ریاض ..... وزارت محنت اور سماجی بہبود کے ترجمان خالد اباالخیل نے انکشاف کیا ہے کہ گاڑیوں کے شورومز وایجنسیوں، گاڑیوں کے فاضل پرزے فروخت کرنے والی دکانوں ، تجارتی مراکز (مال) اور الیکٹرونک سامان فروخت کرنے والی دکانوں کی سعودائزیشن کا فیصلہ کرلیاگیا ہے۔ باحہ ر یجن میں یکم جنوری سے عملدرآمد شروع کردیا جائے گا۔ اباالخیل نے توجہ دلائی کہ محنت و سماجی بہبود کا نظام سعودائزیشن کے نصب العین کو یقینی بنانے کیلئے مختلف شعبوں میں تعاون فراہم کرے گا۔ سعودائزیشن کیلئے مختص سرگرمیوں میں دلچسپی رکھنے والے سعودیوں کو تربیتی کورس کرائے جائیں گے۔ آن لائن تربیتی پروگرام پیش کئے جائیں گے۔ تکنیکی مدد دی جائے گی، مالیاتی تعاون فراہم کیا جائے گا۔ کام دینے اور روزگار کے متلاشی نوجوانوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے روزگار فورم منعقد کئے جائیں گے۔ اس سلسلے میں لیبر نیشنل گیٹ سے بھی استفادہ کیا جائے گا۔ سعودائزیشن کے نفاذ پر مامور کمیٹیوں کے ساتھ تفتیشی عمل میں حصہ لیا جائے گا۔ گورنر باحہ شہزادہ ڈاکٹر حسام بن سعود بن عبدالعزیز اور وزیر محنت ڈاکٹر علی الغفیص نے باحہ میں رہنما سعودائزیشن پروگرام کے اجراءکیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردیئے۔ اس کے بموجب لیبر مارکیٹ میں سعودی عملے کو زیادہ سے زیادہ کھپایا جائے گا۔ باحہ کے نجی اداروں میں سعودیوں کیلئے روزگار کے مواقع زیادہ سے زیادہ پیدا کئے جائیں گے۔ سعودی لڑکوں اور لڑکیوں کو تربیتی خدمات سے استفادے کی سبیل پیدا کی جائے گی۔ گورنریٹ اور وزارت محنت اس سلسلے میں مل جل کر کام پرمتفق ہیں۔