یونان کشتی حادثہ، ’ہلاک اور لاپتہ پاکستانی شہریوں کی تصدیق کی کوشش جاری ہے‘
یونان کشتی حادثہ، ’ہلاک اور لاپتہ پاکستانی شہریوں کی تصدیق کی کوشش جاری ہے‘
اتوار 15 دسمبر 2024 10:19
دفتر خارجہ کے مطابق یونان میں پاکستانی سفارتخانہ متعلقہ حکام سے رابطے میں ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ کشتی ڈوبنے کے حادثے میں تاحال ایک پاکستانی کے مرنے کی تصدیق ہوئی ہے۔
اتوار کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ’ابتدائی اطلاعات کے مطابق یونان کے جزیرے کریٹ کے جنوب میں گزشتہ روز کشتیوں کے الٹنے کے واقعات کے بعد بچائے جانے والوں میں 47 پاکستانی بھی شامل ہیں۔‘
بیان کے مطابق ’اس مرحلے پر ہم ہلاک یا لاپتہ پاکستانی شہریوں کی تعداد کی تصدیق کرنے سے قاصر ہیں۔‘
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایتھنز میں پاکستان کا سفارت خانہ ہیلینک کوسٹ گارڈ اور چانیا کے کوسٹ گارڈ کے ساتھ رابطے میں ہے، جو تلاش اور بچاؤ کا آپریشن کر رہے ہیں۔ ’سفارتخانے کے اہلکار بازیاب کرائے گئے پاکستانیوں سے ملنے اور انہیں ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے کریٹ پہنچ گئے ہیں۔‘
وزارت خارجہ نے یونان میں پاکستانیوں کی سہولت کے لیے کرائسز مینجمنٹ یونٹ کو فعال کر دیا ہے۔
ادھر پاکستان کے وزیرِاعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ’وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر یونان میں پاکستانی سفارتخانے میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیےخصوصی سیل قائم کیا گیا ہے اور پاکستانی سفارتخانہ ریکیسو کیے گئے افراد اور ان کے اہل خانہ کے مابین روابط اور ان کی مدد کے لیے سرگرم ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’وزیرِاعظم کی ہدایت پر نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار واقعے میں متاثرہ پاکستانیوں کی نشاندہی و مدد کی سرگرمیوں کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔‘
قبل ازیں پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے غیرقانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش میں یونان کے قریب ڈوبنے والی کشتی میں اپنے شہریوں کی اموات کے بعد واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا۔
بیان میں وزیر داخلہ نے پاکستانیوں کی اموات پر گہرے دُکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا۔
وزیراعظم کے دفتر کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار متاثرہ پاکستانیوں کی نشاندہی و مدد کی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو: اے پی پی
سنیچر کی شب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے یونانی کوسٹ گارڈ کے حوالے سے بتایا تھا کہ جنوبی جزیرے گیوڈوس کے قریب لکڑی کی ایک کشتی الٹنے کے بعد کم از کم پانچ تارکین وطن ڈوب کر ہلاک ہو گئے جبکہ عینی شاہدین کے مطابق بہت سے لوگ لاپتہ ہیں۔
پاکستان کی وزارت داخلہ کے مطابق کشتی کے حادثے میں پاکستانیوں کی اموات کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو پانچ روز میں رپورٹ وزیر داخلہ کو پیش کرے گی۔
جاری کیے گئے بیان کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ’انسانی سمگلنگ جرم ہے، جس میں ملوث مافیا کئی گھر اجاڑ چکے ہیں۔‘
انہوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو انسانی سمگلنگ میں ملوث مافیا کے خلاف ملک گیر کارروائیاں شروع کرنے کی بھی ہدایات دیں۔