پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ریفرنس میں بدنیتی اور ججز کی نگرانی اہم نکات ہیں۔ حکومتی وکیل نے اس حوالے سے ابھی تک دلائل نہیں دیے۔
جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ فروغ نسیم یہ ذہن میں رکھیں کہ ایک جمہوری حکومت کو ججز کی جاسوسی پر ختم کیا چکا ہے۔
جمعرات کو سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے کیس میں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے خلاف درخواستوں پر سماعت جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ بینچ نے کی۔
مزید پڑھیں
-
صدارتی ریفرنس کے پیچھے ٹرائیکا ہے:جسٹس فائز عیسیٰNode ID: 481681
-
’کیا حکومتی اقدام عدلیہ کی آزادی کے خلاف نہیں؟‘Node ID: 482551
-
جسٹس فائز کیس: سماعت 11 جون تک ملتویNode ID: 483786
جسٹس عمر عطا بندیال نے وفاق کے وکیل فروغ نسیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'آج آپ کو مقررہ وقت سے بھی زیادہ وقت دیا ہے۔ اس دوران ایک پوائنٹ بھی آپ مکمل نہیں کر سکے۔'
فروغ نسیم نے جواب دیا کہ 'میں نے تو درخواست گزاروں کے وکلا سے کم وقت لیا ہے۔ مجھے اپنے نکات پر دلائل کے لیے مزید وقت چاہیے۔'
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ 'آپ نے عدالت کو ریفرنس کی بدنیتی پر دلائل دینے ہیں۔ آپ نے بتانا ہے کہ ریفرنس سے پہلے شواہد کیسے اکٹھے کیے اور جاسوسی کیسے کی؟'
جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ 'فروغ نسیم صاحب یہ بات بھی یاد رکھیے گا کہ ایک جمہوری حکومت ججز کی جاسوسی کرنے پر ختم ہو چکی ہے۔'
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر ایک خود مختار بیگم اپنی آمدن سے جائیداد خریدتی ہے تو وہ کل کو اس کی وضاحت بھی دے سکتی ہے۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا سوال یہ ہے کہ کیا بیگم سے پوچھا گیا کہ جائیداد کہاں سے خریدی گئی؟
فروغ نسیم نے جواب دیا کہ 'ڈسپلنری کارروائی میں بیگم صاحبہ سے نہیں پوچھا جاتا۔ گریڈ 22 کے سیکرٹری کے لیے بنائے گئے قوائد ججز پر بھی لاگو ہیں۔ سپریم کورٹ ججز کے مختلف قواعد میں بھی اہلیہ کے زیر کفالت یا خود کفیل کی تمیز نہیں۔'

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ججز کو ملنے والی مراعات اور قواعد اس کیس سے متعلقہ کیسے ہیں؟
سیکرٹری لیول آفیسر کے لیے بنائے گئے قواعد مراعات سے متعلق ہیں، کنڈکٹ سے متعلق نہیں۔ ججز کے کنڈکٹ سے متعلق صرف آئین میں ہے باقی کہیں بھی نہیں۔
جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ یاد رکھنا چاہیے کہ ریفرنس میں بنیادی ایشو ٹیکس قانون کی شق 116 کی خلاف ورزی ہے۔
قبل ازیں سماعت کے آغاز پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ 'فروغ نسیم اپنی مرضی کے مطابق بحث کریں۔ آپ کے اکثر سوالات غیر متعلقہ ہیں۔ اے آر یو سے متعلق دو تین مثالیں اور بیان کر دیں یہ بھی بتا دیں کہ ججز کے ضابطہ اخلاق کی قانونی قدعن ہے کہ نہیں۔ ہم آپ کو تفصیل سے سنیں گے۔'
فروغ نسیم نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا جج پر قانونی قدغن تھی کہ وہ اہلیہ اور بچوں کی جائیداد ظاہر کرے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ ان کی اہلیہ اور بچے ان کے زیر کفالت نہیں۔ جج کے خلاف کارروائی صرف اسی صورت ہوگی جب جج کا مس کنڈکٹ ہو۔ یہ معاملہ ٹیکس کا یا کسی اور جرم کا نہیں ہے، مس کنڈکٹ کا ہے۔
انھوں نے کہا کہ مس کنڈکٹ کی آرٹیکل 209 میں تعریف نہیں کی گئی۔ ہندوستان میں ثابت شدہ مس کنڈکٹ لکھا گیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 209 میں مس کنڈکٹ کی تعریف نہ کرنا دانستہ ہے۔ مس کنڈکٹ کی بات کی تو دیگر انتظامی قوانین سے اصول لیے جائیں گے۔
جسٹس منیب اخترنے کہا کہ آئین ہی انتظامی قوانین کو اختیار دیتا ہے۔ آئین دیگر تمام قوانین کا ماخذ ہے۔ مس کنڈکٹ کی تعریف دیگر قوانین کے بجائے بہتر ہو گا کہ آئین کے تحت ہی دیکھی جائے۔
