دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی متبادل توانائی کے حصول کی دوڑ اپنے عروج پر ہے اور بڑی تعداد میں لوگ شمسی توانائی پر منتقل ہو رہے ہیں۔
سولر سسٹمز کی بھرمار کی وجہ سے حکومت پاکستان بھی آئے دن اس حوالے سے نئی پالیسیاں مرتب کر رہی ہے۔ بڑے شہروں کی چھتوں پر اب پانی کے نیلے ٹینک کی جگہ سولر پینلز نظر آتے ہیں جن سے چھتیں تقریبا ڈھکی ہوئی لگتی ہیں۔
تاہم حال ہی میں کچھ ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں چھتوں پر لگے سولر پینل ہوائی فائرنگ سے متاثر ہونے کی شرح بڑھی ہے۔
مزید پڑھیں
-
لاہور سے مبینہ طور پر کروڑوں روپے مالیت کا چلغوزہ کیسے غائب ہوا؟Node ID: 887350
محمد عدیل کا تعلق لاہور سے ہے، گذشتہ ہفتے جب ان کی چھت پر لگے سولر پینلز نے بجلی کم پیدا کرنا شروع کی تو وہ چھت پر صفائی کرنے کے لیے گئے تو ایک پینل ٹوٹا ہوا تھا۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ نشان ایسا تھا جس سے پینل کا شیشہ چکنا چور تھا۔ اور نیچے سے سیل بھی ٹوٹ چکا تھا۔ میں نے جس کمپنی سے سولر پینل لگوایا تھا ان کو کال کی تو ان کی ٹیم پہنچی۔
’اس ٹیم نے بتایا کہ یہ پینل گولی لگنے سے ٹوٹا ہے۔ جس کے بعد مجھے بتایا گیا کہ اب اس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ یہ پورا پینل تبدیل کیا جائے گا۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ کیا اس کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن نہیں ہے یا کم از کم اس کا ایسا کوئی حل نہیں ہے۔‘
محمد عدیل نے مزید کہا کہ ’انہوں نے مشورہ دیا کہ اس کو جلد از جلد تبدیل کروائیں ورنہ شارٹ سرکٹ کے باعث پورا سسٹم اڑ سکتا ہے۔ اور اس طرح کا ایکسیڈنٹ وارنٹی کلیم میں بھی نہیں آتا۔ جس کے بعد مجھے پورا پینل نیا لگوانا پڑا۔‘
خیال رہے کہ ان دنوں پاکستان میں کسی بھی اچھی کمپنی کے ایک سولر پینل کی قیمت 30 سے 33 ہزار روپے تک ہے۔ اس سے کم میں بھی پینل مل رہے ہیں جبکہ پینلز کی وارنٹی 20 سے 25 سال تک ہے۔ تاہم حادثات سے ہونے والا نقصان وارنٹی میں نہیں آتا۔

لاہور ہی کے ایک اور شہری عاطف، جو کہ فیکٹری ایریا کے رہائشی ہیں، نے بتایا کہ گذشتہ ماہ نیا سولر سسٹم لگوانے کے صرف ایک دن بعد ایک ہوائی فائرنگ سے آنے والی گولی نے ان کا پینل توڑ دیا۔
’یہ ابھی دوسرا دن تھا اور میں نے نوٹ کیا کہ ایک دن قبل جو وولٹیج آ رہا تھا ایک ہی دن بعد اس میں کمی ہو گئی ہے۔ میں نے اس کمپنی کو بلایا جنہوں نے انسٹال کیا تھا تو تب پتا چلا کہ اصل میں ہوا کیا ہے اور مجھے وہ پینل تبدیل کروانا پڑا۔‘
’ہوائی فائرنگ کا کوئی توڑ نہیں‘
سولر سسٹم کے کاروبار سے منسلک یاسر صدیقی کہتے ہیں کہ سولر پینل کے اوپر 2 ایم ایم کا موٹا ایک شیشہ ہوتا ہے جو سیلیکون سیلز کی حفاظت کے لیے ہوتا ہے، اس شیشے میں اگر کسی بھی چیز سے کریک آ جائے۔ اور حفاظتی حصار ٹوٹ جائے تو سیل موسم کی سختی برداشت نہیں کر پائے گا، اور قوی امکان ہیں کہ شارٹ سرکٹ ہو سکتا ہے۔
’میں نے گذشتہ ایک سال میں 90 یونٹ لگائے ہیں جن میں سے دو کے شیشے ہوائی فائرنگ سے ٹوٹے، ایک پر صفائی کے دوران پاؤں رکھنے سے کریک آیا۔ اور ہم نے مالکان کو فوری پینل تبدیل کروانے کا مشورہ دیا۔‘

خراب شدہ پینلز کو ٹھیک کروانے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ابھی تک نہیں دیکھا کہ شیشے کو دوبارہ بحال کیا جا سکے، اور یہاں ایسی کوئی ٹیکنالوجی بھی نہیں ہے۔
’بین الاقوامی سطح پر کمپنیاں یہ کام کر رہی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک پینل کے شیشے کو خراب ہونے کی صورت میں جب آپ اس کو کسی بھی میٹیریل سے جوڑیں گے تو اس میٹریل کی اپنی معیاد کتنی ہو گی؟ کیا کوئی ایسا میٹریل ہے جو 25 سال تک کسی چیز کو جوڑ کر رکھ سکتا ہو؟‘
یاسر صدیقی کا کہنا تھا کہ ’ہوائی فائرنگ کا مسئلہ بہت پرانا ہے سالانہ سینکڑوں لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں اب جبکہ چھتوں پر سولر پینل ہیں تو یہ ان سے متاثر ہو رہے ہیں اس کے لیے حکومت کو یا پولیس کو کوئی سخت پالیسی لانا ہو گی ورنہ اس کا کوئی حل نہیں۔‘
اس حوالے سے جب محکمہ پولیس سے رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ سولر پینلز ہوائی فائرنگ سے متاثر ہونے پر کوئی اعداوشمار دستیاب نہیں ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہوائی فائرنگ میں اگر کوئی جانی نقصان ہوتا ہے تو پولیس اس معاملے کو دیکھتی ہے۔ تاہم سولر سے متعلق واقعات لوگ رپورٹ نہیں کر رہے ہیں۔
تاہم مختلف کمپنیاں جو سولر پینل انسٹال کر رہی ہیں، ان سے بات چیت کے دوران معلوم ہوا کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں ہوائی فائرنگ سے سولر پینلز کو نقصان پہنچنے کا احتمال تین سے پانچ فیصد کے درمیان ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صرف لاہور کی حدود میں 83 ہزار صارفین سولر پینلز سے بجلی پیدا کر رہے ہیں۔