الجولانی نے سوشل میڈیا مہم کے ذریعے حیرت انگیز طور پر جہاں ایچ ٹی ایس کا تاثر بدلنے کی کوشش کی وہیں اپنی شخصیت کے حوالے سے تاثر پر بھی توجہ دی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم ان کو حکومت کے سپاہیوں، قیادت اور قیدیوں کو معاف کرتے دیکھ رہے ہیں اور یہ کسی شخصیت یا لیڈر کو پروموٹ کرنے سے کہیں زیادہ موثر ہے۔‘
ان کے مطابق ’وہ خصوصی طور پر اقلیتوں کے بارے میں پھیلی افواہوں کی راہ روکنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کو ایک منظم مہم کے طور پر چلایا جا رہا ہے۔‘
الجولانی 1981 میں ادلب کے علاقے میں پیدا ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)
ماہرین کا خیال ہے کہ ان اقدامات کو الجولانی کی سیاسی سمجھ بوجھ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، یہاں سے حکمرانی سے متعلق اور سیاسی جواز بھی نکل سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر مفاہمت کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔
مڈل ایسٹ اور نارتھ افریقہ پروگرام کی ڈائریکٹر لینا خطیب کا کہنا ہے کہ ’الجولانی کی کوششوں سے عیاں ہے کہ وہ ایچ ٹی ایس کو ایک قوم پرست قوت کے طورپر نئے سرے سے منظم کرنا چاہتے ہیں جو مقامی اور خطے کے مفادات کے ساتھ مطابقت رکھتی ہو۔‘
شام کے پڑوسی ممالک کو ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ الجولانی آگے کیا کرنے جا رہے ہیں۔ ایچ ٹی ایس کے حوالے سے عرب حکومتوں کا نقطہ نظر پیچیدہ اور کثیرجہتی ہے، جن میں سخت مخالفت سے لے کر محتاط بات چیت تک کی آرا شامل ہیں۔
بہت سے عرب حکومتی سطح پر انتہاپسند گروپوں کی مذمت کرتی ہیں، تاہم اکثر جغرافیائی و سیاسی حقائق ان کو انگیج کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
ترکیہ جیسے ممالک ایچ ٹی ایس سے بات کرتے رہے ہیں اور ادلب پر اس کے گہرے اثرورسوخ، اسد حکومت اور کرد فورسز کے خلاف اس کے کردار کو تسلیم کرتے ہیں۔
تاہم ان میں سے بہت سے ممالک ایسے بھی ہیں جو افغانستان میں طالبان جیسی حکومت کے ابھرنے کے خوف سے گروپ سے محتاط رہتے ہیں۔
2016 میں ایک اہم تبدیلی اس وقت دیکھنے میں آئی جب نسر فرنٹ نے القاعدہ سے تعلقات ختم کر دیے (فوٹو: اے ایف پی)
شامی نژاد امریکی عمار عبدالحمید، جو جموریت کے حامی ہیں، نے ایکس پر پوسٹس کی سیریز میں لکھا کہ ’کیا الجولانی کی عملیت پسندی حقیقی ہے اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ کیا ان باتوں کو ان کے گروپ کے اندر تسلیم کیا جاتا ہے؟‘
خاص طور پر اسد حکومت کے گرنے سے اسرائیل کو جو خطرات لاحق ہو گئے ہیں اس سے وہ بخوبی آگاہ ہے کہ ایک طاقتور دشمن قوت اس کی دہلیز کے قریب ہے۔
عبدالحمید نے لکھا کہ ’اسرائیل اس وقت شام کے اندر فوجی اڈوں اور ایئرپورٹس پر بمباری کر رہا ہے اور شامی شہریوں میں بفر زون بنا رہا ہے۔ الجولانی اس کا جواب کیسے دیں گے؟‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’لگتا یہی ہے کہ ان کو قدامت پسند گروپس کی جانب جواب میں قدم اٹھانے یا پھر کم سے کم مذمتی بیان جاری کرنے کے حوالے سے دباؤ کا سامنا ہو گا۔ تاہم زیادہ بیان بازی مزید حملوں کا باعث اور شام کو ایک وسیع جنگ میں دھکیلنے کی وجہ بن سکتی ہے، جس کا شام متحمل نہیں ہو سکتا۔‘
انہوں نے اپنے خیالات کو کچھ یوں آگے بڑھایا کہ ’کیا بالآخر الجولانی اسرائیل کے ساتھ امن قائم کرنے کی طرف بڑھیں گے اگر ابھی نہیں، تو آنے والے دنوں میں کس وقت؟‘
اتوار کو باغیوں کے دمشق میں داخل ہونے کے بعد بشارالاسد اور ان کا خاندان ملک چھوڑ گیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
ایک سوال یہ بھی ہے کہ وہ موجودہ بحران کو کس طرح سے قابو کریں گے کیونکہ شام اس وقت ترکیہ کی حمایت رکھنے والے اپوزیشن گروہوں اور امریکہ کی حمایت رکھنے والی امریکی جمہوریت پسند قوتوں کے درمیان ہے جو ملک کے شمالی اور مغربی حصے کی کرد اکثریتی انتظامیہ پر کنٹرول رکھتی ہے۔
عبدالحمید کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ ’وہ کردوں کے ایشو پر قابو پانے کے لیے کیا منصوبہ رکھتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ ترکیہ کے حمایت یافتہ گروپ کردوں کے خلاف لڑتے ہیں، ایک ایسے وقت میں آنا جب مزید لڑائیاں چھڑنے کے امکانات موجود ہیں، ایک کتھن چیلنج ہو گا۔‘
ان کے مطابق ’یہ مشکلات الجولانی کی قائدانہ اور اندرونی و بیرونی دباؤ کو توازن میں رکھنے کی صلاحیتوں کا امتحان ہوں گی۔‘
سیاسی تجزیہ کار فیصل ابراہیم الشماری نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’ابو محمد الجولانی ایک ایسی شخصیت ہیں جو شکوک و شہبات میں گھری رہی اور وہ عوامی سطح پر اپنا تاثر تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’حالیہ برسوں کے دوران ان کے بیانات سے ایسے اشارے ملے کہ وہ انتہاپسندانہ طرزفکر چھوڑ چکے ہیں، تاہم مکمل طور پر ایسا کرنا مشکل ہو گا کہ وہ اپنی موجودہ شخصیت کو اپنے ماضی سے الگ کریں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’تشکیک ان کے القاعدہ کے ساتھ تعلق اور نصر فرنٹ بنانے کے حوالے سے ابھرتی ہے، جنہوں نے عالمی دہشت گرد نیٹ ورکس کے ساتھ مل کر شام کو دہشت زدہ کیے رکھا۔ تنظیم کو ایچ ٹی ایس کا نیا نام دینا ایک حکمت عملی ہو سکتی ہے مگر کیا حقیقی ہے یا پھر بین الاقوامی مبصرین کو متوجہ کرنے کی کوشش؟‘
’اس کے باوجود بھی امید کو رد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ رہنما دباؤ تلے ہی بنتے ہیں اور سیاق و سباق بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اگر الجولانی جمہوری شام کے حوالے سے اپنے بیان میں مخلص ہیں تو ایک اہم موڑ ہوگا، تاہم تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ حقیقی تبدیلی کو مسلسل عمل سے ثابت کرنا ضروری ہے صرف نام تبدیل کرنے سے نہیں۔‘
ابو محمد الجولانی کے عسکریت پسند سے سیاسی کردار بننے کا سفر شام کی پیچیدہ صورت حال میں قدرے موافقت کا عکاس ہے۔ افراتفری کے ماحول میں مطابقت برقرار رکھنے کا انحصار سیاسی حرکیات اور خطے کے جغرائی و سیاسی مفادات دونوں پر ہو گا۔