امریکہ میں ایک سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کی موت نے انڈیا میں بھی نسل پرستی، ذات پات، مذہبی تعصب اور صنفی تعصب پر بحث کو ہوا دی ہے۔
انڈیا میں مشاہیر نے 'بلیک لائیوز میٹر' کے عنوان سے جب ٹویٹ کیا تو لوگوں نے سوال پوچھا کہ جب انڈیا میں کوئی مسلمان یا کوئی دلت (یعنی پسماندہ ذات کا ہندو) مارا جاتا ہے تو یہ لوگ کیوں کچھ نہیں بولتے اور ٹویٹ کرتے ہیں۔
اس کے بعد سے انڈیا میں اسی طرز کے کئی ہیش ٹیگ گردش کرتے رہے جس میں 'مسلم لائیوز میٹر'، 'دلت لائیوز میٹر' اور 'ویمن لائیوز میٹر' نمایاں رہے۔
مزید پڑھیں
-
انڈیا: مہاراشٹر میں کورونا کے کیسز چین سے بھی زیادہNode ID: 483771
-
'دلی کے ہسپتال سب کے لیے ہیں'Node ID: 484041
-
امیتابھ بچن کا چیلنج: ’آپ بولیں گے تو ہماری چاندی ہو جائے گی‘Node ID: 484136
گذشتہ دنوں اترپردیش میں ایک دلت نوجوان کی مبینہ اعلی ذات کے دوسرے ہندو نوجوانوں کے ہاتھوں صرف اس بات پر قتل پر شور برپا ہے کہ اس نے گاؤں کے مندر میں پوجا کی تھی۔
دلت نوجوان کے والد نے بتایا کہ ان کا لڑکا اور ان کا بھتیجا 31 مئی کو گاؤں کے مندر گئے تھے جہاں ہورام چوہانی نامی شخص اور اس کے ساتھیوں نے انھیں پوجا کرنے سے روک دیا۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے ان سے بحث کی اور یکم جون کو پولیس کے پاس شکایت بھی درج کی۔
انھوں نے پولیس پر شکایت کے باوجود کارروائی نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ 'سنیچر کی رات جب ان کا بیٹا سو رہا تھا تو چوہان اور اس کے آدمی آئے اور انھوں نے ہمارے بیٹے کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔'
Migrant lives matter.
Muslim lives matter.
Dalit lives matter.
Kashmiri lives matter.
Women’s lives matter.
Student lives matter.
Journalist lives matter.
Minority lives matter.And once it’s a level playing field... yes ... All Lives Matter.
— Mini Mathur (@minimathur) June 4, 2020
پولیس کاکہنا ہے کہ چوہان اور ان کے دو ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کے باقی ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے تلاش جاری ہے۔
پولیس اس معاملے کو مندر سے نہیں جوڑ رہی ہے بلکہ آپسی رنجش کا معاملہ قرار دے رہی ہے جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر گرما گرم مباحثہ جاری ہے۔
دوسری جانب وائر نے خبر دی ہے کہ مغربی ریاست مہاراشٹر میں دو مختلف واقعات میں دو دلت نوجوانوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔ 32 سالہ ذات پات مخالف کارکن اور ونچت بہوجن اگھادی کے رکن مئی 27 کو پراسرار انداز میں مردہ پایا گیا اور ان کی موت اعلی ذات کے اراکین سے جھگڑے کے فورا بعد ہوئی تھی۔
A Dalit boy was killed by boys from upper caste families after he prayed in a temple in Amroha, UP. Police is denying it rather suggesting it looks as a ‘fight’ between boys. This is how historically caste operates in India and continue to do today. #DalitLivesMatter pic.twitter.com/ufrCBzLTtB
— The Dalit Voice (@ambedkariteIND) June 9, 2020
دوسرے واقعے میں سات جون کو ایک 20 سالہ کالج طالب علم مبینہ طور پر اعلی ذات کی لڑکی سے محبت کے معاملے میں قتل ہو گیا۔
ان دونوں واقعات میں متاثرہ خاندان نے پولیس پر لاپرواہی اور دانستہ طور پر تاخیر کا الزام لگایا ہے۔
دوسری جانب گذشتہ روز دہلی پولیس نے فروری کے مہینے میں دلی میں بھڑکنے والے فرقہ وارانہ فسادات پر چارج شیٹ دائر کی ہے جس پر این ڈی ٹی وی نے اپنے پروگرام میں پولیس پر جانبداری کا الزام لگایا ہے اور کہا کہ 'پولیس نے جو کرونو لوجی پیش کی ہے اس میں سی اے اے کی مخالفت کرنے والوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔'
Another Dalit killed in Pune,
Viraj Jagtap, a 20-year-old youth of the Dalit community, has been brutally murdered in Pune Pimpri Chinchwad area, because he loved the girl of Savarn Family.#VirajJagtap #DalitLivesMatter pic.twitter.com/lmd6Cghack— Apurv Jyoti Kurudgikar (@ApurvKurudgikar) June 8, 2020
خیال رہے کہ سی اے اے شہریت کا ترمیمی قانون ہے جسے انڈین پارلیمان نے دسمبرکے اوائل میں منظور کیا تھا اور اس کے بعد سے اس کے خلاف ملک بھر میں احتجاج اور مظاہروں کی لہر اٹھ کھڑی ہوئی تھی کیونکہ مخالفین کا کہنا تھا کہ یہ انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف ہے جبکہ حکومت کا کہنا تھا کہ ایسا بالکل نہیں ہے۔
انڈیا میں رونما ہونے والے ان واقعات میں پولیس کی جانبداری پر سوال اٹھایا جا رہا ہے۔ انڈیا میں ذات پات ایک حقیقت ہے اور اس کا وقتا فوقتا اظہار ہوتا رہتا ہے۔
.@OnReality_Check | Delhi riots chargesheets: no mention of Kapil Mishra
“Entire investigation goes by the police story, completely ignores the people who got beaten up,” says senior advocate Colin Gonsalves pic.twitter.com/90ZPEoVGGp
— NDTV (@ndtv) June 9, 2020
معروف کرکٹر عرفان پٹھان نے ٹویٹ کیا: ’نسل پرستی صرف جلد کے رنگ تک ہی محدود نہیں ہے۔ کسی سوسائٹی میں محض دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر گھر خریدنے کی اجازت نہ ہونا بھی نسل پرستی ہے۔'
Racism is not restricted to the colour of the skin.Not allowing to buy a home in a society just because u have a different faith is a part of racism too... #convenient #racism
— Irfan Pathan (@IrfanPathan) June 9, 2020
اور اس کے ساتھ انھوں نے 'کنوینینٹ' اور 'ریسزم' کے ہیش ٹیگ کا استعمال کیا ہے۔ ان کی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے معروف صحافی اور فلم ناقد ضیاء السلام نے لکھا: ’بہتر کہا۔ مجھے یاد ہے کہ مجھے میرے مذہب کی وجہ سے کم از کم نوئیڈا (دہلی سے ملحق علاقہ) کے دو سیکٹرز میں گھر خریدنے نہین دیا گیا۔ اور ان میں سے ایک جس نے مجھے گھر نہیں دیا وہ کرگل پروپرٹیز کے نام سے تجارت کرتا تھا۔'
امریکہ میں مقیم صحافی اور مصنف میرا کامدار نے دلت نوجوان کی ہلاکت کی خبر کو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: 'انڈیا کے ذات پات کے نظام میں امریکی نسل پرستی سے زیادہ گہری نا انصافی پیوست ہے۔'
Well said. I remember I was not allowed to purchase houses in at least two sectors of Noida because of my faith. N one of those denying my a house ran a business called Kargil Properties https://t.co/3qjhFNZk1U
— ziya us salam (@ziyaussalam) June 9, 2020