’آج سے ایک سال قبل ذاتی رنجش کی بنا پر میرے بڑے بھائی کو قتل کر دیا گیا۔ مرکزی ملزم نے دن کی روشنی میں بھائی کے سینے پر تین گولیاں چلائیں اور فرار بھی ہو گیا۔ اس واقعے کی ایف آئی آر تھانہ روات میں درج کروائی گئی، پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کئی جگہ چھاپے مارے مگر ملزم گرفتار نہیں ہوا۔‘
یہ کہنا ہے راولپنڈی کے علاقے روات کے رہائشی راجہ اسلم (فرضی نام) کا ، جن کے بڑے بھائی کو ایک سال قبل تھانہ روات کی حدود میں قتل کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں
-
لاہور کی خاتون وکیل کا قتل جو پولیس کے لیے معمہ بن گیاNode ID: 885986
راجہ اسلم کے مطابق پولیس نے ملزم کو اشتہاری بھی قرار دلوا دیا تاہم ایک سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی بھائی کے قتل میں ملوث ملزم قانون کی گرفت میں نہیں آ سکا‘
اس وقت راولپنڈی پولیس چوری، ڈکیتی، قتل اور دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث مجموعی طور پر 9 ہزار 127 اشتہاری ملزمان کی تلاش میں ہے۔
اشتہاری ملزمان کی اس تعداد کے سامنے آنے پر یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا راولپنڈی میں اشتہاری ملزمان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے؟ اُردو نیوز نے اس سوال کا جواب جاننے کے لیے راولپنڈی پولیس کے ترجمان اور ماہرین سے گفتگو کی ہے۔
راولپنڈی پولیس کے ترجمان سجاد الحسن نے اس تأثر کی نفی کی کہ اشتہاری ملزمان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
اُن کے مطابق راولپنڈی شہر میں گزشتہ تین برس کے دوران جرائم کی شرح میں بدستور کمی آئی ہے، اور پولیس نے صرف سال 2024 کے دوران 2 ہزار 138 اشتہاری ملزمان گرفتار کیے ہیں۔
دوسری جانب ماہرین کے خیال میں پولیس کو راولپنڈی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں اشتہاری ملزمان کی عدم گرفتاری کے چیلنج کا سامنا ہے۔

اُن کے خیال میں اشتہاری ملزمان کی عدم گرفتاری کی ایک بڑی وجہ تو پولیس کی نااہلی ہے، تاہم پولیس کو دستیاب وسائل اور تربیت کی کمی اور ناقص عدالتی نظام بھی اشتہاری ملزمان کی عدم گرفتاری کی وجوہات میں شامل ہیں۔
اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟
راولپنڈی پولیس کو مطلوب اشتہاری ملزمان کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت راولپنڈی پولیس کو مجموعی طور پر 9 ہزار 127 اشتہاری ملزمان مطلوب ہیں۔
ان میں چوری، ڈکیتی اور قتل سمیت دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ملزمان بھی شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق راولپنڈی پولیس نے اشتہاری ملزمان کی مجموعی تعداد میں سے 941 کو اے کیٹگری میں شامل کر رکھا ہے، جبکہ بقیہ 8186 ملزمان کٹیگری بی میں ہیں۔
پولیس کے اعدادوشمار میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان اشتہاری ملزمان میں سے 16 ایسے ملزمان ہیں، جو جرم کا ارتکاب کر کے بیرون ملک فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں جن کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
’مفرور ملزمان کی زیادہ تعداد پولیس کی ناکامی کا اشارہ‘
پولیس سروسز میں 36 سال ملازمت کا تجربہ رکھنے والے سابق انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس طاہر عالم خان نے اشتہاری ملزمان کی عدم گرفتاری کے معاملے پر اُردو نیوز کو بتایا ہے کہ کسی بھی علاقے میں اشتہاری ملزمان کی عدم گرفتاری یا اُن کی بڑھتی تعداد بنیادی طور پر پولیس کی ناکامی ہے۔
اُنہوں نے اس ناکامی کی مختلف وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’پولیس کے پاس ایسے ملزمان کی محدود معلومات، وسائل کی کمی اور رائج عدالتی نظام گرفتاری میں تاخیر کی وجہ ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ پولیس کو مطلوب ملزمان کے بارے میں تمام معلومات بشمول شناختی کارڈ، گھر کا پتہ وغیرہ ہونی چاہییں۔ اسی طرح ملزمان کی تلاش میں ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کے لیے وسائل اور مختلف ذرائع سے ان پر نظر رکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔

طاہر عالم کے خیال میں ’پولیس کی جانب سے اشتہاری ملزمان کی تلاش کے لیے نادرا جیسے دوسرے اداروں سے مدد لینا بھی نہایت اہم ہے۔ اگر ہمارے اداروں کا ریکارڈ آپس میں منسلک ہو تو کسی بھی ملزم کا شناختی کارڈ اور اُس کی سفری مصروفیات ملزمان کی گرفتاری میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔‘
اُنہوں نے اپنی گفتگو کے آخر میں بتایا کہ ’اگر کچھ قوانین میں ترامیم متعارف کروا کے اشتہاری ملزمان کے شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور اُن کے نام جائیداد کو اُن کی گرفتاری تک ضبط کر لیا جائے تو ان اقدامات سے وہ قانون کی گرفت میں جلدی آ سکتے ہیں۔‘
’عدالتی نظام کا بھی بڑا کردار ہے‘
پراسیکیوٹر کے طور پر کام کا تجربہ رکھنے والے سینیئر وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے اشتہاری ملزمان کی بڑھتی تعداد اور اُن کی گرفتاری میں تاخیر کے معاملے پر بتایا کہ ’زیادہ تر قتل اور دہشت گردی جیسی سرگرمیوں میں ملوث ملزمان جنہیں عدالت سے ضمانت کی اُمید نہ ہو، پولیس کی پہنچ سے دور بھاگ جاتے ہیں اور پھر اشتہاری ملزمان کی فہرست میں شامل ہو جاتے ہیں۔‘
اُنہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ کسی بھی نوعیت کے ملزم کی عدم گرفتاری بنیادی طور پر تو پولیس کی نااہلی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اُنہوں نے واضح کیا کہ اس ضمن میں ہمارے عدالتی نظام کا بھی بڑا کردار ہے کیونکہ اکثر ملزمان عدالت سے عارضی ضمانت کروا کر بھاگ جاتے ہیں۔
انعام الرحیم کے مطابق ’اشتہاری ملزمان کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے پولیس کی صلاحیت میں اضافہ اور عدالتی نظام میں اصلاحات ضروری ہیں۔‘
’پولیس کے تفتیش کے طریق کار میں خرابیاں‘
سابق ایس ایس پی اسلام آباد پولیس فرحت عباس کاظمی کے خیال میں اشتہاری ملزمان کی تاخیر سے گرفتاری ہمارے پولیس کے تفتیشی طریق کار میں شامل خرابیاں ہیں۔
اُنہوں نے واضح کیا کہ زیادہ تر اشتہاری ملزمان چوری، ڈکیتی اور راہزنی کے کیسز میں ملوث ہوتے ہیں۔ قتل اور دہشت گردی کے کیسز میں زیادہ تعداد میں اشتہاری ملزمان نہیں ہوتے۔

فرحت عباس کاظمی نے مزید کہا کہ ’پولیس کے پاس ملزمان کی نامکمل معلومات ہوتی ہیں، یعنی پولیس تفتیشی افسران کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ملزمان کا پورا نام اور شناختی کارڈ نمبر وغیرہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ایک شہر کے اشتہاری ملزمان دوسرے شہر میں گھوم پھر رہے ہوتے ہیں، لیکن پولیس کو خبر تک نہیں ہوتی۔
انہوں نے بھی پولیس کے پاس وسائل کی کمی اور اُن کی معیاری تربیت نہ ہونے کو بھی اشتہاری ملزمان کی عدم گرفتاری کی وجوہات قرار دیا ہے۔
ملزم گرفتار نہ ہونے پر عدالت اسے اشتہاری قرار دیتی ہے: پولیس
راولپنڈی پولیس کے ترجمان سجاد الحسن کا کہنا تھا کہ ’مقدمات درج ہونے پر ملزمان کی عدم گرفتاری کی صورت میں عدالت اُنہیں اشتہاری قرار دیتی ہے اور پھر ہم ایسے ملزمان کو کسی بھی تھانے کی حدود سے گرفتار کر لیتے ہیں۔‘
اُنہوں نے راولپنڈی پولیس کے اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا کہ راولپنڈی میں سال 2022 میں 50 ہزار کے قریب مقدمات درج ہوئے تھے۔ اُس کے بعد 2023 میں مقدمات کی تعداد 40 ہزار کے قریب تھی جبکہ گزشتہ برس ان مقدمات کی تعداد 30 ہزار ریکارڈ کی گئی۔
’اگر اسی تناسب کو مدنظر رکھا جائے تو گزشتہ تین برس کے دوران راولپنڈی شہر میں جرائم کی شرح میں بدستور کمی واقع ہوئی ہے اور اگر وارداتیں ہی کم ہوئی ہیں تو اشتہاری ملزمان کی تعداد میں اضافہ کیسے ہو سکتا ہے؟‘
اُنہوں نے بتایا کہ راولپنڈی پولیس نے گزشتہ سال 2 ہزار 138 اشتہاری ملزمان گرفتار کیے ہیں اور 2400 ملزمان اب بھی مطلوب ہیں۔