Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل رمضان میں غزہ پر حملے بند کرنے پر رضامند: جو بائیڈن

غزہ میں سات اکتوبر سے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ جاری ہے (فوٹو: روئٹرز)
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل مسلمانوں کے مقدم مہینے رمضان کے دوران غزہ پر فوجی سرگرمیاں روکنے پر رضامند ہو گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روٹرز کے مطابق جنگ بندی کے معاہدے کی دستاویز حماس کی قیادت کو بھی دی گئی ہے جس میں جنگ بندی کے علاوہ یرغمالیوں کے تبادلے کے نکات بھی شامل ہیں۔
پیرس میں ہونے والے مذاکرات میں شامل ایک سورس نے روئٹرز کو بتایا کہ معاہدے کے بعد ہسپتالوں اور بیکریوں کو مرمت کی اجازت مل جائے گی ہر روز 500 ٹرک تباہ حال علاقے میں داخل ہوں گے۔
اس بات چیت کو پچھلے چند ہفتوں کے دوران اس جنگ کو ختم کے لیے ایک سنجیدہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے جو پچھلے برس اکتوبر میں شروع ہوئی تھی۔  
رمضان کی آمد 10 مارچ کو متوقع ہے جو نو اپریل کو ختم ہو گا۔
قبل ازیں امریکی صدر نے توقع ظاہر کی تھی کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ اگلے پیر تک نافذالعمل ہو سکتا ہے، جس کے بعد دونوں کے درمیان جنگ رُک جائے گی اور باقی ماندہ یرغمالی بھی رہا ہو جائیں گے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نیویارک میں این بی سی کے لیے انٹرویو دینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب امریکی صدر جو بائیڈن سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں کب تک غزہ میں جنگ بندی پر عمل شروع ہو سکتا ہے؟

رفح میں 14 لاکھ کے قریب فلسطینیوں نے پناہ لے رکھی ہے (فوٹو: روئٹرز)

تو امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ اس ہفتے کے آخر تک عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔ میری سکیورٹی ایڈوائز نے بتایا ہے کہ اگرچہ ابھی معاملہ پوری طرح مکمل نہیں ہوا مگر ہم اس کے قریب پہنچ چکے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’مجھے امید ہے کہ اگلے پیر تک جنگ بندی ہو جائے گی۔‘
اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک ہفتے کے دورانیہ کی جنگ بندی کے لیے بات چیت جاری ہے۔ جس کا مقصد غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیل کے پاس سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی ہے۔
مجوزہ چھ ہفتے پر مشتمل جنگ بندی کی بدولت ان سینکڑوں امدادی سامان پر مشتمل ٹرکوں کو بھی غزہ داخل ہونے کی اجازت مل جائے گی جن کی غزہ میں شدید ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
مذاکرات میں شامل فریقوں کو مارچ میں مقدس مہینے رمضان کی شکل میں ایک غیرسرکاری ڈیڈلائن کا بھی سامنا ہے اور اس دوران اکثر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔
انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ نے پیر کے روز بتایا کہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کی اعلٰی عدالت کے ان احکامات پر عمل نہیں کیا جن میں غزہ میں فوری امدادی سامان بھجوانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ 
جنوبی افریقہ کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں دائر کرائی گئی درخواست میں اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کا الزام لگایا گیا تھا جس پر عدالت نے اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ وہ علاقے میں نسل کشی اور تباہی کی کسی بھی کارروائی کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے۔

اسرائیلی وزیراعظم آفس کا کہنا ہے کہ فوج نے رفح آپریشن کے حوالے سے پلان کابینہ کے سامنے پیش کر دیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی) 

دوسری جانب اسرائیل ایسے تمام الزامات سے انکار کرتا ہے اور اسے ’اپنے دفاع کی جنگ‘ قرار دیتا ہے۔
تقریباً پانچ ماہ سے جاری اس جنگ میں اسرائیل کی جانب سے غزہ کے جنوبی قصبے رفح میں زمینی کاررورائی کی کو بڑھانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جہاں 14 لاکھ کے قریب فلسطینیوں نے پناہ لے رکھی ہے۔
پیر کی صبح اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ فوج نے رفح کے حوالے سے اپنا آپریشنل پلان کابینہ کے سامنے پیش کیا ہے جس میں وہاں سے شہریوں کو نکالنے کی منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ مزید تفصیلات نہیں بتائی گئی تھیں۔
رفح میں بننے والی صورت حال پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اسرائیل کے اتحادیوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ میں عام شہریوں کی حفاظت کی جائے۔
پیر کو ہی فلسطین کے وزیراعظم محمد اشتیا نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ صدر محمد عباس امریکی مطالبے کے مطابق اندرونی اصلاحات کے لیے ٹیکنوکریٹس کا تقرر کریں گے۔
سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیل نے ایک بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا تھا جس کے بعد سے لڑائی جاری ہے۔ غزہ میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور انفراسٹرکچر بھی تباہ ہو چکا ہے۔

شیئر: