پاکستان کی سپریم کورٹ میں قومی ایئر لائن کے مینیجنگ ڈائریکٹر ارشد ملک کی تعیناتی کے کیس میں پی آئی اے اور حکومت نے رپورٹس جمع کرا دی ہیں، جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ لگتا ہے کہ حکومت دونوں رپورٹس ایک ہی بندے نے بنائی ہیں۔
بدھ کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو کیس کی سماعت کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ جمع کرائی گئی رپورٹ میں صرف ایم ڈی کی تعریفیں کی گئی ہیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں صرف ایئر مارشل ارشد ملک کی تعریفیں کی گئی ہیں، سمجھ نہیں آ رہی تھی تعریفیں ختم کہاں جا کر ہوں گی۔ ’رپورٹس سے لگتا ہے ایک ہی بندے نے بنائی ہیں، صرف کاپی پیسٹ سے ہی کام چل رہا ہے۔‘
مزید پڑھیں
-
برٹش ایئر ویز کی واپسی: پی آئی اے مقابلے کے لیے تیار؟Node ID: 421926
-
’ممنون کے دہی بھلوں سے پی آئی اے کو نقصان‘Node ID: 427126
-
’ پی آئی اے فضائیہ کے حوالے کر دیں‘Node ID: 454361