Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حکومت کا ججز کے خط پر انکوائری کمیشن بنانے کا اعلان

وزیر قانون نے بتایا کہ چیف جسٹس نے ججز کے خط کے بعد وزیراعظم سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ فائل فوٹو: سکرین گریب
پاکستان میں حکومت نے اعلٰی عدلیہ کے اس خط پر انکوائری کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے جس میں خفیہ ایجنیسوں کی جانب سے عدالتی امور میں مداخلت کا الزام لگایا گیا تھا۔
جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ملاقات کے بعد وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اٹارنی جنرل کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی جانب سے عدالتی امور میں مداخلت کے خط پر انکوائری کے لیے کمیشن کی تشکیل کل کابینہ کرے گی۔ 
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے خط کے بعد چیف جسٹس نے خواہش کا اظہار کیا کہ اس مسئلے پر وزیراعظم اُن سے ملیں۔ معاملے کی سنجیدگی دیکھتے ہوئے وزیراعظم نے تمام تر مصروفیات کے باوجود کہا کہ ’میں خود جاؤں گا چیف جسٹس سے ملنے۔‘
انھوں نے کہا کہ آج دو بجے ملاقات ہوئی، ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی اس ملاقات میں اس مسئلے پر بات ہوئی۔ اس کے علاوہ قومی مسائل اور ٹیکس معاملات پر التوا اور تاخیر پر بھی بات ہوئی۔ وزیراعظم نے باقی صوبوں کے چیف جسٹسز سے بھی جلدی کیس نمٹانے کے لیے بات کرنے کی درخواست کی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اصل بات ججوں کے خط والا معاملہ تھا اور یہ آوازیں پہلے بھی آتی رہی ہیں۔ وزیراعظم نے آغاز پر ہی عدلیہ کی آزادی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت اور خاندان اس طرح کے حالات سے گزرے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہییں اور مستقبل میں بھی اس طرح کے معاملات سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل طے پا جانا چاہیے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کل یہ معاملہ کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا اور کسی نیک نام ریٹائرڈ عدالتی شخصیت کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا اور وہ کمیشن اس سارے معاملے کی تحقیقات کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ادارہ جاتی مداخلت نہیں ہو گی۔ عدلیہ، پارلیمنٹ اور مقننہ کے اختیارات میں بھی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ ماضی قریب میں سپریم کورٹ سے پارلیمان کی بالادستی کے لیے جو فیصلے آئے ہیں وہ خوش آئند ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے بھی انکوائری کمیشن بنانے کی تجویز سے اتفاق کیا بلکہ انھوں نے یہ معاملہ پہلے فل کورٹ میں رکھا اور وہاں مشاورت کرنے کے بعد ہی انھوں نے اس سے اتفاق کیا۔ اس طرح کے معاملات کے لیے کمیشن آف انکوائری ہی قانونی طریقہ کار ہے۔

شیئر: