فواد چودھری کے سینیٹ اجلاس میں داخلے پر پابندی
جمعرات 15 نومبر 2018 3:00
اسلام آباد: اپوزیشن کے خلاف بیان پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے سینیٹ کے جاری اجلاس میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر سربراہی سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں حزب اختلاف کی جانب سے وفاقی وزیر اطلاعات کے گزشتہ روز کے متنازع بیان پر احتجاج کیا گیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران نیشنل پارٹی کے رہنما میر حاصل بزنجو نے کہا کہ جب تک فواد چودھری معافی نہیں مانگیں گے ہم ایوان میں نہیں آئیں گے۔ ن لیگ کے راجا ظفر الحق نے کہا کہ آپ کی کوئی بات سنتا ہے اور نہ ہی مائیک بند کرنے پر بات ختم کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی شیری رحمن نے کہا کہ وزیر بات کرکے چلے جاتے ہیں اور معافی قائد ایوان کو مانگنی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آمر کے دور میں بھی اس طرح کے تماشے نہیں دیکھے، ایوان کے ساتھ جو برتاؤ ہو رہا ہے یہ کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
دوران اجلاس قائد ایوان شبلی فراز نے کہا کہ مشاہد اللہ اور فواد چودھری کی تقاریر منگوا کر سن لی جائیں اور بتایا جائے کہ کس کے الفاظ غیر پارلیمانی تھے۔ آپ کمیٹی بنا دیں، میں بطور پارلیمانی لیڈر معافی مانگ سکتا ہوں۔ جس پر پیپلز پارٹی کے مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ آپ وزیر اطلاعات کو تحفظ دے رہے ہیں۔ اس پر متحدہ اپوزیشن نے ایوان کا واک آؤٹ کیا، جس پر چیئرمین نے اجلاس کچھ دیر کے لیے ملتوی کردیا۔
بعد ازاں اجلاس دوبارہ شروع ہونے پر چیئرمین سینیٹ نے وزیر اطلاعات کے رویے پر رولنگ دے دی۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کا ماحول خراب کرنے کی ذمے داری وزیر اطلاعات فواد چودھری پر عائد ہوتی ہے، جب تک وزیر اطلاعات معافی نہیں مانگتے، جاری اجلاس میں ان کے داخلے پر پابندی لگاتا ہوں۔