پاکستان نے جنوبی افریقی ٹیم کو ان کے اپنے ملک میں ون ڈے سیریز میں ہرا دیا ہے۔ اعداد و شمار کے اعتبار سے یہ بڑی فتح ہے۔
آسٹریلیا کی طرح جنوبی افریقہ بھی اپنے ہوم گراؤنڈ اور ہوم پچوں پر مضبوط اور خطرناک ٹیم ہے۔ خاص کر جنوبی ایشیائی ٹیم (پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا)کا وہاں سیریز جیتنا اہم اور شاندار ہے۔
آئسنگ آن دا کیک یہ کہ پاکستان نے دوسرا ون ڈے بڑے مارجن سے جیتا ہے۔ ایک طرح سے جنوبی افریقی ٹیم کو آؤٹ کلاس کر دیا۔ سیریز ہم جیت چکے ہیں۔ تیسرا میچ جیت کر وائٹ واش بھی کر سکتے ہیں، مگر توقع ہے کہ ٹیم ہر حال میں جیت کی حکمت عملی بنانے کے بجائے آخری میچ میں دو تین ریزرو کھلاڑیوں کو موقع دے گی تاکہ انہیں کچھ ایکسپوژر حاصل ہو۔
مزید پڑھیں
-
اگر آپ آسٹریلین کرکٹ کوچ ہوتے تو کیا کرتے؟Node ID: 881747
-
پہلا ون ڈے: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا دیاNode ID: 883111
جمعرات کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کا کیپ ٹاؤن میں ون ڈے میچ دیکھنا ایک بڑا خوشگوار امر تھا۔ٹیم ایک یونٹ کی طرح کھیل رہی تھی۔ مڈل آرڈر اور لوئر مڈل آرڈر نے بیٹنگ میں کمال کر دکھایا۔ جنوبی افریقہ کو ایک بڑا ہدف دیا اور پھر اچھی ڈسپلنڈ بولنگ نے جنوبی افریقہ کے سٹار پلیئرز کو چلنے نہ دیا۔
ٹیم کی کامیابی کا سب سے بڑا کریڈٹ تو کھلاڑیوں ہی کو ملنا چاہیے کہ ناکامی پر بھی سب سے زیادہ انہیں ہی تنقیدکا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس بار ٹیم اور کپتان کے ساتھ ساتھ ٹیم مینیجمنٹ خاص کر کوچ اور سلیکٹر کو بھی کریڈٹ ملنا چاہیے۔
اس وقت یہ کردار عاقب جاوید نبھا رہے ہیں، انہیں وائٹ بال کا عبوری کوچ بنایا گیا ہے جبکہ وہ سلیکشن کمیٹی کا حصہ بھی ہیں۔
عاقب جاوید کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے کھلاڑیوں پر اعتماد کر کے انہیں بھرپور مواقع فراہم کیے۔

خاص کر ڈومیسٹک میں اچھا کھیلنے والوں کو پہلی بار اتنے مواقع اور بھرپور سپورٹ ملی۔ جس پر انہوں نے کمال کر دکھایا۔ اب یہی دیکھ لیں کہ ویسٹ انڈیز میں ہونے والے ورلڈ کپ میں صائم ایوب زیادہ کامیاب نہیں ہوئے تھے۔
کوئی اور سلیکشن کمیٹی ہوتی تو غریب کا کیریئر ہی تباہ ہوجاتا۔ عاقب جاوید نے صائم ایوب کو انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں موقع دیا جبکہ اس کے بعد انہیں آسٹریلیا، زمبابوے اور جنوبی افریقہ کے خلاف وائٹ بال کرکٹ میں بھی بھرپور موقع دیا گیا۔
اس سے پہلے کرکٹ بورڈ صائم ایوب کو صرف ٹیسٹ اور ون ڈے میں استعمال کرنے کا سوچ رہا تھا، ٹی 20 سکواڈ میں اسے شامل ہی نہیں کیا گیا۔
عاقب جاوید نے البتہ ون ڈے سیریز میں صائم کی کارکردگی دیکھ کر اسے زمبابوے اور جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھی موقع دیا۔ صائم نے جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے ٹی 20 میچ میں 98 رنز کی شاندار اننگ کھیل کر یہ سلیکشن درست ثابت کر دی۔
اسی طرح کامران غلام کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے وہ کئی برسوں سے ڈومیسٹک میں بہت اچھا پرفارم کر رہے تھے، مگر انہیں قومی ٹیم میں شامل نہیں کیا جا رہا تھا۔ عاقب جاوید نے انگلینڈ کے خلاف بابراعظم کو ڈراپ کر کے کامران غلام کو کھلایا تو اس نے شاندار سینچری بنا ڈالی۔ اس کے باوجود کامران غلام کو آسٹریلیا کے خلاف سلیکٹ کرنا ایک بڑا بولڈ قدم تھا۔

کامران غلام پرتھ میں جس طرح کمنز کی شارٹ پچ پر آؤٹ ہوا، اس کے بعد ان کے حوالے سے منفی تاثر قائم ہوا۔ کوئی اور سلیکشن کمیٹی کامران غلام کو زمبابوے اور جنوبی افریقہ کے خلاف نہ آزماتی۔
موجودہ سلیکشن کمیٹی نے کامران غلام کو مواقع دیے تو اس نے زمبابوے کے خلاف شاندار سینچری جڑ دی، جبکہ گزشتہ رات جنوبی افریقہ کے خلاف جیسی دھواں دھار بیٹنگ کی، اس کا شاید بہت سوں کو یقین ہی نہ آئے۔
32 گیندوں پر 63 رنز بنائے جن میں پانچ شاندار چھکے شامل تھے۔ کامران غلام کی ایسی پاورہٹنگ کم لوگوں نے دیکھی ہو گی۔
ثابت ہوا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کا تجربہ رکھنے والے باصلاحیت کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں مواقع دینے چاہییں۔
صائم ایوب اور کامران غلام کی طرح ہی ابراراحمد کا معاملہ ہے۔ بدقسمتی سے جب بابراعظم کپتان تھے تو وہ نجانے کیوں ابرار کو نہیں کھلاتے رہے اور آؤٹ آف فارم شاداب خان کو مواقع دیتے تھے۔
ابرار نے پچھلے دونوں ورلڈ کپ ایونٹس میں شرکت کی مگر ایک میچ نہیں کھلایا گیا۔ اب ابرار کو وائٹ بال کرکٹ تواتر سے کھلا رہے ہیں تو اس نے کمال ہی کر دیا ہے۔
زمبابوے اور اب جنوبی افریقی بلے بازوں کو ابرار نے چکرا کر رکھ دیا ہے۔ اس کی گھومتی گیندوں نے دو نوں ون ڈے میچز میں جنوبی افریقہ کے تجربہ کار بیٹرز کو بھی پریشان کر دیا۔
ابرار پر بھی کوچ اور سلیکٹر عاقب جاوید نے اعتماد کیا اور اس نے پرفارم کر کے یہ سلیکشن درست ثابت کر دی۔
عاقب جاوید کی سلیکشن کمیٹی نے پلیئرز پاور ختم کر دی ہے۔ کوئی ٹیم کے لیے لازمی نہیں رہ گیا۔ بابر، شاہین وغیرہ ایک بار ڈراپ ہو چکے ہیں۔
نسیم شاہ کو بھی بری کارکردگی دکھانے پر زمبابوے کے خلاف باہر بٹھا دیا گیا۔ آج جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں نسیم شاہ عمدہ فارم میں نظر آیا۔ اس نے ڈسپلنڈ بولنگ کی جبکہ سپیڈ بھی خاصی بڑھ گئی ہے، بعض گیندیں لگ بھگ 90 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے کرائیں۔

شاہین شاہ آفریدی کی بولنگ میں بہتری کا کریڈٹ بھی کوچ کو کچھ نہ کچھ تو ملنا چاہیے۔
معلوم ہوتا ہے کہ اب شاہین آفریدی گیند کو دونوں طرف سوئنگ کرنا سیکھ گئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اچھا یارکر بھی پہلے کی طرح کرانے لگے ہیں۔ کیپ ٹاؤن میں شاہین آفریدی نے جس گیند پر مارکو جانسن کو یارکر سے بولڈ کیا، وہ غیر معمولی گیند تھی۔
ایک خامی البتہ دوسرے میچ میں بہت زیادہ نمایاں نظر آئی، وہ خراب فیلڈنگ اور کیچ چھوڑنا ہے۔ ویسے تو جنوبی افریقہ نے بھی اس میچ میں کیچ چھوڑنے کی حد کر دی تھی، تاہم پاکستانی فیلڈرز کو بھی ایک اچھے فیلڈنگ کوچ کی ضرورت ہے۔ ان سے ہاتھ میں کیچ نہیں پکڑا جاتا، گیند پکڑ کر پھر گرا دیتے ہیں۔
اس سیریز میں صائم ایوب بڑا سٹار بن کر ابھرا ہے۔ پہلے ون ڈے میں صائم نے جو شاندار سینچری بنائی، وہ کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ دوسرے میچ میں بھی اچھا کھیل رہا تھا۔ بیڈ لک کہ باؤنڈری پر کیچ ہو گیا۔
سلمان آغا نے بھی ثابت کیا ہے کہ وہ ون ڈے سکواڈ کا مرکزی حصہ ہیں۔ سلمان نے پہلے میچ میں اچھی باولنگ کر کے چار وکٹیں لیں اور پھر وکٹ پر ٹھہر کر میچ فنش کرایا۔ دوسرے میچ میں بھی وہ اچھا کھیلا، اگرچہ اننگ طویل نہ ہو سکی۔ سلمان آغا ون ڈے ٹیم کا اچھا مستقل بنیاد پر کھیلنے والا آ ل راؤنڈر ہے۔
پہلے میچ میں صائم ایوب نے بھی اچھی بولنگ کی۔ دوسرے ون ڈے میں رضوان کو چاہیے تھا کہ صائم ایوب سے دو تین اوور تو کراتا۔ صائم اچھا مفید پارٹ ٹائم سپنر ہے، اسے وائٹ بال کرکٹ میں مواقع ملنے چاہییں، یہ نئی گیند سے بھی بولنگ کرا سکتا ہے۔
پاکستان جنوبی افریقہ سے دوسرا ٹی 20 ایک بڑا ہدف دینے کے باوجود ہار گیا۔ اگر اس میچ میں رضوان فاسٹ بولرز پر زور دینے کے بجائے صائم ایوب سے بولنگ کراتا تو اچھا رہتا کیونکہ ابرار احمد نے اس میچ میں اچھی بولنگ کرائی تھی۔ رضوان کو نجانے کیوں یہ خیال نہیں آیا حالانکہ فاسٹ بولرز کی زبردست دھنائی ہو رہی تھی۔
