Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پی آئی اے کے ’فراری عملے‘ کو روکنے میں کینیڈین پولیس معاون ہو گی؟

سال 2023 میں سات جبکہ رواں برس اب تک تین فضائی میزبان کینیڈا میں ’لاپتا‘ ہو چکے ہیں(فائل فوٹو: روئٹرز)
کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں فروری کی ایک سرد شام کو ایک بڑے ہوٹل کے سامنے ایک ویگن رکی۔ تھوڑی ہی دیر میں ہوٹل کی راہداریوں سے پاکستانی کی قومی ائیرلائن پی آئی اے کے عملے کے افراد نمودار ہونا شروع ہوئے۔
جب سبھی لوگ اس ویگن میں بیٹھ گئے جو انہیں ائیرپورٹ لے کر جانے والی تھی تو احتیاطاً ایک پائلٹ نے عملے کے افراد کو گننا شروع کیا تو ان کی تعداد 17 تھی۔
عملے کا ایک رکن غائب تھا۔ جلد ہی سب کو اندازہ ہو گیا کہ مریم رضا نامی ایک 41 سالہ ائیرہوسٹس ابھی تک نہیں پہنچیں۔ کچھ دیر اور انتظار کیا گیا پھر کیپٹین اور عملے کے چند افراد اترے اور دوبارہ ہوٹل کے اندر گئے اور  ہوٹل انتظامیہ کے ساتھ جا کر مریم رضا کے دروازے پر دستک دی گئی۔ اندر سے کوئی جواب نہ ملنے پر ماسٹر چابی سے دروازہ کھول دیا گیا۔
کمرے میں مریم رضا موجود نہیں تھیں۔ کپڑوں کی الماری میں صرف ان کا پی آئی اے ائیرہوسٹس کا یونیفارم لٹکا ہوا تھا اور اس پر موٹے مارکر سے لکھا ہوا تھا کہ ’تھینک یو پی آئی اے‘۔
ان کی تلاش میں آئے عملے کو صورتِ حال فوری سمجھ میں آ گئی اور وہ واپس آ کر ویگن میں بیٹھے اور ائیرپورٹ کی راہ لی کیونکہ وہاں پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 784 واپس پاکستان جانے کے لیے تیار تھی۔
یہ فلائٹ 18 افراد کے عملے میں سے17 ارکان کو لے کر واپس پاکستان پہنچی۔
مریم رضا کا تعلق پاکستان کے شہر اسلام آباد سے ہے اور وہ پچھلے 20 برس سے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز میں بطور ائیرہوسٹس ملازم تھیں۔
اس واقعے کے دو روز بعد پی آئی اے کے ایک 48 سالہ فضائی میزبان جبران بلوچ جن کا تعلق کراچی سے ہے، وہ بھی ایسے ہی ہوٹل کے کمرے سے بغیر بتائے کینیڈا میں غائب ہو گئے۔
روں برس جنوری میں فائزہ مختار نامی ائیرہوسٹس بھی کینیڈا جانے والی پی آئی اے کی فلائیٹ کے کینیڈا پہنچنے کے بعد غائب ہوئیں۔

ان واقعات کے بعد پی آئی اے مینجمنٹ کینیڈین رائل پولیس کے ساتھ رابطہ کیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کے فضائی میزبانوں کا کینیڈا سمیت دیگر یورپی ممالک میں پہنچ کر غائب ہو جانا اب ایک نئی روایت بن چکی ہے۔
خود پی آئی اے کے اعداد شمار کے مطابق سال 2023 میں سات جبکہ رواں برس اب تک تین فضائی میزبان کینیڈا میں ’لاپتا‘ ہو چکے ہیں۔
پی آئی اے کو اس حوالے سے ایک بحرانی صورت حال کا سامنا ہے۔ ائیرلائن کی ساکھ شدید متاثر ہو رہی ہے۔ عملے کے افراد پی آئی اے کو استعمال کرتے ہیں اور غیرقانونی طور پر ان ملکوں خاص طور پر کینیڈا میں مقیم ہو جاتے ہیں۔
پی آئی اے کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ ’اس مسئلے کے تدارک کے لیے ایف آئی اے اور کینیڈین سفارت خانے کو لکھا گیا لیکن کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔‘
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’لیکن اب ان واقعات کے بعد پی آئی اے مینجمنٹ کینیڈین رائل پولیس کے ساتھ رابطہ کیا ہے اور اس طرح کا فریم ورک بنایا جا رہا ہے کہ جب عملے کے افراد جہاز سے باہر نکلیں تو ان سے کینیڈین پولیس بیان حلفی لے کہ وہ اپنے ملک واپس جائیں گے۔
اب یہ نیا بندوبست کیا صورت اختیار کرتا ہے، آئندہ چند دنوں میں واضح ہو جائے گا۔ پچھلے برس سے زیادہ واقعات اس لیے بھی سامنے آ رہے ہیں کیونکہ پی آئی اے کی نجکاری کی بات بھی چل رہی ہے۔‘
ترجمان پی آئی اے عبداللہ خان نے بتایا کہ ’ائیرلائن کو ایک سنجیدہ صورت حال کا سامنا ہے۔ اس حوالے جتنے بھی طریقہ کار پہلے وضح کیے گئے وہ کارگر ثابت نہیں ہوئے۔ اس لیے اب اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے کینیڈین حکام کے ساتھ مینجمنٹ رابطے میں ہے اور اس حوالے سے جلد میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔‘
عبداللہ خان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’جب ایک فلائٹ کینیڈا جاتی ہے تو اس کے بعد 24 گھنٹے کے لیے عملے کو آرام دیا جاتا ہے اور ان کا ہوٹل بک ہوتا ہے۔ جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں وہ اس آرام کے لیے دیے جانے والے وقت کے دوران ہوئے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’عملے کو آپ باہر جانے سے روک نہیں سکتے اور نہ ہی وہاں اس طرح ان کی رکھوالی کی جا سکتی ہے جب تک کہ وہاں کی مقامی حکومت آن بورڈ نہ ہو۔ لیکن کینیڈین قوانین میں بہت زیادہ لچک ہے جس کی وجہ سے بھی اس صورت حال کا سامنا رہتا ہے۔‘
کینیڈا جانے والی پی آئی اے کی  فلائٹس میں عام طور پر چار پائلٹ اور عملے کے دیگر 14 افراد جن میں مرد اور عورتیں فضائی میزبان کے طور پر ہوتے ہیں۔ جبکہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ہر سال اوسطاً سات فضائی میزبان بہتر مستقبل کے لیے پی آئی اے کی ’سروسز‘ استعمال کر کے غائب ہو جاتے ہیں۔

شیئر: